hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

409. حضرت زید بن خالدجہنی (رض) کی مرویات

مسند احمد

16417
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ قَالَ عُثْمَانُ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَنَنْصَرِفُ إِلَى السُّوقِ وَلَوْ رَمَى أَحَدُنَا بِالنَّبْلِ قَالَ عُثْمَانُ رَمَى بِنَبْلٍ لَأَبْصَرَ مَوَاقِعَهَا
حضرت زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے اور بازار آتے، اس وقت اگر ہم میں سے کوئی شخص تیر پھینکتا تو وہ تیر گرنے کی جگہ کو بھی دیکھ سکتا تھا۔
16418
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَيَعْلَى وَيَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا صَلُّوا فِيهَا
حضرت زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنایا کرو، بلکہ ان میں نماز پڑھا کرو۔
16419
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ح وَيَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ عَنْ أَبِي عَمْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ قَالَ يَزِيدُ أَنَّ أَبَا عَمْرَةَ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّيَ بِخَيْبَرَ وَأَنَّهُ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ قَالَ فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ قَالَ إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ
حضرت زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ خیبر میں ایک مسلمان فوت ہوگیا، نبی ﷺ سے لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اپنے ساتھی کی نماز جنازہ تم خود ہی پڑھ لو، یہ سن کر لوگوں کے چہروں کا رنگ اڑ گیا (کیونکہ نبی ﷺ کا اس طرح انکار فرمانا اس شخص کے حق میں اچھی علامت نہ تھی) نبی ﷺ نے لوگوں کی کیفیت بھانپ کر فرمایا تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں نکل کر بھی (مال غنیمت میں) خیانت کی ہے، ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں سے ایک رسی ملی جس کی قیمت صرف دو درہم کے برابر تھی۔
16420
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَعْلَى وَمُحَمَّدٌ ابْنَا عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ وَقَالَ مُحَمَّدٌ لَوْلَا أَنْ يُشَقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ وَلَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ
حضرت زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نماز عشاء ایک تہائی رات تک مؤخر کر کے پڑھتا اور انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔
16421
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَنْبَأَنَا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ مِنْ غَيْرِ أَنْ لَا يُنْتَقَصُ
حضرت زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے، اس کے لئے روزہ دار کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی اور جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا اور مجاہد کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔ گذشتہ حدیث امام احمد (رح) نے یعلی کی بجائے یزید سے بھی نقل کی ہے۔
16422
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلْعَنْهُ فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَثَرِ سَمَاءٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی موجودگی میں ایک شخص نے ایک مرغے پر اس کے چیخنے کی وجہ سے لعنت کی، نبی ﷺ نے فرمایا اس پر لعنت نہ کرو، کیونکہ یہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔ حضرت زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں حدیبیہ میں بارش کے اثرات میں نماز پڑھائی۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
16423
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْأَعْمَى يُخْبِرُ عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ السَّائِبُ مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ مَوْلًى لِفَارِسَ وَقَالَ حَجَّاجٌ مَوْلَى الْفَارِسِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّهُ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ رَكَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ فَمَشَى إِلَيْهِ فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَهُوَ يُصَلِّي كَمَا هُوَ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ زَيْدٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا بَعْدَ أَنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا قَالَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ عُمَرُ وَقَالَ يَا زَيْدُ بْنَ خَالِدٍ لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى اللَّيْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِيهِمَا
حضرت زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے اپنے دور خلافت میں مجھے عصر کے بعد دو سنتیں پڑھتے ہوئے دیکھا تو آگے بڑھ کر دوران نماز ہی درے سے مارنا شروع کردیا، نماز سے فارغ ہو کر زید نے عرض کیا امیر المومنین ! میں نے چونکہ نبی ﷺ کو یہ دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اس لئے اللہ کی قسم ! میں انہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا، یہ سن کر حضرت عمر (رض) بیٹھ گئے اور فرمایا اے زید بن خالد ! اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ لوگ اسے رات تک نماز کے لئے سیڑھی بنالیں تو میں ان رکعتوں پر کبھی نہ مارتا۔
16424
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ رَاعِي الْغَنَمِ قَالَ هِيَ لَكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي ضَالَّةِ رَاعِي الْإِبِلِ قَالَ وَمَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا وَتَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الْوَرِقِ إِذَا وَجَدْتُهَا قَالَ اعْلَمْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ أَوْ اسْتَمْتِعْ بِهَا أَوْ نَحْوَ هَذَا
حضرت زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خود یا کسی اور آدمی نے نبی ﷺ سے گمشدہ بکری کا حکم پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا تم اسے پکڑ لو گے یا بھیڑیا لے جائے گا، سائل نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ گمشدہ اونٹ ملے تو کیا حکم ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق ؟ اس کے پاس اس کا مشکیزہ اور جوتے ہیں اور وہ درختوں کے پتے کھاسکتا ہے، پھر سائل نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر مجھے کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس دوران اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کردو، ورنہ وہ تمہاری ہوگئی۔
16425
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِوَلِيدَةٍ وَبِمِائَةِ شَاةٍ ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَهْلُ الْعِلْمِ أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ أَمَّا الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ وَأَمَّا ابْنُكَ فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ يُقَالُ لَهُ أُنَيْسٌ قُمْ يَا أُنَيْسُ فَاسْأَلْ امْرَأَةَ هَذَا فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا
حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے بدکاری کی، لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا، میں نے اس کے فدیئے میں ایک لونڈی اور سو بکریاں پیش کردیں، پھر مجھے اہل علم نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں، ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اس شخص کی بیوی کو رجم کیا جائے، اب آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، بکریاں اور وہ لونڈی تمہیں واپس دے دی جائے گی، تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا، پھر نبی ﷺ نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی انیس سے فرمایا انیس ! اٹھو اور اس شخص کی بیوی سے جا کر پوچھو، اگر وہ اعتراف جرم کرلے تو اسے رجم کردو۔
16426
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَهُ فَقَدْ غَزَا
حضرت زید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجروثواب لکھا جائے گا۔