hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

726. حضرت عمران بن حصین (رض) کی مرویات

مسند احمد

18980
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَلَمَّا صَلَّى قَالَ أَيُّكُمْ قَرَأَ سَبِّحْ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا قَالَ قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى يُحَدِّتُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھی، مقتدیوں میں سے ایک آدمی نے سبح اسم ربک الاعلی والی سورت پڑھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی ﷺ نے پوچھا تم میں سے سبح اسم ربک الاعلی کس نے پڑھی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا میں نے، نبی ﷺ نے فرمایا میں سمجھ گیا تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے جھگڑ رہا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
18981
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَيَاءُ خَيْرٌ كُلُّهُ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ قَالَ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا حیاء تو سراسر خیر ہی خیر ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
18982
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ كَانَ بِي النَّاصُورُ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الصَّلَاةِ فَقَالَ صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَعَلَى جَنْبٍ
حضرت عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے مجھے بواسیر کی شکایت تھی، میں نے نبی ﷺ سے نماز کے متعلق دریافت کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اگر اس کی ہمت نہ ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھو اور اگر اس کی بھی ہمت نہ ہو تو پہلو کے بل لیٹ کر پڑھ لیا کرو۔
18983
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ يَسَافٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيءُ قَوْمٌ يَتَسَمَّنُونَ يُحِبُّونَ السِّمَنَ يُعْطُونَ الشَّهَادَةَ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلُوهَا
حضرت عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سب سے بہترین زمانہ میرا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا اور پھر اس کے بعد والوں کا، پھر ایک قوم آئے گی جس کے افراد خوب موٹے ہوں گے اور موٹاپے کو پسند کرتے ہوں گے، وہ کسی کے کہنے سے پہلے ہی گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔
18984
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْأَلَةُ الْغَنِيِّ شَيْنٌ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ أَبِي لَمْ أَعْلَمْ أَحَدًا أَسْنَدَهُ غَيْرَ وَكِيعٍ
حضرت عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مالدار آدمی کا مانگنا قیامت کے دن اس کے چہرے پر بدنما دھبہ ہوگا۔
18985
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ قَالَ وَكِيعٌ جَاءَتْ بَنُو تَمِيمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبْشِرُوا يَا بَنِي تَمِيمٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ بَشَّرْتَنَا فَأَعْطِنَا قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَاءَ حَيٌّ مِنْ يَمَنٍ فَقَالَ اقْبَلُوا الْبُشْرَى إِذْ لَمْ يَقْبَلْهَا بَنُو تَمِيمٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَبِلْنَا
حضرت عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو تمیم کے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اے بنو تمیم ! خوشخبری قبول کرو، وہ کہنے لگے یارسول اللہ ! آپ نے ہمیں خوشخبری تو دے دی، اب کچھ عطاء بھی کر دیجئے، یہ سن کر نبی ﷺ کے چہرہ انور کا رنگ بدل گیا، تھوڑی دیر بعد یمن کا ایک قبیلہ آیا تو نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ بنو تمیم نے تو خوشخبری قبول نہیں کی، تم قبول کرلو، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم نے اسے قبول کرلیا۔
18986
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا ثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ يَنْذُرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَنْشَأُ فِيهِمْ السِّمَنُ
حضرت عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اس امت کا سب سے بہترین زمانہ تو وہ ہے جس میں مجھے مبعوث کیا گیا ہے، پھر اس کے بعد والوں کا زمانہ ہے، پھر ایک ایسی قوم آئے گی جو منت مانے گی لیکن پوری نہیں کرے گی، خیانت کرے گی، امانت دار نہ ہوگی، گواہی دینے کے لئے تیار ہوگی گو کہ اس سے گواہی نہ مانگی جائے اور ان میں موٹاپا عام ہوجائے گا۔
18987
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي مِرَايَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا طَاعَةَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
حضرت عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں ہے۔
18988
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَن مُطَرِّفٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانًا لَا يُفْطِرُ نَهَارَ الدَّهْرِ فَقَالَ لَا أَفْطَرَ وَلَا صَامَ
حضرت عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ فلاں آدمی تو ہمیشہ دن کو روزے کا ناغہ کرتا ہی نہیں ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اس نے ناغہ کیا اور نہ روزہ رکھا۔
18989
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوكِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا
حضرت عمران بن حصین (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے مرتے وقت اپنے چھ کے چھ غلام آزاد کردئیے، جن کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال بھی نہ تھا، نبی ﷺ نے ان غلاموں کو بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسیم کر کے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، پھر جن دو کا نام نکل آیا انہیں آزاد کردیا اور باقی چار کو غلام ہی رہنے دیا اور مرنے والے کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے۔