Musnad Imam Ahmad
849. حضرت اشعث بن قیس کندی (رض) کی مرویات
مسند احمد
20839
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ هُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ فَقَالَ الْأَشْعَثُ فِيَّ كَانَ وَاللَّهِ ذَلِكَ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنْ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَكَ بَيِّنَةٌ قُلْتُ لَا فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ احْلِفْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَنْ يَحْلِفَ فَذَهَبَ بِمَالِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا اللہ اس سے ناراض ہوگا یہ سن کر حضرت اشعث (رض) فرمانے لگے کہ یہ ارشاد میرے واقعے میں نازل ہوا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ زمین مشترک تھی یہودی میرے حصے کا منکر ہوگا میں اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آیا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں بنی کریم ﷺ نے یہودی سے فرمایا کہ تم قسم کھاؤ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ تو قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، اس پر اللہ نے یہ آیت آخرتک نازل فرمائی کہ " جو لوگ اللہ کے وعدے اور اپنی قسم کو معمولی سی قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں۔۔۔۔
20840
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلْمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَشْكُرُ اللَّهَ مَنْ لَا يَشْكُرُ النَّاسَ
حضرت اشعث بن قیس (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا شکر بھی ادا نہیں کرتا۔
20841
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَقِيلِ بْنِ طَلْحَةَ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ هَيْضَمٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدٍ لَا يَرَوْنَ إِلَّا أَنِّي أَفْضَلُهُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَزْعُمُ أَنَّكُمْ مِنَّا قَالَ نَحْنُ بَنُو النَّضْرِ بْنُ كِنَانَةَ لَا نَقْفُو أُمَّنَا وَلَا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا قَالَ فَكَانَ الْأَشْعَثُ يَقُولُ لَا أُوتَى بِرَجُلٍ نَفَى قُرَيْشًا مِنْ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ إِلَّا جَلَدْتُهُ الْحَدَّ
حضرت اشعث بن قیس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک وفد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جو مجھے اپنے میں سے افضل نہیں سمجھتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارا خیال ہے کہ آپ کا نسب نامہ ہم لوگوں سے ملتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم لوگ نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں ہم اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں اور نہ ہی اپنے باپ سے اپنے نسب کی نفی کرتے ہیں اس کے بعد حضرت اشعث (رض) فرماتے تھے کہ اگر میرے پاس کوئی ایسا آدمی لایا گیا جو قریش کے نسب کی نضر بن کنانہ سے نفی کرتا ہو تو میں اسے کوڑوں کی سزا دوں گا۔
20842
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا مُجَالِدٌ عَنِ الشَّعْبِيِّ حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ كِنْدَةَ فَقَالَ لِي هَلْ لَكَ مِنْ وَلَدٍ قُلْتُ غُلَامٌ وُلِدَ لِي فِي مَخْرَجِي إِلَيْكَ مِنْ ابْنَةِ جَدٍّ وَلَوَدِدْتُ أَنَّ مَكَانَهُ شَبِعَ الْقَوْمُ قَالَ لَا تَقُولَنَّ ذَلِكَ فَإِنَّ فِيهِمْ قُرَّةَ عَيْنٍ وَأَجْرًا إِذَا قُبِضُوا ثُمَّ وَلَئِنْ قُلْتَ ذَاكَ إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ إِنَّهُمْ لَمَجْبَنَةٌ مَحْزَنَةٌ
حضرت اشعث بن قیس (رض) سے مروی ہے کہ میں کندہ کے وفد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہاری کوئی اولاد ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ جب میں آپ کی طرف نکل رہا تھا تو بنت جمد سے میرے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا تھا میری تو خواہش تھی کہ اس کی بجائے لوگ ہی سیراب ہوجاتے تو بہت اچھا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایسے مت کہو کیونکہ اولاد آنکھوں کی ٹھنڈگ ہوتی ہے اور گر فوت ہوجائے تو باعث اجر ہوتی ہے ہاں اگر کچھ کہنا ہی ہے تو یوں کہو کہ اولاد بزدلی کا اور غم کا سبب بن جاتی ہے (یہ جملہ دو مرتبہ فرمایا)
20843
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الطُّفَيْلِ الْبَكَّائِيُّ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرًا يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ وَإِنَّ تَصْدِيقَهَا لَفِي الْقُرْآنِ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ قَالَ فَخَرَجَ الْأَشْعَثُ وَهُوَ يَقْرَؤُهَا قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ إِنَّ رَجُلًا ادَّعَى رَكِيًّا لِي فَاخْتَصَمْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ شَاهِدَاكَ أَوْ يَمِينُهُ فَقُلْتُ أَمَا إِنَّهُ إِنْ حَلَفَ حَلَفَ فَاجِرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرًا يَسْتَحِقُّ بِهَا مَالًا لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیالے وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا اللہ اس سے ناراض ہوگا یہ سن کر حضرت اشعث (رض) فرمانے لگے کہ یہ ارشاد میرے واقعے میں نازل ہوا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ زمین مشترک تھی یہودی میرے حصے کا منکر ہوگا میں اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آیا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں بنی کریم ﷺ نے یہودی سے فرمایا کہ تم قسم کھاؤ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ تو قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، اس پر اللہ نے یہ آیت آخر تک نازل فرمائی کہ " جو لوگ اللہ کے وعدے اور اپنی قسم کو معمولی سی قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں۔۔۔۔
20844
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ دَخَلَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ فَقَالَ مَا يُحَدِّثُكُمْ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَخْبَرُوهُ فَقَالَ أَشْعَثُ صَدَقَ فِيَّ نَزَلَتْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فِي أَرْضٍ فَخَاصَمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَلَكَ بَيِّنَةٌ قُلْتُ لَا قَالَ فَيَمِينُهُ قَالَ قُلْتُ إِذَنْ يَحْلِفَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ فِيهَا فَاجِرٌ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ قَالَ فَنَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیالے وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا اللہ اس سے ناراض ہوگا یہ سن کر حضرت اشعث (رض) فرمانے لگے کہ یہ ارشاد میرے واقعے میں نازل ہوا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ زمین مشترک تھی یہودی میرے حصے کا منکر ہوگا میں اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آیا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں بنی کریم ﷺ نے یہودی سے فرمایا کہ تم قسم کھاؤ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ تو قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، اس پر اللہ نے یہ آیت آخر تک نازل فرمائی کہ " جو لوگ اللہ کے وعدے اور اپنی قسم کو معمولی سی قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں۔۔۔۔
20845
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ كُرْدُوسٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ صَبْرًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ وَهُوَ فِيهَا كَاذِبٌ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ أَجْذَمُ
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیالے وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا اللہ اس سے ناراض ہوگا یہ سن کر حضرت اشعث (رض) فرمانے لگے کہ یہ ارشاد میرے واقعے میں نازل ہوا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ زمین مشترک تھی یہودی میرے حصے کا منکر ہوگا میں اسے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے آیا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں بنی کریم ﷺ نے یہودی سے فرمایا کہ تم قسم کھاؤ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ تو قسم کھا کر میرا مال لے جائے گا، اس پر اللہ نے یہ آیت آخر تک نازل فرمائی کہ " جو لوگ اللہ کے وعدے اور اپنی قسم کو معمولی سی قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں۔۔۔۔
20846
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبًا لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ أَوْ قَالَ أَخِيهِ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ وَأُنْزِلَ تَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي الْقُرْآنِ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا أُولَئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَى عَذَابٌ أَلِيمٌ قَالَ فَلَقِيَنِي الْأَشْعَثُ فَقَالَ مَا حَدَّثَكُمْ عَبْدُ اللَّهِ الْيَوْمَ قَالَ قُلْتُ لَهُ كَذَا وَكَذَا قَالَ فِيَّ أُنْزِلَتْ
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیالے وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا اللہ اس سے ناراض ہوگا۔ اور اس کی تصدیق میں اللہ نے یہ آیت آخر تک نازل فرمائی کہ " جو لوگ اللہ کے وعدے اور اپنی قسم کو معمولی سی قیمت کے عوض بیچ دیتے ہیں۔۔۔ اس کے بعد حضرت اشعث (رض) سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ آج حضرت ابن مسعود (رض) نے تم سے کون سی حدیث بیان کی ؟ میں نے انہیں بتادیا وہ کہنے لگے کہ یہ آیت میرے ہی متعلق نازل ہوئی تھی۔
20847
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي عَقِيلُ بْنُ طَلْحَةَ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَنَا عَقِيلُ بْنُ طَلْحَةَ السُّلَمِيُّ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ هَيْضَمٍ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدٍ مِنْ كِنْدَةَ قَالَ عَفَّانُ لَا يَرَوْنِي إِلَّا أَفْضَلَهُمْ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَزْعُمُ أَنَّكُمْ مِنَّا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْنُ بَنُو النَّضْرِ بْنُ كِنَانَةَ لَا نَقْفُو أُمَّنَا وَلَا نَنْتَفِي مِنْ أَبِينَا قَالَ قَالَ الْأَشْعَثُ فَوَاللَّهِ لَا أَسْمَعُ أَحَدًا نَفَى قُرَيْشًا مِنْ النَّضْرِ بْنِ كِنَانَةَ إِلَّا جَلَدْتُهُ الْحَدَّ
حضرت اشعث بن قیس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک وفد کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جو مجھے اپنے میں سے افضل نہیں سمجھتے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارا خیال ہے کہ آپ کا نسب نامہ ہم لوگوں سے ملتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم لوگ نضر بن کنانہ کی اولاد ہیں ہم اپنی ماں پر تہمت لگاتے ہیں اور نہ ہی اپنے باپ سے اپنے نسب کی نفی کرتے ہیں اس کے بعد حضرت اشعث (رض) فرماتے تھے کہ اگر میرے پاس کوئی ایسا آدمی لایا گیا جو قریش کے نسب کی نضر بن کنانہ سے نفی کرتا ہو تو میں اسے کوڑوں کی سزا دوں گا۔
20848
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَشْكَرَ النَّاسِ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَشْكَرُهُمْ لِلنَّاسِ
حضرت اشعث (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کا سب سے زیادہ شکر گذار بندہ وہی ہے ہوتا ہے جو لوگوں کا سب سے زیادہ شکریہ ادا کرتا ہے