Musnad Imam Ahmad
727. حضرت معاویہ بن حیدہ (رض) کی مرویات
مسند احمد
19164
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ يَعْنِي يَحْيَى بْنَ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا شِبْلُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَعْنَى قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَزَعَةَ يُحَدِّثُ عَمْرَو بْنَ دِيْنَارٍ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَهْزِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي حَلَفْتُ هَكَذَا وَنَشَرَ أَصَابِعَ يَدَيْهِ حَتَّى تُخْبِرَنِي مَا الَّذِي بَعَثَكَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ قَالَ بَعَثَنِي اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِالْإِسْلَامِ قَالَ وَمَا الْإِسْلَامُ قَالَ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ أَخَوَانِ نَصِيرَانِ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَحَدٍ تَوْبَةً أَشْرَكَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ زَوْجِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ قَالَ تُطْعِمُهَا إِذَا أَكَلْتَ وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ هَاهُنَا تُحْشَرُونَ هَاهُنَا تُحْشَرُونَ هَاهُنَا تُحْشَرُونَ ثَلَاثًا رُكْبَانًا وَمُشَاةً وَعَلَى وُجُوهِكُمْ تُوفُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى تَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى أَفْوَاهِكُمْ الْفِدَامُ أَوَّلُ مَا يُعْرِبُ عَنْ أَحَدِكُمْ فَخِذُهُ قَالَ ابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ فَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ إِلَى هَاهُنَا تُحْشَرُونَ
حضرت معاویہ بہزی (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میں نے اتنی مرتبہ (اپنے ہاتھوں کی انگلیاں کھول کر کہا) قسم کھائی تھی (کہ آپ کے پاس نہیں آؤں گا، اب میں آپ کے پاس آگیا ہوں تو) مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کس چیز کے ساتھ بھیجا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کے ساتھ بھیجا ہے، پوچھا اسلام کیا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ اس کے بندے اور رسول ہیں اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ یہی دونوں چیزیں مددگار ہیں اور اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم پر اپنی بیوی کا حق بنتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اس سے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو۔ پھر تین مرتبہ فرمایا تم سب یہاں (شام کی طرف اشارہ کیا) جمع کئے جاؤ گے، تم میں سے بعض سوار ہوں گے، بعض پیدل اور بعض چہروں کے بل۔ قیامت کے دن تم لوگ کامل ستر امتوں کی شکل میں ہو گے اور سب سے آخری امت تم ہوں گے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو گے۔ قیامت کے دن جب تم لوگ پیش ہوگے تو تمہارے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور سب سے پہلے جو چیز بولے گی، وہ ران ہوگی۔
19165
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُهَنَّأُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ أَبُو شِبْلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَغَسَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَالًا وَوَلَدًا حَتَّى ذَهَبَ عَصْرٌ وَجَاءَ عَصْرٌ فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ أَيْ بَنِيَّ أَيَّ أَبٍ كُنْتُ لَكُمْ قَالُوا خَيْرَ أَبٍ قَالَ فَهَلْ أَنْتُمْ مُطِيعِيَّ قَالُوا نَعَمْ قَالَ انْظُرُوا إِذَا مُتُّ أَنْ تُحَرِّقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي فَحْمًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا ذَلِكَ ثُمَّ اهْرُسُونِي بِالْمِهْرَاسِ يُومِئُ بِيَدِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَلِكَ ثُمَّ اذْرُونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمِ رِيحٍ لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلُوا وَاللَّهِ ذَلِكَ فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَالَ يَا ابْنَ آدَمَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ قَالَ أَيْ رَبِّ مَخَافَتُكَ قَالَ فَتَلَافَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهَا
حضرت معاویہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جسے اللہ تعالیٰ نے خوب مال و دولت اور اولاد سے نواز رکھا تھا، وقت گذرتا رہا حتیٰ کہ ایک زمانہ چلا گیا اور دوسرا زمانہ آگیا، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بچوں سے کہا کہ میرے بچو ! میں تمہارے لئے کیسا باپ ثابت ہوا ؟ انہوں نے کہا بہترین باپ، اس نے کہا کیا اب تم میری ایک بات مانوگے ؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! اس نے کہا دیکھو، جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلا دینا اور کوئلہ بن جانے تک مجھے آگ ہی میں رہنے دینا، پھر اس کوئلے کو ہاون دستے میں اس طرح کوٹنا (ہاتھ کے اشارے سے بتایا) پھر جس دن ہوا چل رہی ہو، میری راکھ کو سمندر میں بہا دینا، شاید اس طرح میں اللہ کو نہ مل سکوں، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! ان لوگوں نے اسی طرح کیا، لیکن وہ اسی لمحے اللہ کے قبضے میں تھا، اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم ! تجھے اس کام پر کس چیز نے ابھارا ؟ اس نے کہا پروردگار ! تیرے خوف نے، اللہ تعالیٰ نے اس خوف کی برکت سے اس کی تلافی فرمادی۔
19166
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي قَزَعَةَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَأَلَهُ رَجُلٌ مَا حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ قَالَ تُطْعِمُهَا إِذَا طَعِمْتَ وَتَكْسُوهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ وَلَا تَضْرِبْ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ
حضرت معاویہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم پر اپنی بیوی کا کیا حق بنتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم کھاؤ تو اسے کھلاؤ، جب تم پہنو تو اسے بھی پہناؤ، اس کے چہرے پر نہ مارو، اسے گالیاں مت دو اور اس سے قطع تعلقی اگر کرو تو صرف گھر کی حد تک رکھو۔
19167
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو قَزَعَةَ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ الْبَاهِلِيُّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَخَاهُ مَالِكًا قَالَ يَا مُعَاوِيَةُ إِنَّ مُحَمَّدًا أَخَذَ جِيرَانِي فَانْطَلِقْ إِلَيْهِ فَإِنَّهُ قَدْ عَرَفَكَ وَكَلَّمَكَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ فَقَالَ دَعْ لِي جِيرَانِي فَإِنَّهُمْ قَدْ كَانُوا أَسْلَمُوا فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَامَ مُتَمَعِّطًا فَقَالَ أَمْ وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَ إِنَّ النَّاسَ لَيَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَأْمُرُ بِالْأَمْرِ وَتَخْلُفُ إِلَى غَيْرِهِ وَجَعَلْتُ أَجُرُّهُ وَهُوَ يَتَكَلَّمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَقُولُ فَقَالُوا إِنَّكَ وَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَ ذَلِكَ إِنَّ النَّاسَ لَيَزْعُمُونَ أَنَّكَ لَتَأْمُرُ بِالْأَمْرِ وَتُخَالِفُ إِلَى غَيْرِهِ قَالَ فَقَالَ أَوَ قَدْ قَالُوهَا أَوْ قَائِلُهُمْ فَلَئِنْ فَعَلْتُ ذَاكَ وَمَا ذَاكَ إِلَّا عَلَيَّ وَمَا عَلَيْهِمْ مِنْ ذَلِكَ مِنْ شَيْءٍ أَرْسِلُوا لَهُ جِيرَانَهُ
حضرت معاویہ بہزی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے بھائی مالک نے ان سے کہا کہ معاویہ ! محمد صلی اللہ (علیہ السلام) نے میرے پڑوسیوں کو پکڑ لیا ہے، تم ان کے پاس جاؤ، وہ تمہیں پہچانتے اور تم سے بات کرتے ہیں، میں اپنے بھائی کے ساتھ چلا گیا، اس نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو چھوڑ دیجئے، وہ مسلمان ہوچکے ہیں، نبی ﷺ نے اس کی بات سے اعراض کیا، (میرا بھائی) اکھڑ پن کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور آہستہ سے کہا کہ بخدا ! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم کیا کہہ رہے تھے ؟ (وہ خاموش رہا) لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہ ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو ۔
19168
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَأَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ خَيْرُهَا وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
حضرت معاویہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تم لوگ کامل ستر امتوں کی شکل میں ہوگے اور سب سے آخری امت تم ہوں گے اور اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ باعزت ہو گے۔
19169
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ لَا تُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا مِنْهُ وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا جَلَّ وَعَزَّ لَا يَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ
حضرت معاویہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے سائمہ اونٹوں کی ہر چالیس تعداد پر ایک بنت لبون واجب ہوگی اور زکوٰۃ کے اس حساب سے کسی اونٹ کو الگ نہیں کیا جائے گا، جو شخص ثواب کی نیت سے خود ہی زکوٰۃ ادا کر دے تو اسے اس کا ثواب مل جائے گا اور جو شخص زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا تو ہم اس سے جبراً بھی وصول کرسکتے ہیں، اس کے اونٹ کا حصہ ہمارے پروردگار کا فیصلہ ہے اور اس میں سے آل محمد ﷺ کے لئے کچھ بھی حلال نہیں ہے۔
19170
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ أَبَاهُ أَوْ عَمَّهَ قَامَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ جِيرَانِي بِمَ أُخِذُوا فَأَعْرَضَ عَنْهُ ثُمَّ قَالَ أَخْبِرْنِي بِمَ أُخِذُوا فَأَعْرَضَ عَنْهُ فَقَالَ لَئِنْ قُلْتُ ذَاكَ إِنَّهُمْ لَيَزْعُمُونَ أَنَّكَ تَنْهَى عَنْ الْغَيِّ وَتَسْتَخْلِي بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قَالَ فَقَامَ أَخُوهُ أَوْ ابْنُ أَخِيهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَالَ فَقَالَ لَقَدْ قُلْتُمُوهَا أَوْ قَائِلُكُمْ وَلَئِنْ كُنْتُ أَفْعَلُ ذَلِكَ إِنَّهُ لَعَلَيَّ وَمَا هُوَ عَلَيْكُمْ خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ
حضرت معاویہ بہزی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد یا چچا نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو کیوں پکڑا گیا ہے ؟ نبی ﷺ نے اس کی بات سے اعراض کیا، دو مرتبہ اسی طرح ہوا پھر والد یا چچا نے کہا کہ بخدا ! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ صاحب کیا کہہ رہے تھے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کا کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہیں ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو ۔
19171
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ عَنْ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو قَزَعَةَ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَا يَقْبَلُ تَوْبَةَ عَبْدٍ كَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ
حضرت معاویہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ اس شخص کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام قبول کرنے کے بعد دوبارہ شرک میں مبتلا ہوجائے۔
19172
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسًا مِنْ قَوْمِي فِي تُهْمَةٍ فَحَبَسَهُمْ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ قَوْمِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ عَلَامَ تَحْبِسُ جِيرَتِي فَصَمَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ فَقَالَ إِنَّ نَاسًا لَيَقُولُونَ إِنَّكَ تَنْهَى عَنْ الشَّرِّ وَتَسْتَخْلِي بِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَقُولُ قَالَ فَجَعَلْتُ أَعْرِضُ بَيْنَهُمَا بِالْكَلَامِ مَخَافَةَ أَنْ يَسْمَعَهَا فَيَدْعُوَ عَلَى قَوْمِي دَعْوَةً لَا يُفْلِحُونَ بَعْدَهَا أَبَدًا فَلَمْ يَزَلْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِ حَتَّى فَهِمَهَا فَقَالَ قَدْ قَالُوهَا أَوْ قَائِلُهَا مِنْهُمْ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُ لَكَانَ عَلَيَّ وَمَا كَانَ عَلَيْهِمْ خَلُّوا لَهُ عَنْ جِيرَانِهِ
حضرت معاویہ بہزی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ان کے والد یا چچا نے نبی ﷺ سے عرض کیا کہ میرے پڑوسیوں کو کیوں پکڑا گیا ہے ؟ نبی ﷺ نے اس کی بات سے اعراض کیا، دو مرتبہ اسی طرح ہوا پھر والد یا چچا نے کہا کہ بخدا ! اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کام کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، وہ بولتا جا رہا تھا اور میں میں اپنی چادر گھسیٹتا ہوا جا رہا تھا کہ نبی ﷺ نے فرمایا یہ صاحب کیا کہہ رہے تھے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ کہہ رہا تھا اگر آپ ایسا کرلیتے تو لوگ یہ سمجھتے کہ آپ ایک کا کا حکم دیتے ہیں اور خود ہی اس کی خلاف ورزی کرتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا لوگ ایسی بات کہہ سکتے ہیں، اگر میں نے ایسا کیا بھی تو اس کا اثر مجھ پر ہوگا، ان پر تو کچھ نہیں ہوگا، اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو ۔
19173
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَأَلَهُ مَوْلَاهُ فَضْلَ مَالِهِ فَلَمْ يُعْطِهِ جُعِلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ
حضرت معاویہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص سے اس کا چچا زاد بھائی اس کے مال کا زائد حصہ مانگے اور وہ اسے نہ دے تو قیامت کے دن اسے گنجا سانپ بنادیا جائے گا۔