hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

90. حضرت عمرو بن ام مکتوم کی حدیثیں۔

مسند احمد

14945
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي رَزِينٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ ضَرِيرًا شَاسِعَ الدَّارِ وَلِي قَائِدٌ لَا يُلَائِمُنِي فَهَلْ تَجِدُ لِي رُخْصَةً أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي قَالَ أَتَسْمَعُ النِّدَاءَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً
حضرت عمرو بن ام مکتوم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور فرمایا کہ یا رسول اللہ میرا گھر دور ہے مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا مجھے ایک آدمی لابھی سکتا ہے اور وہ اس پر ناگواری کا اظہار بھی نہیں کرتا لیکن کیا آپ میرے لئے کوئی ایسی گنجائش دیکھتے ہیں کہ میں اپنے گھر میں ہی نماز پڑھ لیا کروں نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اذان کی آواز سنتے ہو میں نے کہا جی ہان نبی ﷺ نے فرمایا پھر میں تمہارے لئے کوئی گنجائش نہیں پاتا۔
14946
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْحُصَيْنُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْمَسْجِدَ فَرَأَى فِي الْقَوْمِ رِقَّةً فَقَالَ إِنِّي لَأَهُمُّ أَنْ أَجْعَلَ لِلنَّاسِ إِمَامًا ثُمَّ أَخْرُجُ فَلَا أَقْدِرُ عَلَى إِنْسَانٍ يَتَخَلَّفُ عَنْ الصَّلَاةِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا أَحْرَقْتُهُ عَلَيْهِ فَقَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ الْمَسْجِدِ نَخْلًا وَشَجَرًا وَلَا أَقْدِرُ عَلَى قَائِدٍ كُلَّ سَاعَةٍ أَيَسَعُنِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي بَيْتِي قَالَ أَتَسْمَعُ الْإِقَامَةَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأْتِهَا
حضرت ابن ام مکتوم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ مسجد نبوی میں تشریف لائے تو لوگوں کی تعداد کم تھی اس پر آپ نے ارشاد فرمایا میرادل چاہتا ہے کہ ایک آدمی کو لوگوں کا امام بناؤ اور خود باہر نکل جاؤ جس شخص کو دیکھو کہ وہ گھر میں نماز پڑھ رہا ہے اسے آگ لگادوں یہ سن کر حضرت ابن ام مکتوم نے عرض کیا یا رسول اللہ میرے گھر اور مسجد نبوی کے درمیان باغ اور درخت آتے ہیں اور مجھے ہر لمحے کے لیے کوئی رہبر بھی میسر نہیں ہوتا کیا مجھے اپنے گھر میں نماز پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم اذان کی آواز سنتے ہو انہوں نے عرض کیا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا تو پھر تم نماز کے لئے آیا کرو۔