hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

485. حضرت عبداللہ بن بسر مازنی (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

17014
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ حَرِيزِ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ كُنَّا غِلْمَانًا جُلُوسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ نَكُنْ نُحْسِنُ نَسْأَلُهُ فَقُلْتُ أَشَيْخًا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ
حضرت حریز بن عثمان (رح) سے مروی ہے کہ ہم چند بچے حضرت عبداللہ بن بسر (رض) جو نبی ﷺ کے صحابی تھے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ہمیں صحیح طرح سوال کرنا بھی نہیں آتا تھا، میں نے ان سے پوچھا کیا نبی ﷺ بوڑھے ہوگئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔
17015
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَاهُ صَنَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَاهُ فَأَجَابَهُ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ
حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد نے نبی ﷺ کے لئے کھانے کا اہتمام کیا اور نبی ﷺ کی دعوت کی، نبی ﷺ نے اسے قبول فرما لیا، جب کھانے سے فارغ ہوئے تو نبی ﷺ نے دعاء فرمائی اے اللہ ! ان کی بخشش فرما، ان پر رحم فرما اور ان کے رزق میں برکت عطا فرما۔
17016
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ اجْلِسْ فَقَدْ آذَيْتَ وَآنَيْتَ
حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک آدمی (لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا) آیا، نبی ﷺ نے فرمایا بیٹھ جاؤ، تم نے لوگوں کو تکلیف دی اور دیر سے آئے۔
17017
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فَذَكَرُوا وَطْبَةً وَطَعَامًا وَشَرَابًا فَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ ثُمَّ يَرْمِي بِهِ ثُمَّ قَامَ فَرَكِبَ بَغْلَةً لَهُ بَيْضَاءَ فَأَخَذْتُ بِلِجَامِهَا فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لَنَا فَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ
حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے یہاں آئے، پھر انہوں نے تر کھجوروں کھانے اور پینے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نبی ﷺ کھجور کھا کر اس کی گٹھلی اپنی انگلی کی پشت پر رکھتے اور اسے اچھال دیتے، پھر نبی ﷺ کھڑے ہوگئے اور اپنے سفید خچر پر سوار ہوگئے، میں نے اس کی لگام پکڑ کر عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارے حق میں اللہ سے دعاء کر دیجئے، نبی ﷺ نے دعاء کرتے ہوئے فرمایا اے اللہ ! ان کے رزق میں برکت عطاء فرما، ان کی بخشش فرما اور ان پر رحم فرما۔
17018
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ جَدَّتِي تَمْرًا يُقَلِّلُهُ وَطَبَخَتْ لَهُ وَسَقَيْنَاهُمْ فَنَفِدَ الْقَدَحُ فَجِئْتُ بِقَدَحٍ آخَرَ وَكُنْتُ أَنَا الْخَادِمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطِ الْقَدَحَ الَّذِي انْتَهَى إِلَيْهِ
حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے یہاں آئے، میری دادی نے تھوڑی سی کھجوریں پیش کیں اور وہ کھانا جو انہوں نے پکا رکھا تھا، پھر ہم نے نبی ﷺ کو پانی پلایا، ایک پیالہ ختم ہوا تو میں دوسرا پیالہ لے آیا کیونکہ خادم میں ہی تھا، نبی ﷺ نے فرمایا وہی پیالہ لاؤ جو ابھی لائے تھے۔
17019
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ قَالَ كَانَتْ أُخْتِي رُبَّمَا بَعَثَتْنِي بِالشَّيْءِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُطْرِفُهُ إِيَّاهُ فَيَقْبَلُهُ مِنِّي
حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات میری بہن کوئی چیز دے کر مجھے نبی ﷺ کے پاس بھیجتی تھی، تو نبی ﷺ اسے مجھ سے قبول فرما لیتے تھے۔
17020
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ الْمَازِنِيُّ قَالَ بَعَثَنِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْعُوهُ إِلَى الطَّعَامِ فَجَاءَ مَعِي فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْ الْمَنْزِلِ أَسْرَعْتُ فَأَعْلَمْتُ أَبَوَيَّ فَخَرَجَا فَتَلَقَّيَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَحَّبَا بِهِ وَوَضَعْنَا لَهُ قَطِيفَةً كَانَتْ عِنْدَنَا زِئْبِرِيَّةً فَقَعَدَ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ أَبِي لِأُمِّي هَاتِ طَعَامَكِ فَجَاءَتْ بِقَصْعَةٍ فِيهَا دَقِيقٌ قَدْ عَصَدَتْهُ بِمَاءٍ وَمِلْحٍ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ مِنْ حَوَالَيْهَا وَذَرُوا ذُرْوَتَهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ فِيهَا فَأَكَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَكَلْنَا مَعَهُ وَفَضَلَ مِنْهَا فَضْلَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ وَوَسِّعْ عَلَيْهِمْ فِي أَرْزَاقِهِمْ
حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مجھے میرے والد نے نبی ﷺ کو کھانے پر بلانے کے لئے مجھے بھیجا، نبی ﷺ میرے ساتھ آگئے، جب گھر کے قریب پہنچے تو میں نے جلدی سے جا کر اپنے والدین کو بتایا، وہ دونوں گھر سے باہر آئے، نبی ﷺ کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا، پھر ہم نے ایک دبیز چادر جو ہمارے پاس تھی، بچھائی، نبی ﷺ اس پر بیٹھ گئے، پھر والد صاحب نے میری والدہ سے کہا کہ کھانا لاؤ، چناچہ وہ ایک پیالہ لے کر آئیں جس میں پانی اور نمک ملا کر آٹے سے بنی روٹی تھی، انہوں نے وہ برتن نبی ﷺ کے سامنے لا کر رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ نے فرمایا بسم اللہ پڑھ کر کناروں سے اسے کھاؤ، درمیان کا حصہ چھوڑ دو کیونکہ برکت اس حصے پر اترتی ہے، پھر نبی ﷺ نے اسے تناول فرمایا : ہم نے بھی اسے کھایا لیکن وہ پھر بھی بچ گئی، پھر نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ان کی بخشش فرما، ان پر رحم فرما، انہیں برکت عطاء فرما اور ان کے رزق کو کشادہ فرما۔
17021
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ لَقَدْ سَمِعْتُ حَدِيثًا مُنْذُ زَمَانٍ إِذَا كُنْتَ فِي قَوْمٍ عِشْرِينَ رَجُلًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ فَتَصَفَّحْتَ فِي وُجُوهِهِمْ فَلَمْ تَرَ فِيهِمْ رَجُلًا يُهَابُ فِي اللَّهِ فَاعْلَمْ أَنَّ الْأَمْرَ قَدْ رَقَّ
حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے مروی ہے کہ ایک زمانہ ہوا، میں نے یہ حدیث سنی تھی کہ اگر تم کسی جماعت میں ہو جو بیس یا کم وبیش افراد پر مشتمل ہو، تم ان کے چہروں پر غور کرو لیکن تمہیں ان میں ایک بھی ایسا آدمی نظر نہ آئے جس سے اللہ کی خاطر مرعوب ہوا جائے تو سمجھ لو کہ معاملہ انتہائی کمزور ہوچکا ہے۔
17022
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ نُوحٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيَّانِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا مَنْ خَيْرُ الرِّجَالِ يَا مُحَمَّدُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَحَسُنَ عَمَلُهُ وَقَالَ الْآخَرُ إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ كَثُرَتْ عَلَيْنَا فَبَابٌ نَتَمَسَّكُ بِهِ جَامِعٌ قَالَ لَا يَزَالُ لِسَانُكَ رَطْبًا مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے مروی ہے کہ دو دیہاتی آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان میں سے ایک نے پوچھا اے محمد ! ﷺ سب سے بہترین آدمی کون ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جس کی عمر لمبی ہو اور اس کا عمل اچھا ہو، دوسرے نے کہا کہ احکام اسلام تو بہت زیادہ ہیں، کوئی ایسی جامع بات بتا دیجئے جسے ہم مضبوطی سے تھام لیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تمہاری زبان ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہے۔
17023
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَيْخًا كَانَ قَالَ كَانَ فِي عَنْفَقَتِهِ شَعَرَاتٌ بِيضٌ
حضرت حریز بن عثمان (رح) سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن بسر (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ بوڑھے ہوگئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے نچلے ہونٹ کے نیچے چند بال سفید تھے۔