hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

1030. حضرت خنساء بنت خذام کی حدیثیں

مسند احمد

25604
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ قَالَ عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنَا مُصْعَبٌ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ ابْنِ جَارِيَةَ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ وَكَانَتْ ثَيِّبًا فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ
حضرت خنسائ بنت خذام سے مروی ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کسی سے کردیا انہیں یہ رشتہ پسند نہ تھا اور وہ پہلے سے شوہر دیدہ تھیں لہذا نبی ﷺ نے ان کی ناپسندیدگی کی بناء پر اس نکاح کو رد فرمادیا۔
25605
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ وَمُجَمِّعٍ شَيْخَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ أَنَّ خَنْسَاءَ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت خنساء بنت خذام سے مروی ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کسی سے کردیا انہیں یہ رشتہ پسند نہ تھا اور وہ پہلے سے شوہر دیدہ تھیں لہذا نبی ﷺ نے ان کی ناپسندیدگی کی بناء پر اس نکاح کو رد فرمادیا۔
25606
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أُمِّ مُجَمِّعٍ قَالَ زَوَّجَ خِدَامٌ ابْنَتَهُ وَهِيَ كَارِهَةٌ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي وَأَنَا كَارِهَةٌ قَالَ فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَ أَبِيهَا
حضرت خنساء بنت خذام سے مروی ہے کہ ان کے والد نے ان کا نکاح کسی سے کردیا انہیں یہ رشتہ پسند نہ تھا اور وہ پہلے سے شوہر دیدہ تھیں لہذا نبی ﷺ نے ان کی ناپسندیدگی کی بناء پر اس نکاح کو رد فرمادیا۔
25607
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ وَمُجَمِّعَ بْنَ يَزِيدَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَجُلًا مِنْهُمْ يُدْعَى خِذَامًا أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ فَكَرِهَتْ نِكَاحَ أَبِيهَا فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ عَنْهَا نِكَاحَ أَبِيهَا فَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ فَذَكَرَ يَحْيَى أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّهَا كَانَتْ ثَيِّبًا
عبد الرحمن بن یزید اور مجمع سے مروی ہے کہ خنساء کے والد خذام نے ان کا نکاح کسی سے کردیا انہیں یہ رشتہ پسند نہ تھا اور وہ پہلے سے شوہردیدہ تھیں لہذا نبی ﷺ نے ان کی ناپسندیدگی کی بناء پر اس نکاح کو رد فرمادیا اور خنساء نے حضرت ابولبابہ بن عبد المنذر سے نکاح کرلیا۔
25608
Musnad Imam Ahmad
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ جَدَّتَهُ أُمَّ السَّائِبِ خُنَاسَ بِنْتِ خِذَامِ بْنِ خَالِدٍ كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ قَبْلَ أَبِي لُبَابَةَ تَأَيَّمَتْ مِنْهُ فَزَوَّجَهَا أَبُوهَا خِذَامُ بْنُ خَالِدٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَأَبَتْ إِلَّا أَنْ تَحُطَّ إِلَى أَبِي لُبَابَةَ وَأَبَى أَبُوهَا إِلَّا أَنْ يُلْزِمَهَا الْعَوْفِيَّ حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ أَوْلَى بِأَمْرِهَا فَأَلْحِقْهَا بِهَوَاهَا قَالَ فَانْتُزِعَتْ مِنْ الْعَوْفِيِّ وَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ فَوَلَدَتْ لَهُ أَبَا السَّائِبِ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ
حجاج بن سائب کہتے ہیں کہ ان کی دادی ام سائب خناس بنت خذام حضرت ابولبابہ سے پہلے ایک اور آدمی کے نکاح میں تھیں، وہ اس سے بیوہ ہوگئیں تو ان کے والد خذام بن خالد نے ان کا نکاح بنو عمروبن عوف کے ایک آدمی سے کردیا، لیکن انہوں نے ابولبابہ کے علاوہ کسی اور کے پاس جانے سے انکار کردیا، ان کے والد بنوعمروبن عوف کے اس آدمی سے ہی ان کا نکاح کرنے پر مصر تھے، حتی کہ یہ معاملہ نبی ﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوا نبی ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ خنساء کو اپنے معاملے کا زیادہ اختیار ہے لہذا نبی ﷺ نے ان کی خواہش کے مطابق بنو عمروبن عوف کے اس آدمی کے نکاح سے نکال کر حضرت ابولبابہ سے ان کا نکاح کردیا اور ان کے یہاں سائب بن ابولبابہ پیدا ہوئے۔
25609
Musnad Imam Ahmad
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي : يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ قَالَ كَانَتْ خُنَاسُ بِنْتُ خِذَامٍ عِنْدَ رَجُلٍ تَأَيَّمَتْ مِنْهُ فَزَوَّجَهَا أَبُوهَا رَجُلًا مِنْ بَنِي عَوْفٍ وَحَطَّتْ هِيَ إِلَى أَبِي لُبَابَةَ فَأَبَى أَبُوهَا إِلَّا أَنْ يُلْزِمَهَا الْعَوْفِيَّ وَأَبَتْ هِيَ حَتَّى ارْتَفَعَ شَأْنُهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هِيَ أَوْلَى بِأَمْرِهَا فَأَلْحِقْهَا بِهَوَاهَا فَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ فَوَلَدَتْ لَهُ أَبَا السَّائِبِ
حجاج بن سائب کہتے ہیں کہ ان کی دادی ام سائب خناس بنت خذام حضرت ابولبابہ سے پہلے ایک اور آدمی کے نکاح میں تھیں، وہ اس سے بیوہ ہوگئیں تو ان کے والد خذام بن خالد نے ان کا نکاح بنو عمروبن عوف کے ایک آدمی سے کردیا، لیکن انہوں نے ابولبابہ کے علاوہ کسی اور کے پاس جانے سے انکار کردیا، ان کے والد بنوعمروبن عوف کے اس آدمی سے ہی ان کا نکاح کرنے پر مصر تھے، حتی کہ یہ معاملہ نبی ﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوا نبی ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ خنساء کو اپنے معاملے کا زیادہ اختیار ہے لہذا نبی ﷺ نے ان کی خواہش کے مطابق بنو عمروبن عوف کے اس آدمی کے نکاح سے نکال کر حضرت ابولبابہ سے ان کا نکاح کردیا اور ان کے یہاں سائب بن ابولبابہ پیدا ہوئے۔