hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

53. ایک صحابی کی روایت

مسند احمد

14878
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَزَّاقِ وَرَوْحٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ رَجُلٍ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الطَّوَافُ صَلَاةٌ فَإِذَا طُفْتُمْ فَأَقِلُّوا الْكَلَامَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا طواف بھی نماز کی طرح ہی ہوتا ہے اس لئے جب تم طواف کیا کرو تو گفتگو کم کیا کرو۔
15324
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غُرْفَتِي هَذِهِ حَسِبْتُ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مُخَضْرَمَةٍ فَقَالَ هَذَا يَوْمُ النَّحْرِ وَهَذَا يَوْمُ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ
مرۃ الطیب کہتے ہیں کہ مجھے اسی کمرے میں نبی ﷺ کے ایک صحابی نے یہ حدیث سنائی تھی کہ نبی ﷺ نے دس ذی الحجہ کو اپنے سرخ اونٹوں پر سوار ہو کر خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا یہ قربانی کا دن ہے اور یہ حج اکبر کا دن ہے۔
19691
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَنَسٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَرْتُ عَلَى مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرا گزر حضرت موسیٰ پر ہوا جو اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔
19694
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّكُمْ تَقْرَءُونَ خَلْفَ الْإِمَامِ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ قَالُوا إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ فَلَا تَفْعَلُوا إِلَّا أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكُمْ بِأُمِّ الْكِتَابِ أَوْ قَالَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا شاید تم لوگ امام کی قرأت کے دوران قرأت کرتے ہو ؟ تو صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ واقعی ہم ایسا کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا ایسا نہ کرنا الاّ یہ کہ تم میں سے کوئی سورت فاتحہ پڑھنا چاہئے۔
19734
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ عَنْ عَاصِمٍ قَالَ ثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِكُلِّ سُورَةٍ حَظُّهَا مِنْ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ قَالَ ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ بِالسُّوَرِ فَتَعْرِفُ مَنْ حَدَّثَكَ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مُنْذُ كَمْ حَدَّثَنِيهِ حَدَّثَنِي مُنْذُ خَمْسِينَ سَنَةٍ
نبی ﷺ کا یہ ارشاد سننے والے صحابی سے مروی ہے کہ ہر سورت کو رکوع سجود میں سے اس کا حصہ دیا کرو۔
19735
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَنِي نَافِعٌ قَالَ رُبَّمَا أَمَّنَا ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بِالسُّورَتَيْنِ وَالثَّلَاثِ
نافع کہتے ہیں کہ بعض اوقات حضرت ابن عمر ہمیں نماز میں ایک ہی رکعت میں دو دو تین تین سورتیں پڑھا دیتے تھے۔
19751
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ مَرِضَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَصْحَابُهُ يَعُودُونَهُ فَبَكَى فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ أَلَمْ يَقُلْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ مِنْ شَارِبِكَ ثُمَّ اقْرِرْهُ حَتَّى تَلْقَانِي قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَبَضَ قَبْضَةً بِيَمِينِهِ فَقَالَ هَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِ وَقَبْضَةً أُخْرَى يَعْنِي بِيَدِهِ الْأُخْرَى فَقَالَ هَذِهِ لِهَذِهِ وَلَا أُبَالِ فَلَا أَدْرِي فِي أَيِّ الْقَبْضَتَيْنِ أَنَا
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ایک صحابی جن کا نام ابو عبداللہ لیا جاتا تھا کے پاس ان کے کچھ ساتھی عیادت کے لئے آئے تو دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں انہوں نے رونے کی وجہ پوچھی اور کہنے لگے کہ کیا نبی ﷺ نے آپ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ مونچھیں تراشو پھر مستقل ایسا کرتے رہو یہاں تک کہ مجھ سے آملو انہوں نے کہا کہ کیوں نہیں لیکن میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دائیں ہاتھ سے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور دوسرے ہاتھ سے مٹھی بھری اور فرمایا یہ (مٹھی) ان (جنتیوں) کی ہے اور یہ (مٹھی) جہنمیوں کی ہے اور مجھے کوئی پرواہ نہیں اب مجھے معلوم نہیں کہ میں کس مٹھی میں تھا۔
19766
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بِحَدِيثِ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ عُمَرَ فِي الدِّيبَاجِ قَالَ فَقَالَ الْحَسَنُ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ لَبِنَتُهَا دِيبَاجٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِنَةٌ مِنْ نَارٍ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے ایک جبہ پہن رکھا تھا جس کی تاریں ریشم کی تھیں نبی ﷺ نے فرمایا یہ آگ کی تاریں ہیں
19774
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ يَعْنِي يَفْعَلُ بِهِ قَالَ خَالِدٌ وَسَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذِّبُ أَيْ يَفْعَلُ بِهِ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو فیومئذ لایعذب عذابہ احد والی آیت کو مجہول (یعنی یعذب میں ذال کے فتحہ اور یوثق میں ث کے فتحہ کے ساتھ) پڑھتے ہوئے سنا ہے مطلب یہ ہے کہ اس دن کسی شخص کو اس جیسا عذاب نہیں دیا جائے گا اور کسی کو اس طرح جکڑا نہیں جائے گا۔
19775
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا الْأَزْرَقُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمُرَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَلَاتُهُ فَإِنْ أَتَمَّهَا كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ لَمْ يَكُنْ أَتَمَّهَا قَالَ انْظُرُوا تَجِدُونَ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَأَكْمِلُوا مَا ضَيَّعَ مِنْ فَرِيضَتِهِ ثُمَّ الزَّكَاةُ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى حَسَبِ ذَلِكَ
ایک صحابی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا سب سے پہلے جس چیز کا بندے سے حساب لیا جائے گا وہ اس کی نماز ہوگی اگر اس نے اسے مکمل ادا کیا ہوگا تو وہ مکمل لکھ دی جائیں گی ورنہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دیکھو میرے بندے کے پاس کچھ نوفل ملتے ہیں ؟ کہ ان کے ذریعے فرائض کی تکمیل کرسکو اسی طرح زکوٰۃ کے معاملے میں بھی ہوگا اور دیگر اعمال کا حساب بھی اسی طرح ہوگا۔