hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

1142. حضرت انیسہ بنت خبیب کی حد یثیں

مسند احمد

26212
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمَّتِي تَقُولُ وَكَانَتْ حَجَّتْ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ أَوْ إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَكَانَ يَصْعَدُ هَذَا وَيَنْزِلُ هَذَا فَنَتَعَلَّقُ بِهِ فَنَقُولُ كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ
حضرت انیسہ " جو نبی کے ساتھ حج میں شریک تھیں " سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کردی۔
26213
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمَّتِهِ أُنَيْسَةَ بِنْتِ خُبَيْبٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَذَّنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا وَإِذَا أَذَّنَ بِلَالٌ فَلَا تَأْكُلُوا وَلَا تَشْرَبُوا قَالَتْ وَإِنْ كَانَتْ الْمَرْأَةُ لَيَبْقَى عَلَيْهَا مِنْ سُحُورِهَا فَنَقُولُ لِبِلَالٍ أَمْهِلْ حَتَّى أَفْرُغَ مِنْ سُحُورِي
حضرت انیسہ " جو نبی کے ساتھ حج میں شریک تھیں " سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کردی۔
26214
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمَّتِهِ قَالَتْ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ أَوْ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ بِلَالٌ أَوْ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَمَا كَانَ إِلَّا أَنْ يُؤَذِّنَ أَحَدُهُمَا وَيَصْعَدَ الْآخَرُ فَنَأْخُذَهُ بِيَدِهِ وَنَقُولَ كَمَا أَنْتَ حَتَّى نَتَسَحَّرَ
حضرت انیسہ " جو نبی کے ساتھ حج میں شریک تھیں " سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا ابن ام مکتوم رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک بلال اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو راوی کہتے ہیں کہ دراصل وہ نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے، آپ نے تو صبح کردی۔