hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

945. حضرت ابوایوب انصاری (رض) کی مرویات

مسند احمد

22404
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِظْنِي وَأَوْجِزْ فَقَالَ إِذَا قُمْتَ فِي صَلَاتِكَ فَصَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ وَلَا تَكَلَّمْ بِكَلَامٍ تَعْتَذِرُ مِنْهُ غَدًا وَاجْمَعْ الْإِيَاسَ مِمَّا فِي يَدَيْ النَّاسِ
حضرت ابو ایوب انصاری (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کوئی مختصر نصیحت فرما دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم اپنی نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو اس طرح پڑھو جیسے رخصتی کی نماز پڑھ رہے ہو کوئی ایسی بات منہ سے مت نکالو جس پر کل کو تمہیں معذرت کرنی پڑے اور لوگوں کے پاس جو چیزیں ہیں ان سے آس ہٹا کر ایک طرف رکھ دو ۔
22405
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ قَالَ كُنَّا فِي الْبَحْرِ وَعَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ الْفَزَارِيُّ وَمَعَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ فَمَرَّ بِصَاحِبِ الْمَقَاسِمِ وَقَدْ أَقَامَ السَّبْيَ فَإِذَا امْرَأَةٌ تَبْكِي فَقَالَ مَا شَأْنُ هَذِهِ قَالُوا فَرَّقُوا بَيْنَهَا وَبَيْنَ وَلَدِهَا قَالَ فَأَخَذَ بِيَدِ وَلَدِهَا حَتَّى وَضَعَهُ فِي يَدِهَا فَانْطَلَقَ صَاحِبُ الْمَقَاسِمِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ فَأَخْبَرَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَحِبَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
ابوعبدالرحمن حبلی (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک مرتبہ سمندری سفر پر جا رہے تھے ہمارے امیر عبداللہ بن قیس خزاری تھے ہمارے ساتھ حضرت ابوایوب انصاری (رض) بھی تھے حضرت ابوایوب (رض) تقسیم کنندہ کے پاس سے گذرے تو اس نے قیدیوں کو ایک جانب کھڑا کر رکھا تھا جن میں ایک عورت رو رہی تھی حضرت ابوایوب (رض) نے پوچھا کہ اس عورت کا کیا مسئلہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ اسے اس کے بیٹے سے انہوں نے جدا کردیا ہے حضرت ابو ایوب (رض) نے اس کے بیٹے کا ہاتھ پکڑا اور اس عورت کے ہاتھ میں دے دیا یہ دیکھ کر تقسیم کنندہ شخص عبداللہ بن قیس فزاری کے پاس چلا گیا اور انہیں یہ بات بتائی عبداللہ نے حضرت ابوایوب (رض) کے پاس قاصد بھیج کر دریافت کیا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص ماں اور اس کی اولاد میں تفریق کرتا ہے قیامت کے دن اللہ اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان تفریق کر دے گا۔
22406
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ يَذْكُرُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمْ الْأَمْصَارُ وَسَيَضْرِبُونَ عَلَيْكُمْ بُعُوثًا يُنْكِرُ الرَّجُلُ مِنْكُمْ الْبَعْثَ فَيَتَخَلَّصُ مِنْ قَوْمِهِ وَيَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى الْقَبَائِلِ يَقُولُ مَنْ أَكْفِيهِ بَعْثَ كَذَا وَكَذَا أَلَا وَذَلِكَ الْأَجِيرُ إِلَى آخِرِ قَطْرَةٍ مِنْ دَمِهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ هُو ابْنُ بَرِّيٍّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ سُلَيْمَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو أَيُّوبَ يُخْبِرُهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ
حضرت ابو ایوب (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب تمہارے لئے شہر مفتوح ہوجائیں گے اور تمہارے لشکر جمع کئے جائیں گے لیکن تم میں سے بعض لوگ بغیر اجرت کے لشکر کے ساتھ جانے کو تیار نہ ہوں گے چناچہ ایسا بھی ہوگا کہ ایک آدمی اپنی قوم سے نکل کر بھاگے گا اور دوسرے قبیلوں کے سامنے جا کر اپنے آپ کو پیش کر کے کہے گا ہے کوئی شخص کہ میں اتنے پیسوں کے عوض اس کی طرف میدان جہاد میں شامل ہو کر کفایت کروں ؟ یاد رکھو ! ایسا شخص خون کے آخری قطرے تک مزدور رہے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
22407
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا الْمُقْرِيُّ حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ حَدَّثَنَا أَبُو رُهْمٍ السَّمَعِيُّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ جَاءَ يَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَيُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَصُومُ رَمَضَانَ وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ فَإِنَّ لَهُ الْجَنَّةَ وَسَأَلُوهُ مَا الْكَبَائِرُ قَالَ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُسْلِمَةِ وَفِرَارٌ يَوِمَ الزَّحْفِ
حضرت ابوایوب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔
22408
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ ضَمْضَمِ بْنِ زُرْعَةَ عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ كُلَّ صَلَاةٍ تَحُطُّ مَا بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ خَطِيئَةٍ
حضرت ابو ایوب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر نماز ان گناہوں کو مٹا دیتی ہے جو اس سے پہلے ہوتے ہیں۔
22409
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَصْعَةٍ فِيهَا بَصَلٌ فَقَالَ كُلُوا وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ وَقَالَ إِنِّي لَسْتُ كَمِثْلِكُمْذ
حضرت ابوایوب (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں پیاز تھی نبی کریم ﷺ نے لوگوں سے فرمایا کہ اسے تم کھالو اور خود کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔
22410
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو قَبِيلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَاشِرٍ مِنْ بَنِي سَرِيعٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رُهْمٍ قَاصَّ أَهْلِ الشَّامِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ إِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ خَيَّرَنِي بَيْنَ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخَلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَبَيْنَ الْخَبِيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُخَبِّئُ ذَلِكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُكَبِّرُ فَقَالَ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا وَالْخَبِيئَةُ عِنْدَهُ قَالَ أَبُو رُهْمٍ يَا أَبَا أَيُّوبَ وَمَا تَظُنُّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَهُ النَّاسُ بِأَفْوَاهِهِمْ فَقَالُوا وَمَا أَنْتَ وَخَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ دَعُوا الرَّجُلَ عَنْكُمْ أُخْبِرْكُمْ عَنْ خَبِيئَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَظُنُّ بَلْ كَالْمُسْتَيْقِنِ إِنَّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ رَبِّ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ مُصَدِّقًا لِسَانَهُ قَلْبُهُ أَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ
حضرت ابوایوب (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ (رض) کے پاس تشریف لائے تو فرمایا تمہارے رب نے مجھے دو باتوں کا اختیار دیا ہے یا تو ستر ہزار آدمی جنت میں بلا حساب کتاب مکمل معافی کے ساتھی داخل ہوجائیں یا میں اپنی امت کے متعلق اپنا حق محفوظ کرلوں کسی صحابی (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا اللہ کے یہاں کسی بات کو محفوظ کیا جاسکتا ہے اس پر نبی کریم ﷺ اندرچلے گئے تھوڑی دیر بعد " اللہ اکبر " کہتے ہوئے باہر آئے اور فرمایا میرے پروردگار نے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار کا وعدہ فرمایا ہے اور اس کے یہاں میرا حق بھی محفوظ ہے۔ راوی حدیث ابورہم نے حضرت ابوایوب (رض) سے پوچھا کہ اے ابوایوب آپ کے خیال میں نبی ﷺ کا وہ محفوظ حق کیا ہے ؟ یہ سن کر لوگوں نے انہیں کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور کہنے لگے کہ تمہیں نبی کریم ﷺ کے اس محفوظ حق سے کیا غرض ہے ؟ حضرت ابوایوب (رض) نے فرمایا اے چھوڑ دو میں تمہیں اپنے اندازے بلکہ یقین کے مطابق بتاتا ہوں کہ نبی کریم ﷺ کا وہ محفوظ حق یہ ہے کہ پروردگار ! جو شخص بھی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرتا ہو تو اسے جنت میں داخلہ عطا فرما۔
22411
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ أَنَّ أَبَا رُهْمٍ السَّمَعِيَّ حَدَّثَهُمْ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَبَدَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَصَامَ رَمَضَانَ وَاجْتَنَبَ الْكَبَائِرَ فَلَهُ الْجَنَّةُ أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَسَأَلَهُ مَا الْكَبَائِرُ فَقَالَ الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ نَفْسٍ مُسْلِمَةٍ وَالْفِرَارُ يَوْمَ الزَّحْفِ
حضرت ابوایوب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں آئے کہ اللہ کی عبادت کرتا ہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، نماز قائم کرتا ہو، زکوٰۃ ادا کرتا ہو ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو اور کبیرہ گناہوں سے اجتناب کرتا ہو تو اس کے لئے جنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ " کبیرہ گناہوں " سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا کسی مسلمان کو قتل کرنا اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا۔
22412
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ أَيُّهُمْ يُؤْوِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَعَهُمْ أَبُو أَيُّوبَ فَآوَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامٌ أُهْدِيَ لِأَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَدَخَلَ أَبُو أَيُّوبَ يَوْمًا فَإِذَا قَصْعَةٌ فِيهَا بَصَلٌ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا أَرْسَلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَاطَّلَعَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مَنَعَكَ مِنْ هَذِهِ الْقَصْعَةِ قَالَ رَأَيْتُ فِيهَا بَصَلًا قَالَ وَلَا يَحِلُّ لَنَا الْبَصَلُ قَالَ بَلَى فَكُلُوهُ وَلَكِنْ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ وَقَالَ حَيْوَةُ إِنَّهُ يَغْشَانِي مَا لَا يَغْشَاكُمْ
حضرت ابوایوب انصاری (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انصار نے اس بات پر قرعہ اندازی کی کہ ان میں سے کس کے یہاں نبی کریم ﷺ فروکش ہوں گے وہ قرعہ حضرت ابوایوب (رض) کے نام نکل آیا اور وہ نبی کریم ﷺ کو اپنے گھرلے گئے نبی کریم ﷺ کا معمول تھا کہ جب کوئی چیز ہدیہ میں آتی تو نبی کریم ﷺ اس میں سے حضرت ابوایوب (رض) کو بھی بھجواتے تھے چناچہ ایک دن حضرت ابوایوب (رض) اپنے گھر آئے تو ایک پیالہ نظر آیا جس میں پیاز تھا پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اہل خانہ نے بتایا کہ یہ نبی کریم ﷺ نے بھجوایا ہے وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ نے تو اس پیالے کو ہاتھ بھی نہیں لگایا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے اس میں پیاز نظر آئی تھی انہوں نے پوچھا کہ کیا ہمارے لئے پیاز حلال نہیں ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں، تم اسے کھایا کرو البتہ میرے پاس وہ آتے ہیں جو تمہارے پاس نہیں آتے (جبریل امین اور دیگر فرشتے (علیہم السلام) )
22413
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كِيلُوا طَعَامَكُمْ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ بَحِيرٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
حضرت ابوایوب انصاری (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنا غلہ ناپ کر لین دین کیا کرو تمہارے لئے اس میں برکت ڈال دی جائے گی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔