Musnad Imam Ahmad
887. حضرت ثوبان (رض) کی مرویات
مسند احمد
21332
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حَسَنٌ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُقْرِئَ يَقُولُ قَالَ حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي قَبِيلٍ حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُبْلَانِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا بِهَذِهِ الْآيَةِ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ أَشْرَكَ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِلَّا مَنْ أَشْرَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتِ
حضرت ثوبان (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس آیت کے بدلے میں مجھے دنیا ومافیہا بھی مل جائے تو مجھے پسند نہیں " یا عبادی الذین اسرفواعلی انفسہم۔۔۔۔۔۔۔۔ " ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ شرک کرنے والے کا کیا حکم ہے ؟ اس پر نبی کریم ﷺ خاموش ہوگئے پھر تھوڑی دیر بعد تین مرتبہ فرمایا سوائے مشرک کے۔
21333
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الشَّامِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ الْمَنْبِهِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ آخِرُ عَهْدِهِ بِإِنْسَانٍ فَاطِمَةُ وَأَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ عَلَيْهِ إِذَا قَدِمَ فَاطِمَةُ قَالَ فَقَدِمَ مِنْ غَزَاةٍ لَهُ فَأَتَاهَا فَإِذَا هُوَ يَمْسَحُ عَلَى بَابِهَا وَرَأَى عَلَى الْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ قَلْبَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ فَرَجَعَ وَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ فَاطِمَةُ ظَنَّتْ أَنَّهُ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا مِنْ أَجْلِ مَا رَأَى فَهَتَكَتْ السِّتْرَ وَنَزَعَتْ الْقَلْبَيْنِ مِنْ الصَّبِيَّيْنِ فَقَطَعَتْهُمَا فَبَكَى الصَّبِيَّانِ فَقَسَمَتْهُ بَيْنَهُمَا فَانْطَلَقَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَبْكِيَانِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمَا فَقَالَ يَا ثَوْبَانُ اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى بَنِي فُلَانٍ أَهْلُ بَيْتٍ بِالْمَدِينَةِ وَاشْتَرِ لِفَاطِمَةَ قِلَادَةً مِنْ عَصَبٍ وَسِوَارَيْنِ مِنْ عَاجٍ فَإِنَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَلَا أُحِبُّ أَنْ يَأْكُلُوا طَيِّبَاتِهِمْ فِي حَيَاتِهِمْ الدُّنْيَا
حضرت ثوبان (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی سفر پر روانہ ہوتے تو اپنے اہل خانہ میں سے سب سے آخر میں جس سے ملاقات کرتے وہ حضرت فاطمہ (رض) ہوتیں اور جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے جس کے یہاں تشریف لے جاتے وہ بھی حضرت فاطمہ (رض) ہوتیں ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کسی غزوے سے واپس تشریف لائے تو حسب معمول حضرت فاطمہ (رض) کے یہاں تشریف لے گئے وہاں پہنچے تو گھر کے دروازے پر پردہ دکھائی دیا اور حضرات حسنین (رض) کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن نظر آئے، نبی کریم ﷺ ان کے گھر میں داخل ہوئے بغیر واپس چلے گئے۔ حضرت فاطمہ (رض) یہ دیکھ کر سمجھ گئیں کہ نبی کریم ﷺ انہی چیزوں کو دیکھ کر واپس چلے گئے ہیں چناچہ انہوں نے پردہ پھاڑ دیا اور دونوں بچوں کے ہاتھوں سے کنگن اتار کر توڑ ڈالے اس پر دونوں بچے رونے لگے اور روتے روتے نبی کریم ﷺ کے پاس چلے گئے نبی کریم ﷺ نے وہ کنگن " جو حضرت فاطمہ (رض) نے انہیں تقسیم کردیئے تھے " ان سے لے لئے اور حضرت ثوبان (رض) سے فرمایا اے ثوبان ! بنو فلاں (اہل مدینہ کے ایک گھر کے متعلق فرمایا کے پاس لے جاؤ اور فاطمہ کے ایک یمنی ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید لاؤ کیونکہ یہ لوگ میرے اہل بیت ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ یہ اپنی حلال چیزیں بھی دنیا میں کھالیں۔
21334
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَأَبُو الْيَمَانِ وَهَذَا حَدِيثُ إِسْحَاقَ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الْأُمْلُوكِيِّ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ إِنَّا مُدْلِجُونَ فَلَا يُدْلِجَنَّ مُصْعِبٌ وَلَا مُضْعِفٌ فَأَدْلَجَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَعْبَةٍ فَسَقَطَ فَانْدَقَّتْ فَخِذُهُ فَمَاتَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
حضرت ثوبان (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے اپنے کسی سفر میں فرمایا ہم رات کو سفر پر روانہ ہوں گے اس لئے کوئی شخص کی بپھرے ہوئے یا کمزور جانور پر سواری نہ کرے اس ہدایت کے باوجود ایک آدمی ایک سرکش اونٹنی پر سوار ہوگیا راستے میں وہ کہیں گرا اور اس کی ران کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ مرگیا نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ خود ہی اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں، پھر ایک منادی کو لوگوں میں یہ اعلان کرنے کا حکم دیا کہ کسی نافرمان کے لئے جنت حلال نہیں تین مرتبہ فرمایا۔
21335
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ أَبِي عَمَّارٍ شَدَّادٍ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنْصَرِفَ مِنْ صَلَاتِهِ اسْتَغْفَرَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
حضرت ثوبان (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین مرتبہ استغفار کرتے اور پھر یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ ! تو ہی حقیقی سلامتی والا ہے اور تیری ہی طرف سے سلامتی مل سکتی ہے اے بزرگی اور عزت والے ! تیری ذات بڑی بابرکت ہے۔
21336
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يَتَكَفَّلُ لِي بِوَاحِدَةٍ وَأَتَكَفَّلُ لَهُ بِالْجَنَّةِ قَالَ ثَوْبَانُ أَنَا قَالَ لَا تَسْأَلْ النَّاسَ يَعْنِي شَيْئًا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَكَانَ لَا يَسْأَلُ
حضرت ثوبان (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مجھے ایک چیز کی ضمانت دے دے میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ؟ حضرت ثوبان (رض) نے اپنے آپ کو پیش کردیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں سے کسی چیز کا سوال مت کرنا انہوں نے عرض کیا ٹھیک ہے چناچہ انہوں نے اس کے بعد کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا۔
21337
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُهَاجِرِ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ اللَّخْمِيِّ قَالَ بَعَثَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ فَحُمِلَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَرِيدِ يَسْأَلُهُ عَنْ الْحَوْضِ فَقُدِمَ بِهِ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ ثَوْبَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ حَوْضِي مِنْ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَأَكَاوِيبُهُ عَدَدُ النُّجُومِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمْ الشُّعْثُ رُءُوسًا الدُّنْسُ ثِيَابًا الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَلَا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السُّدَدِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَقَدْ نَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَفُتِحَتْ لِي السُّدَدُ إِلَّا أَنْ يَرْحَمَنِي اللَّهُ وَاللَّهِ لَا جَرَمَ أَنْ لَا أَدْهُنَ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ وَلَا أَغْسِلَ ثَوْبِي الَّذِي يَلِي جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ
حضرت عمربن عبدالعزیز (رح) نے ڈاکیے کے ذریعے ایک مرتبہ ابو سلام حبشی (رح) کی طرف پیغام بھیجا وہ ابو سلام سے حوض کوثر کے متعلق پوچھنا چاہتے تھے چناچہ وہ آگئے حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ثوبان (رض) سے یہ حدیث سنی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میرے حوض کی لمبائی چوڑائی اتنی ہے جتنی عدن اور عمان بلقاء کے درمیان ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا اس کے کٹورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے جو اس کا ایک گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا سب سے پہلے اس حوض پر فقراء مہاجرین آئیں گے حضرت عمر فاروق (رض) نے یہ سن کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ وہ کون لوگ ہوں گے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے سروں کے بال بکھرے ہوئے اور کپڑے میلے ہوں گے جو نازونعم میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح نہیں کرسکے ہوں گے اور نہ ہی ان کے لئے بند دروازے کھولے جاتے ہوں گے۔ حضرت عمربن عبدالعزیز (رح) نے یہ سن کر فرمایا کہ میں نے تو نازونعم میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح کیا ہے اور میرے لئے تو بند دروازے بھی کھولے جاتے ہیں اب اللہ ہی مجھ پر رحم فرمائے واللہ اب میں اس وقت تک اپنے سر پر تیل نہیں لگاؤں گا جب تک وہ پراگندہ نہ ہوجائے اور اپنے جسم پر پہنے ہوئے کپڑے اس وقت تک نہیں دھوؤں گا جب تک وہ میلے نہ ہوجائیں۔
21338
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا شَيْخٌ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَتَلَ صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا أَوْ أَحْرَقَ نَخْلًا أَوْ قَطَعَ شَجَرَةً مُثْمِرَةً أَوْ ذَبَحَ شَاةً لِإِهَابِهَا لَمْ يَرْجِعْ كَفَافًا
حضرت ثوبان (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص (میدان جہاد میں کسی نابالغ بچے یا انتہائی عمر رسیدہ آدمی کو قتل کرے یا کسی باغ کو آگ لگا دے یا کسی پھل دار درخت کو کاٹ ڈالے یا کھال حاصل کرنے کے لئے کسی بکری کو ذبح کر ڈالے تو وہ برابر سرابر واپس نہیں آیا۔
21339
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ وَأَبَانُ قَالَا حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ مَعْدَانَ عَنْ ثَوْبَانَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ الْكِبْرِ وَالدَّيْنِ وَالْغُلُولِ
حضرت ثوبان (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح اس کے جسم سے اس حال میں جدا ہو کہ وہ تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا، تکبر، قرض اور مال غنیمت میں خیانت۔
21340
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ قِيلَ لِثَوْبَانَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تَكْذِبُونَ عَلَيَّ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةً
سالم بن ابی الجعد (رح) کہتے ہیں کسی شخص نے حضرت ثوبان (رض) سے عرض کیا کہ ہمیں نبی کریم ﷺ کے حوالے سے کوئی حدیث سنائیے تو انہوں نے فرمایا تم لوگ میری طرح جھوٹی نسبت کرتے ہو میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مسلمان بھی اللہ کی رضا کے لئے ایک سجدہ کرتا ہے اللہ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ معاف فرما دیتا۔
21341
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
حضرت ثوبان (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔