Musnad Imam Ahmad
888. حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی حدیثیں
مسند احمد
21423
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِيسَى بْنِ فَائِدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا أَتَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ مَغْلُولًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُطْلِقُهُ إِلَّا الْعَدْلُ وَمَا مِنْ أَحَدٍ يَتَعَلَّمُ الْقُرْآنَ ثُمَّ نَسِيَهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَجْذَمَ
حضرت سعد بن عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی دس آدمیوں کا امیر رہا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوں گے جنہیں اس کے عدل کے علاوہ کوئی چیز نہیں کھول سکے گی اور جس شخص نے قرآن کریم سیکھا پھر اسے بھول گیا تو وہ اللہ سے کوڑھی بن کر ملے گا۔
21424
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخْبِرْنَا عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ مَاذَا فِيهِ مِنْ الْخَيْرِ قَالَ فِيهِ خَمْسُ خِلَالٍ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ وَفِيهِ هَبَطَ آدَمُ وَفِيهِ تُوُفِّيَ آدَمُ وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يَسْأَلُ اللَّهَ عَبْدٌ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ مَا لَمْ يَسْأَلْ مَأْثَمًا أَوْ قَطِيعَةَ رَحِمٍ وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ مَا مِنْ مَلَكٍ مُقَرَّبٍ وَلَا سَمَاءٍ وَلَا أَرْضٍ وَلَا جِبَالٍ وَلَا حَجَرٍ إِلَّا وَهُوَ يُشْفِقُ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ
حضرت سعد بن عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جمعہ کے دن کے حوالے سے ہمیں یہ بتائیے کہ اس میں کیا خیر رکھی گئی ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کے متعلق پانچ اہم باتیں ہیں اسی دن حضرت آدم کی تخلیق ہوئی اسی دن حضرت آدم (علیہ السلام) جنت سے اتارے گئے اسی دن اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی روح قبض کی، اس دن میں ایک گھڑی ایسی بھی آتی ہے جس میں بندہ اللہ سے جو بھی مانگتا ہے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے بشرطیکہ وہ کسی گناہ یا قطع رحمی کی دعاء نہ کرے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی کوئی مقرب فرشتہ زمین و آسمان پہاڑ اور پتھر ایسا نہیں ہے جو جمعہ کے دن سے ڈرتا نہ ہو۔
21425
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا هَاشِمٌ أَخْبَرَنَا الْمُبَارَكُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى صَدَقَةٍ قَالَ اسْقِ الْمَاءَ
حضرت سعد بن عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ میرے پاس سے گذرے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ مجھے صدقے کا کوئی کام بتائیے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانی پلایا کرو۔
21426
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ فَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ سَقْيُ الْمَاءِ قَالَ فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ
حضرت سعد بن عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ان کی والدہ فوت ہوئیں تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میری والدہ فوت ہوگئی ہیں کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! انہوں نے پوچھا کہ پھر کون سا صدقہ سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانی پلانا، راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں آل سعد کے پانی پلانے کی اصل وجہ یہی ہے۔
21427
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَمْرِو بْنِ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ وَجَدُوا فِي كُتُبِ أَوْ فِي كِتَابِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ
قیس بن سعد کہتے ہیں کہ انہوں نے حضرت سعد بن عبادہ (رض) کی تحریرات میں یہ بات بھی پائی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک گواہ کے ساتھ قسم لے کر فیصلہ فرمایا ہے۔
21428
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ قُمْ عَلَى صَدَقَةِ بَنِي فُلَانٍ وَانْظُرْ لَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَكْرٍ تَحْمِلُهُ عَلَى عَاتِقِكَ أَوْ عَلَى كَاهِلِكَ لَهُ رُغَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اصْرِفْهَا عَنِّي فَصَرَفَهَا عَنْهُ
حضرت سعد بن عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا فلاں قبیلے کے صدقات کی نگرانی اور دیکھ بھال کرو لیکن قیامت کے دن اس حال میں نہ آنا کہ تم اپنے کندھے پر کسی جوان اونٹ کو لادے ہوئے ہو اور وہ چیخ رہا ہو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ پھر یہ ذمہ داری کسی اور کو دے دیجئے چناچہ نبی کریم ﷺ نے یہ ذمے داری ان سے واپس لے لی۔
21429
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُمَيْلَةَ عَنْ رَجُلٍ رَدَّهُ إِلَى سَعِيدٍ الصَّرَّافِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ أَبِيهِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنْ الْأَنْصَارِ مِحْنَةٌ حُبُّهُمْ إِيمَانٌ وَبُغْضُهُمْ نِفَاقٌ
حضرت سعد بن عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا انصار کا یہ قبیلہ ایک آزمائش ہے یعنی ان سے محبت ایمان کی علامت ہے اور ان سے نفرت نفاق کی علامت ہے۔
21430
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عِيسَى بْنِ فَائدٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ غَيْرَ مَرَّةٍ وَلَا مَرَّتَيْنِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَمِيرِ عَشَرَةٍ إِلَّا يُؤْتَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَغْلُولٌ لَا يَفُكُّهُ مِنْ ذَلِكَ الْغُلِّ إِلَّا الْعَدْلُ وَمَا مِنْ رَجُلٍ قَرَأَ الْقُرْآنَ فَنَسِيَهُ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ يَلْقَاهُ وَهُوَ أَجْذَمُ
حضرت سعد بن عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی دس آدمیوں کا امیر رہا وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوں گے جنہیں اس کے عدل کے علاوہ کوئی چیز نہیں کھول سکے گی اور جس شخص نے قرآن کریم سیکھا پھر اسے بھول گیا تو وہ اللہ سے کوڑھی بن کر ملے گا۔
22769
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّ أُمَّهُ مَاتَتْ فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ أَفَأَتَصَدَّقُ عَنْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ سَقْيُ الْمَاءِ قَالَ فَتِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ بِالْمَدِينَةِ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ مَنْ يَقُولُ تِلْكَ سِقَايَةُ آلِ سَعْدٍ قَالَ الْحَسَنُ
حضرت سعد بن عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ان کی والدہ فوت ہوئیں تو انہوں نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میری والدہ فوت ہوگئی ہیں کیا میں ان کی طرف سے صدقہ کرسکتا ہوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں ! انہوں نے پوچھا کہ پھر کون سا صدقہ سب سے افضل ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانی پلانا، راوی کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں آل سعد کے پانی پلانے کی اصل وجہ یہی ہے۔
22770
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ أَبُو دَاوُدَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرٌ أَفَيُجْزِئُ عَنْهَا أَنْ أُعْتِقَ عَنْهَا قَالَ أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ
حضرت سعد بن عبادہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میری والدہ فوت ہوگئی ہیں انہوں نے منت مان رکھی تھی کیا ان کی طرف سے میرا کسی غلام کو آزاد کرنا کفایت کر جائے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کرسکتے ہو۔