hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

6. حضرت طلحہ بن عبیدالہ (رض) کی مرویات

مسند احمد

1309
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ
حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عبداللہ، ابو عبداللہ اور ام عبداللہ کیا خوب گھرانے والے ہیں۔
1310
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْوَرْدِ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَا أُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ قَالَ وَزَادَ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ طَلْحَةَ قَالَ نِعْمَ أَهْلُ الْبَيْتِ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَأُمُّ عَبْدِ اللَّهِ
حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ یوں نبی ﷺ کے حوالے سے احادیث بیان کرنا میری عادت نہیں ہے البتہ میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے ضرور سنا ہے کہ عمرو بن العاص قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں اور عبداللہ، ابو عبداللہ اور ام عبداللہ کیا خوب گھرانے والے ہیں۔
1311
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ كُنَّا مَعَ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَنَحْنُ حُرُمٌ فَأُهْدِيَ لَهُ طَيْرٌ وَطَلْحَةُ رَاقِدٌ فَمِنَّا مَنْ أَكَلَ وَمِنَّا مَنْ تَوَرَّعَ فَلَمْ يَأْكُلْ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ طَلْحَةُ وَفَّقَ مَنْ أَكَلَهُ وَقَالَ أَكَلْنَاهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عبدالرحمن بن عثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے ساتھ تھے، ہم لوگوں نے احرام باندھ رکھا تھا، تھوڑی دیر بعد کوئی شخص ان کی خدمت میں ایک پرندہ بطور ہدیہ کے لایا، حضرت طلحہ (رض) اس وقت سو رہے تھے، ہم میں سے کچھ لوگوں نے اسے کھالیا اور کچھ لوگوں نے اجتناب کیا، جب حضرت طلحہ (رض) بیدار ہوئے تو انہوں نے ان لوگوں کی تصویب فرمائی جنہوں نے اسے کھالیا تھا اور فرمایا کہ ہم نے بھی حالت احرام میں دوسرے کا شکار نبی ﷺ کی موجودگی میں کھالیا تھا۔
1312
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَى عُمَرُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ثَقِيلًا فَقَالَ مَا لَكَ يَا أَبَا فُلَانٍ لَعَلَّكَ سَاءَتْكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ يَا أَبَا فُلَانٍ قَالَ لَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا مَا مَنَعَنِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهُ إِلَّا الْقُدْرَةُ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلَّا أَشْرَقَ لَهَا لَوْنُهُ وَنَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَتَهُ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا هِيَ قَالَ وَمَا هِيَ قَالَ تَعْلَمُ كَلِمَةً أَعْظَمَ مِنْ كَلِمَةٍ أَمَرَ بِهَا عَمَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ طَلْحَةُ صَدَقْتَ هِيَ وَاللَّهِ هِيَ
یحییٰ بن طلحہ (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) نے حضرت طلحہ (رض) کو یہ فرمایا کہ کیا بات ہے، نبی ﷺ کے وصال مبارک کے بعد سے آپ پراگندہ حال اور غبار آلود رہنے لگے ہیں ؟ کیا آپ کو اپنے چچا زاد بھائی کی یعنی میری خلافت اچھی نہیں لگی ؟ انہوں نے فرمایا بات یہ ہے نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص نزع کی حالت میں وہ کلمہ کہہ لے تو قیامت کے دن وہ اس کے لئے باعث نور ہو، (مجھے افسوس ہے کہ میں نبی ﷺ سے اس کلمے کے بارے میں پوچھ نہیں سکا اور خود نبی ﷺ نے بھی نہیں بتایا، میں اس وجہ سے پریشان ہوں) ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ میں وہ کلمہ جانتا ہوں، حضرت ابو طلحہ (رض) نے پوچھا کہ وہ کیا کلمہ ہے ؟ فرمایا وہی کلمہ جو نبی ﷺ نے اپنے چچا کے سامنے پیش کیا تھا یعنی لا الہ الا اللہ، حضرت طلحہ (رض) فرمانے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا۔
1313
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ قَالَ قَيْسٌ رَأَيْتُ طَلْحَةَ يَدُهُ شَلَّاءُ وَقَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ
قیس کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طلحہ (رض) کے اس ہاتھ کا دیدار کیا ہے جو شل ہوگیا تھا، یہ وہی مبارک ہاتھ تھا جس کے ذریعے انہوں نے غزوہ احد کے موقع پر نبی ﷺ کی حفاظت میں اپنے ہاتھ پر مشرکین کے تیر روکے تھے۔
1314
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَآهُ كَئِيبًا فَقَالَ مَا لَكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ كَئِيبًا لَعَلَّهُ سَاءَتْكَ إِمْرَةُ ابْنِ عَمِّكَ يَعْنِي أَبَا بَكْرٍ قَالَ لَا وَأَثْنَى عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كَلِمَةٌ لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ عِنْدَ مَوْتِهِ إِلَّا فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَتَهُ وَأَشْرَقَ لَوْنُهُ فَمَا مَنَعَنِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهَا إِلَّا الْقُدْرَةُ عَلَيْهَا حَتَّى مَاتَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنِّي لَأَعْلَمُهَا فَقَالَ لَهُ طَلْحَةُ وَمَا هِيَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ هَلْ تَعْلَمُ كَلِمَةً هِيَ أَعْظَمَ مِنْ كَلِمَةٍ أَمَرَ بِهَا عَمَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ طَلْحَةُ هِيَ وَاللَّهِ هِيَ
یحییٰ بن طلحہ (رح) ویسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) نے حضرت طلحہ (رض) کو یہ فرمایا کہ کیا بات ہے، نبی ﷺ کے وصال مبارک کے بعد سے آپ پراگندہ حال اور غبار آلود رہنے لگے ہیں ؟ کیا آپ کو اپنے چچازاد بھائی کی یعنی میری خلافت اچھی نہیں لگی ؟ انہوں نے فرمایا بات یہ نہیں ہے، اصل بات یہ ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں کہ اگر کوئی شخص نزع کی حالت میں وہ کلمہ کہہ لے تو قیامت کے دن وہ اس کے لئے باعث نور ہو (مجھے افسوس ہے کہ میں نبی ﷺ سے اس کلمے کے بارے میں پوچھ نہیں سکا اور خود نبی ﷺ نے بھی نہیں بتایا، میں اس وجہ سے پریشان ہوں) ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ میں وہ کلمہ جانتا ہوں، حضرت ابو طلحہ (رض) نے پوچھا کہ وہ کیا کلمہ ہے ؟ فرمایا وہی کلمہ جو نبی ﷺ نے اپنے چچا کے سامنے پیش گیا تھا یعنی لا الہ الا اللہ، حضرت طلحہ (رض) فرمانے لگے کہ آپ نے سچ فرمایا۔
1315
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَعْنٍ الْغِفَارِيُّ أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ مَرَّ هُوَ وَرَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو يُوسُفَ مِنْ بَنِي تَيْمٍ عَلَى رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لَهُ أَبُو يُوسُفَ إِنَّا لَنَجِدُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ الْحَدِيثِ مَا لَا نَجِدُهُ عِنْدَكَ فَقَالَ أَمَا إِنَّ عِنْدِي حَدِيثًا كَثِيرًا وَلَكِنَّ رَبِيعَةَ بْنَ الْهُدَيْرِ قَالَ وَكَانَ يَلْزَمُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا قَطُّ غَيْرَ حَدِيثٍ وَاحِدٍ قَالَ رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ قُلْتُ لَهُ وَمَا هُوَ قَالَ قَالَ لِي طَلْحَةُ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَشْرَفْنَا عَلَى حَرَّةِ وَاقِمٍ قَالَ فَدَنَوْنَا مِنْهَا فَإِذَا قُبُورٌ بِمَحْنِيَّةٍ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا هَذِهِ قَالَ قُبُورُ أَصْحَابِنَا ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى إِذَا جِئْنَا قُبُورَ الشُّهَدَاءِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ قُبُورُ إِخْوَانِنَا
داؤود بن خالد بن دینار کہتے ہیں کہ ان کا اور بنو تیم کے ایک شخص کا " جس کا نام ابو یوسف تھا " ربیعہ بن ابی عبدالرحمن کے پاس سے گذر ہوا، ابو یوسف نے ان سے کہا کہ ہمیں آپ کے علاوہ دیگر حضرات کے پاس ایسی احادیث مل جاتی ہیں جو آپ کے پاس نہیں ملتیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ احادیث تو میرے پاس بھی بہت زیادہ ہیں لیکن میں نے ربیعہ بن ہدیر کو " جو کہ حضرت طلحہ (رض) کے ساتھ چمٹے رہتے تھے " یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کے حوالے حضرت طلحہ (رض) کو سوائے ایک حدیث کے کوئی اور حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا، میں نے ان سے پوچھا کہ وہ ایک حدیث کون سی ہے ؟ تو بقول ربیعہ کے حضرت طلحہ (رض) نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ نکلے، جب ہم حرہ و ارقم نامی جگہ پر (جو کہ مدینہ منورہ میں ایک ٹیلہ ہے) پہنچے اور اس کے قریب ہوئے تو ہمیں کمان کی طرح خمدار کچھ قبریں دکھائی دیں، ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ہمارے بھائیوں کی قبریں یہی ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ ہمارے اصحاب کی قبریں ہیں، پھر ہم وہاں سے نکل کر جب شہداء کی قبروں پر پہنچے تو نبی ﷺ نے فرمایا ہمارے بھائیوں کی قبریں یہ ہیں۔
1316
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ تَكُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِكُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ عَلَيْهِ وَقَالَ عُمَرُ مَرَّةً بَيْنَ يَدَيْهِ
موسیٰ بن طلحہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ جب ہم لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے تھے تو جانور ہمارے سامنے سے گذرتے رہتے تھے، ہم نے یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمہارے سامنے کجاوے کے پچھلے حصے کی طرح کوئی چیز ہو ( جو بطور سترہ کے گاڑ لی گئی ہو) تو پھر جو مرضی چیز گذرتی رہے، تمہاری نماز میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔
1317
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ نَزَلَ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ عَلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ مَكَثَ الْآخَرُ بَعْدَهُ سَنَةً ثُمَّ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ فَأُرِيَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ أَنَّ الَّذِي مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْآخَرِ بِحِينٍ فَذَكَرَ ذَلِكَ طَلْحَةُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمْ مَكَثَ فِي الْأَرْضِ بَعْدَهُ قَالَ حَوْلًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى أَلْفًا وَثَمَانِ مِائَةِ صَلَاةٍ وَصَامَ رَمَضَانَ
ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ یمن کے دو آدمی حضرت طلحہ (رض) کے یہاں مہمان بنے، ان میں سے ایک صاحب تو نبی ﷺ کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے شہید ہوگئے اور دوسرے صاحب ان کے بعد ایک سال مزید زندہ رہے اور بالآخر طبعی موت سے رخصت ہوگئے، حضرت طلحہ (رض) نے ایک مرتبہ خواب میں دیکھا کہ اپنی طبعی موت مرنے والا اپنے دوسرے ساتھی سے کافی عرصہ قبل ہی جنت میں داخل ہوگیا ہے، حضرت طلحہ (رض) نے یہ خواب نبی ﷺ سے ذکر کیا، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ یہ دوسرا آدمی اپنے پہلے ساتھی کے بعد کتنا عرصہ تک زمین پر زندہ رہا ؟ انہوں نے بتایا کہ ایک سال تک، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس نے ایک ہزار آٹھ سو نمازیں پڑھیں اور ماہ رمضان کے روزے الگ رکھے۔ (آخر ان کا ثواب بھی تو ہوگا)
1318
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَمِّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ قَالَ لَا وَسَأَلَهُ عَنْ الصَّوْمِ فَقَالَ صِيَامُ رَمَضَانَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ قَالَ لَا قَالَ وَذَكَرَ الزَّكَاةَ قَالَ هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا قَالَ لَا قَالَ وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَيْهِنَّ وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُنَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ
حضرت طلحہ (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! اسلام کیا ہے ؟ فرمایا دن رات میں پانچ نمازیں، اس نے پوچھا کہ ان کے علاوہ بھی کوئی نماز مجھ پر فرض ہے ؟ فرمایا نہیں، پھر اس نے روزہ کی بابت پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا کہ ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں، اس نے پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی روزے فرض ہیں ؟ فرمایا نہیں پھر زکوٰۃ کا تذکرہ ہوا اور اس نے پھر یہی پوچھا کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی چیز فرض ہے ؟ فرمایا نہیں۔ اس پر اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں ان چیزوں میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کروں گا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر یہ سچ کہہ رہا ہے اور اس نے اس بات کو سچ کر دکھایا تو یہ کامیاب ہوگیا۔