Musnad Imam Ahmad
921. حضرت بریدہ اسلمی (رض) کی مرویات
مسند احمد
21862
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا عَلَى حِرَاءٍ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ
حضرت بریدہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حراء پہاڑ لرزنے لگا جس پر اس وقت نبی کریم ﷺ اور حضرت ابوبکر و عمر و عثمان غنی (رض) موجود تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے حراء تھم جا تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہیدوں کے علاوہ کوئی نہیں۔
21863
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابْنَ شَقِيقٍ حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ
حضرت بریدہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے مشرکین کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے لہٰذا جو شخص نماز چھوڑ دیتا ہے وہ کفر کرتا ہے۔
21864
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حِبَّانَ الْبَجَلِيِّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ الْكَمْأَةُ دَوَاءُ الْعَيْنِ وَإِنَّ الْعَجْوَةَ مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ وَإِنَّ هَذِهِ الْحَبَّةَ السَّوْدَاءَ قَالَ ابْنُ بُرَيْدَةَ يَعْنِي الشُّونِيزَ الَّذِي يَكُونُ فِي الْمِلْحِ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا الْمَوْتَ
حضرت بریدہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کھنبی آنکھوں کے لئے علاج ہے عجوہ جنت کا میوہ ہے اور یہ کلونجی جو نمک میں ہو موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے۔
21865
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ سَيِّدَنَا فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدَكُمْ فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت بریدہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا منافق کو اپنا آقا اور سردار مت کہا کرو کیونکہ اگر وہی تمہارا آقا ہو تو تم اپنے رب کو ناراض کرتے ہو۔
21866
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ مِنْهُمْ ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً أَنْتُمْ مِنْهُمْ ثَمَانُونَ صَفًّا
حضرت بریدہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہوں گی۔
21867
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِي عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ ثُمَّ أُتِينَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلْنَا ثُمَّ أُتِينَا بِالشَّرَابِ فَشَرِبَ مُعَاوِيَةُ ثُمَّ نَاوَلَ أَبِي ثُمَّ قَالَ مَا شَرِبْتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُعَاوِيَةُ كُنْتُ أَجْمَلَ شَبَابِ قُرَيْشٍ وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا وَمَا شَيْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَابٌّ غَيْرُ اللَّبَنِ أَوْ إِنْسَانٍ حَسَنِ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُنِي
حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرے والد حضرت امیر معاویہ (رض) کے پاس گئے انہوں نے ہمیں بستر پر بٹھایا پھر کھانا پیش کیا جو ہم نے کھایا پھر پینے کی لئے (نبیذ) لائی گئی جسے پہلے حضرت معاویہ (رض) نے نوش فرمایا پھر میرے والد کو اس کا برتن پکڑا دیا تو وہ کہنے لگے کہ جب سے نبی کریم ﷺ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے میں نے اسے نہیں پیا پھر حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا کہ میں قریش کا خوبصورت ترین نوجوان تھا اور سب سے زیادہ عمدہ دانتوں والا تھا مجھے دودھ یا اچھی باتیں کرنے والے انسانوں کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی چیز میں لذت نہیں محسوس ہوتی تھی۔
21868
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا بَشِيرُ بْنُ الْمُهَاجِرِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَاهُ أَيْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْجِعْ ثُمَّ أَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ فَقَالَ لَهُمْ مَا تَعْلَمُونَ مِنْ مَاعِزِ بْنِ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيِّ هَلْ تَرَوْنَ بِهِ بَأْسًا أَوْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئَا قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا نَرَى بِهِ بَأْسًا وَمَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا ثُمَّ عَادَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثَةَ فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا أَيْضًا فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ طَهِّرْنِي فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ أَيْضًا فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ فَقَالُوا لَهُ كَمَا قَالُوا لَهُ الْمَرَّةَ الْأُولَى مَا نَرَى بِهِ بَأْسًا وَمَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّابِعَةَ أَيْضًا فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بِالزِّنَا فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَفَرْنَا لَهُ حُفْرَةً فَجُعِلَ فِيهَا إِلَى صَدْرِهِ ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهُ وَقَالَ بُرَيْدَةُ كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَنَا أَنَّ مَاعِزَ بْنَ مَالِكٍ لَوْ جَلَسَ فِي رَحْلِهِ بَعْدَ اعْتِرَافِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ لَمْ يَطْلُبْهُ وَإِنَّمَا رَجَمَهُ عِنْدَ الرَّابِعَةِ
حضرت بریدہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا کہ ماعز بن مالک نامی ایک آدمی آیا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی ! مجھ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا واپس چلے جاؤ اگلے دن وہ دوبارہ حاضر ہوا اور دوبارہ بدکاری کا اعتراف کیا نبی کریم ﷺ نے اسے دوبارہ واپس بھیج دیا پھر ایک آدمی کو اس کی قوم میں بھیج کر ان سے پوچھا کہ تم لوگ ماعز بن مالک اسلمی کے متعلق کیا جانتے ہو ؟ کیا تم اس میں کوئی نامناسب چیز دیکھتے ہو یا اس کی عقل میں کچھ نقص محسوس ہوتا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہم اس میں کوئی نامناسب بات نہیں دیکھتے اور اس کی عقل میں کوئی نقص بھی محسوس نہیں کرتے۔ پھر وہ تیسری مرتبہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پھر بدکاری کا اعتراف کیا اور کہا کہ اے اللہ کے نبی ! مجھے پاک کر دیجئے نبی کریم ﷺ نے دوبارہ اس کی قوم کی طرف ایک آدمی کو وہی سوال دے کر بھیجا تو انہوں نے حسب سابق جواب دہرایا پھر جب اس نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا اور اس کے لئے ایک گڑھا کھود دیا گیا اور اسے سینے تک اس گڑھے میں اتار دیا گیا پھر لوگوں کو اس پر پتھرم ارنے کا حکم دیا۔ حضرت بریدہ (رض) کہتے ہیں کہ ہم صحابہ کرام (رض) آپس میں یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر ماعز تین مرتبہ اعتراف کرنے کے بعد بھی اپنے گھر میں بیٹھ جاتے تو نبی کریم ﷺ انہیں تلاش نہ کرواتے نبی کریم ﷺ نے چوتھی مرتبہ اعتراف کے بعد ہی انہیں رجم فرمایا۔
21869
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ حَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَإِذَا رَجُلٌ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ بُرَيْدَةُ يَا مُعَاوِيَةُ فَائْذَنْ لِي فِي الْكَلَامِ فَقَالَ نَعَمْ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ سَيَتَكَلَّمُ بِمِثْلِ مَا قَالَ الْآخَرُ فَقَالَ بُرَيْدَةُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَشْفَعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدَدَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ وَمَدَرَةٍ قَالَ أَفَتَرْجُوهَا أَنْتَ يَا مُعَاوِيَةُ وَلَا يَرْجُوهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
حضرت بریدہ (رض) ایک مرتبہ حضرت معاویہ (رض) کے پاس گئے وہاں ایک آدمی بات کر رہا تھا حضرت بریدہ (رض) نے فرمایا معاویہ ! کیا آپ مجھے بولنے کی اجازت دیتے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں ! ان کا خیال یہ تھا کہ وہ بھی پہلے آدمی کی طرح کوئی بات کریں گے لیکن حضرت بریدہ (رض) نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میں اتنے لوگوں کی سفارش کروں گا جتنے زمین پر درخت اور مٹی ہے اے معاویہ ! تم اس شفاعت کی امید رکھ سکتے ہو اور حضرت علی (رض) اس کی امید نہیں رکھ سکتے ؟
21870
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ وَهُوَ أَبُو سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَحْمَرَ اسْمُهُ جِبْرِيلُ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ الْأَزْدِ فَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا الْتَمِسُوا لَهُ ذَا رَحِمٍ قَالَ فَلَمْ يُوجَدْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ادْفَعُوهُ إِلَى أَكْبَرِ خُزَاعَةَ
حضرت بریدہ (رض) سے مروی ہے کہ قبیلہ ازد کا ایک آدمی فوت ہوگیا اور پیچھے کوئی وارث چھوڑ کر نہیں گیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا کوئی وارث تلاش کرو اس کا کوئی قریبی رشتہ دار تلاش کرو لیکن تلاش کے باوجود کوئی نہ مل سکا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا مال خزاعہ کے سب سے بڑے آدمی کو دے دو ۔
21871
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ الْيَمَنَ فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَفْوَةً فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ عَلِيًّا فَتَنَقَّصْتُهُ فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ فَقَالَ يَا بُرَيْدَةُ أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ
حضرت بریدہ (رض) سے مروی ہے کہ میں یمن میں جہاد کے موقع پر حضرت علی (رض) کے ساتھ شریک تھا مجھے ان کی طرف سے سختی کا سامنا ہوا لہٰذا جب میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت علی (رض) کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شان میں کوتاہی کی میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ کے چہرہ انور کا رنگ تبدیل ہو رہا ہے پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے بریدہ ! کیا مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حق نہیں ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! ﷺ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں جس کا محبوب ہوں تو علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں۔