hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

696. حضرت ابو عبداللہ صنابحی (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

18288
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا كَانَتْ فِي وَسَطِ السَّمَاءِ قَارَنَهَا فَإِذَا دَلَكَتْ أَوْ قَالَ زَالَتْ فَارَقَهَا فَإِذَا دَنَتْ لِلْغُرُوبِ قَارَنَهَا فَإِذَا غَرُبَتْ فَارَقَهَا فَلَا تُصَلُّوا هَذِهِ الثَّلَاثَ سَاعَاتٍ
حضرت صنابحی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہوجاتا ہے جب سورج وسط میں پہنچتا ہے تو پھر اس کے قریب آجاتا ہے اور زوال کے وقت جدا ہوجاتا ہے پھر جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ قریب آجاتا ہے اور غروب کے بعد پھر جدا ہوجاتا ہے اس لئے ان تین اوقات میں نماز مت پڑھا کرو۔
18289
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ خَرَّتْ خَطَايَاهُ مِنْ فِيهِ وَأَنْفِهِ وَمَنْ غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ وَمَنْ غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ مِنْ أَظْفَارِهِ أَوْ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهِ وَمَنْ مَسَحَ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ رَأْسِهِ أَوْ شَعَرِ أُذُنَيْهِ وَمَنْ غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَظْفَارِهِ أَوْ تَحْتَ أَظْفَارِهِ ثُمَّ كَانَتْ خُطَاهُ إِلَى الْمَسْجِدِ نَافِلَةً حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ أَنْفِهِ وَفَمِهِ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت صنابحی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کلی کرتا اور ناک میں پانی ڈالتا ہے اس کے منہ اور ناک کے گناہ جھڑجاتے ہیں جو چہرے کو دھوتا ہے تو اس کی آنکھوں کی پلکوں کے گناہ تک جھڑجاتے ہیں جب ہاتھ دھوتا ہے تو ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں جب سر اور کانوں کا مسح کرتا ہے تو سر اور کانوں کے بالوں کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں پھر مسجد کی طرف اس کے جو قدم اٹھتے ہیں وہ زائد ہوتے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
18290
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ نَاقَةً مُسِنَّةً فَغَضِبَ وَقَالَ مَا هَذِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَاشِيَةِ الصَّدَقَةِ فَسَكَتَ
حضرت صنابحی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صدقہ کے اونٹوں میں ایک بھرپور اونٹنی دیکھی تو غصے سے فرمایا یہ کیا ہے ؟ متعلقہ آدمی نے جواب دیا کہ میں صدقات کے کنارے سے دو اونٹوں کے بدلے میں اسے واپس لایا ہوں، اس پر نبی کریم ﷺ خاموش ہوگئے۔
18291
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الصَّلْتُ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ قَالَ حَدَّثَنِي الْحَارِثُ بْنُ وَهْبٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنْ تَزَالَ أُمَّتِي فِي مَسَكَةٍ مَا لَمْ يَعْمَلُوا بِثَلَاثٍ مَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْمَغْرِبَ بِانْتِظَارِ الْإِظْلَامِ مُضَاهَاةَ الْيَهُودِ وَمَا لَمْ يُؤَخِّرُوا الْفَجْرَ إِمْحَاقَ النُّجُومِ مُضَاهَاةَ النَّصْرَانِيَّةِ وَمَا لَمْ يَكِلُوا الْجَنَائِزَ إِلَى أَهْلِهَا
حضرت صنابحی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری امت اس وقت تک دین میں مضبوط رہے گی جب تک وہ تین کام نہ کرے (١) جب تک وہ مغرب کی نماز کو اندھیرے کے انتظار میں مؤخر نہ کرے جیسے یہودی کرتے ہیں (٢) جب تک وہ فجر کی نماز کو ستارے غروب ہونے کے انتظار میں مؤخر نہ کرے جیسے عیسائی کرتے ہیں (٣) اور جب تک وہ جنازوں کو ان اہل خانہ کے حوالے نہ کریں۔
18292
Musnad Imam Ahmad
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ إِذَا تَوَضَّأَ الْعَبْدُ فَمَضْمَضَ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ أَنْفِهِ فَإِذَا غَسَلَ وَجْهَهُ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ وَجْهِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَشْفَارِ عَيْنَيْهِ فَإِذَا غَسَلَ يَدَيْهِ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ يَدَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ يَدَيْهِ فَإِذَا مَسَحَ رَأْسَهُ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ رَأْسِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ أُذُنَيْهِ وَإِذَا غَسَلَ رِجْلَيْهِ خَرَجَتْ الْخَطَايَا مِنْ رِجْلَيْهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِ رِجْلَيْهِ ثُمَّ كَانَ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسْجِدِ وَصَلَاتُهُ نَافِلَةً لَهُ
حضرت صنابحی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کلی کرتا اور ناک میں پانی ڈالتا ہے اس کے منہ اور ناک کے گناہ جھڑجاتے ہیں جو چہرے کو دھوتا ہے تو اس کی آنکھوں کی پلکوں کے گناہ تک جھڑ جاتے ہیں جب ہاتھ دھوتا ہے تو ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں جب سر اور کانوں کا مسح کرتا ہے تو سر اور کانوں کے بالوں کے گناہ خارج ہوجاتے ہیں اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے ناخنوں کے نیچے سے گناہ نکل جاتے ہیں پھر مسجد کی طرف اس کے جو قدم اٹھتے ہیں وہ زائد ہوتے ہیں۔
18293
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ أَنَّهُ سَمِعَ قَيْسًا يَقُولُ سَمِعْتُ الصُّنَابِحِيَّ الْأَحْمَسِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَلَا إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأُمَمَ فَلَا تَقْتَتِلُنَّ بَعْدِي
حضرت صنابحی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے یاد رکھو ! میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا اور تمہاری کثرت کے ذریعے دوسری امتوں پر فخر کروں گا لہٰذا میرے بعد ایک دوسرے کو قتل نہ کرنے لگ جانا۔
18294
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا ثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ الصُّنَابِحِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الشَّمْسَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ فَإِذَا طَلَعَتْ قَارَنَهَا فَإِذَا ارْتَفَعَتْ فَارَقَهَا وَيُقَارِنُهَا حِينَ تَسْتَوِي فَإِذَا زَالَتْ فَارَقَهَا فَصَلُّوا غَيْرَ هَذِهِ السَّاعَاتِ الثَّلَاثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ بِحَدِيثِ الشَّمْسِ
حضرت صنابحی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا سورج شیطان کے دوسینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے جب وہ بلند ہوجاتا ہے تو وہ اس سے جدا ہوجاتا ہے جب سورج وسط میں پہنچتا ہے تو پھر اس کے قریب آجاتا ہے اور زوال کے وقت جدا ہوجاتا ہے پھر جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ قریب آجاتا ہے اور غروب کے بعد پھر جدا ہوجاتا ہے اس لئے ان تین اوقات میں نماز مت پڑھا کرو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔