hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

1097. حضرت ابورافع کی حدیثیں

مسند احمد

25971
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْجَارُ أَحَقُّ بِصَقَبِهِ أَوْ سَقَبِهِ
حضرت ابورافع سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا زیادہ حق رکھتا ہے۔
25972
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَسْلَفَ مِنْ رَجُلٍ بَكْرًا فَأَتَتْهُ إِبِلٌ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ أَعْطُوهُ فَقَالُوا لَا نَجِدُ لَهُ إِلَّا رَبَاعِيًا خِيَارًا قَالَ أَعْطُوهُ فَإِنَّ خِيَارَ النَّاسِ أَحْسَنُهُمْ قَضَاءً
حضرت ابورافع سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص سے نبی ﷺ نے ایک اونٹ قرض پر لیا وہ نبی ﷺ کی خدمت میں اپنے اونٹ کا تقاضا کرنے کے لئے آیا، نبی ﷺ نے صحابہ سے فرمایا اس کے اونٹ جتنی عمر کا ایک اونٹ تلاش کرکے لے آؤ ! صحابہ نے تلاش کیا لیکن مطلوبہ عمرکا اونٹ نہ مل سکا، ہر اونٹ اس سے بڑا عمرکا تھا نبی ﷺ نے فرمایا کہ پھر اسے بڑی عمر کا اونٹ ہی دیدو تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو اداء قرض میں سب سے بہترین ہو۔
25973
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي الْحَكَمُ عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَالَ أَلَا تَصْحَبُنِي تُصِيبُ قَالَ قُلْتُ حَتَّى أَذْكُرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّا آلُ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ وَإِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ
حضرت ابورافع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ارقم یا ان کے صاحبزادے میرے پاس سے گزرے انہیں زکوٰۃ کی وصولی کے لئے مقرر کیا گیا تھا، انہوں نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ اے ابورافع ! محمد و آل محمد ﷺ پر زکوٰۃ حرام ہے اور کسی قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
25974
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ لَمَّا وَلَدَتْ فَاطِمَةُ حَسَنًا قَالَتْ أَلَا أَعُقُّ عَنْ ابْنِي بِدَمٍ قَالَ لَا وَلَكِنْ احْلِقِي رَأْسَهُ وَتَصَدَّقِي بِوَزْنِ شَعْرِهِ مِنْ فِضَّةٍ عَلَى الْمَسَاكِينِ وَالْأَوْفَاضِ وَكَانَ الْأَوْفَاضُ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجِينَ فِي الْمَسْجِدِ أَوْ فِي الصُّفَّةِ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ مِنْ الْوَرِقِ عَلَى الْأَوْفَاضِ يَعْنِي أَهْلَ الصُّفَّةِ أَوْ عَلَى الْمَسَاكِينِ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ قَالَتْ فَلَمَّا وَلَدْتُ حُسَيْنًا فَعَلْتُ مِثْلَ ذَلِكَ
حضرت ابورافع سے مروی ہے کہ جب امام حسین کی پیدائش ہوئی تو ان کی والدہ حضرت فاطمہ نے دو مینڈھوں سے ان کا عقیقہ کرنا چاہا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابھی اس کا عقیقہ نہ کرو بلکہ اس کے سرکے بال منڈوا کر اس کے وزن کے برابر چاندی اللہ کے راستے میں صدقہ کردو، پھر حضرت حسین کی پیدائش پر بھی حضرت فاطمہ نے ایسا ہی کیا ( اور عقیقہ نبی ﷺ نے خود کیا) ۔
25975
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُخَوَّلِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَشَعْرُهُ مَعْقُوصٌ
حضرت ابورافع سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مردوں کو بال گوندھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
25976
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ فِي بَعْثٍ مَرَّةً فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِمَيْمُونَةَ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي فِي الْبَعْثِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَسْتَ تُحِبُّ مَا أُحِبُّ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهَا فَذَهَبْتُ فَجِئْتُهُ بِهَا
حضرت ابورافع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی لشکر میں شامل تھا نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا جا کر میرے پاس میمونہ کو بلا کر لاؤ ! میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی میں لشکر میں شامل ہوں۔ نبی ﷺ نے دوبارہ اپنی بات دہرائی میں نے اپنا عذر دوبارہ بیان کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کیا تم اس چیز کو پسند نہیں کرتے جسے میں پسند کرتا ہوں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! نبی ﷺ نے فرمایا جاؤ اور انہیں میرے پاس بلا کرلاؤ، چناچہ میں جا کر انہیں بلالایا۔
25977
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ
حضرت ابورافع سے مروی ہے کہ جب حضرت فاطمہ کے ہاں امام حسین کی پیدائش ہوئی تو میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ نے خود ان کے کان میں اذان دی۔
25978
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ فَاغْتَسَلَ عِنْدَ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُسْلًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ اغْتَسَلْتَ غُسْلًا وَاحِدًا فَقَالَ هَذَا أَطْهَرُ وَأَطْيَبُ
حضرت ابورافع فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ایک ہی دن میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے اور ہر ایک سے فراغت کے بعد غسل فرماتے رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ اگر آپ ایک ہی مرتبہ غسل فرمالیتے (تو کوئی حرج تھا ؟ ) نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ طریقہ زیادہ پاکیزہ عمدہ اور طہارت والا ہے۔
25979
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ طَحْلَاءَ حَدَّثَنَا أَبُو الرِّجَالِ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَقْتُلَ الْكِلَابَ فَخَرَجْتُ أَقْتُلُهَا لَا أَرَى كَلْبًا إِلَّا قَتَلْتُهُ فَإِذَا كَلْبٌ يَدُورُ بِبَيْتٍ فَذَهَبْتُ لِأَقْتُلَهُ فَنَادَانِي إِنْسَانٌ مِنْ جَوْفِ الْبَيْتِ يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا تُرِيدُ أَنْ تَصْنَعَ قَالَ قُلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقْتُلَ هَذَا الْكَلْبَ فَقَالَتْ إِنِّي امْرَأَةٌ مُضَيَّعَةٌ وَإِنَّ هَذَا الْكَلْبَ يَطْرُدُ عَنِّي السَّبُعَ وَيُؤْذِنُنِي بِالْجَائِي فَأْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاذْكُرْ ذَلِكَ لَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَأَمَرَنِي بِقَتْلِهِ
حضرت ابورافع سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے ابورافع مدینہ میں جتنے کتے پائے جاتے ہیں ان سب کو مار ڈالو وہ کہتے ہیں کہ میں نے انصار کی کچھ خواتین کے جنت البقیع میں کچھ درخت دیکھے، ان خواتین کے پاس بھی کتے تھے وہ کہنے لگیں اے ابورافع ! نبی ﷺ نے ہمارے مردوں کو جہاد کے لئے بھیج دیا اللہ کے بعد اب ہماری حفاظت یہ کتے ہی کرتے ہیں اور واللہ کسی کو ہمارے پاس آنے کی ہمت نہیں ہوتی، حتی کہ ہم میں سے کوئی عورت اٹھتی ہے تو یہ کتے اس کے اور لوگوں کے درمیان آڑ بن جاتے ہیں اس لئے آپ یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کردو چناچہ انہوں نے یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کردی، نبی ﷺ نے فرمایا ابورافع تم انہیں قتل کردو، خواتین کی حفاظت اللہ خود کرے گا۔
25980
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ فَإِذَا قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
حضرت ابورافع سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مؤذن کی آواز سنتے تو وہی جملے دہراتے جو وہ کہہ رہا ہوتا تھا، لیکن جب وحی علی الصلوۃ اور حی علی الفلاح پر پہنچتا تو نبی ﷺ لاحول ولا قوۃ الا باللہ کہتے تھے۔