hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

411. حضرت شداد بن اوس (رض) کی مرویات

مسند احمد

16490
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَيِّدُ الِاسْتِغْفَارِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ أَبُوءُ لَكَ بِالنِّعْمَةِ وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ قَالَ إِنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُصْبِحُ مُوقِنًا بِهَا ثُمَّ مَاتَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ قَالَهَا بَعْدَمَا يُمْسِي مُوقِنًا بِهَا ثُمَّ مَاتَ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا سیدالاستغفار یہ ہے کہ انسان یوں کہے اے الہ ! آپ میرے رب ہیں، آپ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، آپ نے مجھے پیدا کیا ہے، میں آپ کا بندہ ہوں اور اپنے عہد اور وعدے پر حسب امکان قائم ہوں، میں آپ کے احسانات کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرتا ہوں، مجھے بخش دیجئے کیونکہ آپ کے علاوہ کوئی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی شخص صبح کے وقت یہ کلمات دلی یقین کے ساتھ کہہ لے اور اسی دن فوت ہوجائے تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا اور اگر کوئی شخص شام کے وقت یہ کلمات دلی یقین کے ساتھ کہہ لے اور اسی شام فوت ہوجائے تو وہ اہل جنت میں سے ہوگا۔
16491
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّهُ مَرَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْفَتْحِ عَلَى رَجُلٍ يَحْتَجِمُ بِالْبَقِيعِ لِثَمَانِ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي فَقَالَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی ماہ رمضان کی اٹھارویں رات کو سینگی لگا رہا تھا کہ نبی ﷺ اس کے پاس سے مقام بقیع میں گذرے، اس وقت نبی ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، اسے اس حال میں دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا سینگی لگانے والا اور لگوانے والا دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
16492
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ ثِنْتَانِ حَفِظْتُهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے دو چیزیں نبی ﷺ سے یاد کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر مہربانی کرنے کا حکم لکھ دیا ہے، اس لئے جب تم میدان جنگ میں کسی کو قتل کرو تو بھلے طریقے سے کرو اور جب کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تمہیں اپنی چھری تیز اور اپنے جانور کو آرام پہنچانا چاہئے۔
16493
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ قَالَ كَانَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ فِي سَفَرٍ فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ لِغُلَامِهِ ائْتِنَا بِالشَّفْرَةِ نَعْبَثْ بِهَا فَأَنْكَرْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ مَا تَكَلَّمْتُ بِكَلِمَةٍ مُنْذُ أَسْلَمْتُ إِلَّا وَأَنَا أَخْطِمُهَا وَأَزُمُّهَا إِلَّا كَلِمَتِي هَذِهِ فَلَا تَحْفَظُوهَا عَلَيَّ وَاحْفَظُوا مِنِّي مَا أَقُولُ لَكُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا كَنَزَ النَّاسُ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ فَاكْنِزُوا هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الثَّبَاتَ فِي الْأَمْرِ وَالْعَزِيمَةَ عَلَى الرُّشْدِ وَأَسْأَلُكَ شُكْرَ نِعْمَتِكَ وَأَسْأَلُكَ حُسْنَ عِبَادَتِكَ وَأَسْأَلُكَ قَلْبًا سَلِيمًا وَأَسْأَلُكَ لِسَانًا صَادِقًا وَأَسْأَلُكَ مِنْ خَيْرِ مَا تَعْلَمُ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا تَعْلَمُ وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا تَعْلَمُ إِنَّكَ أَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
حسان بن عطیہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت شداد بن اوس (رض) ایک سفر میں تھے، ایک جگہ پڑاؤ کیا تو اپنے غلام سے کہنے لگے کہ چھری لے کر آؤ، میں نے اس پر تعجب کا اظہار کیا تو وہ کہنے لگے کہ میں نے جب سے اسلام قبول کیا ہے اس وقت سے میں اپنی زبان کو لگام دے کر بات کرتا، لیکن یہ جملہ آج میرے منہ سے نکل گیا ہے، اسے یاد نہ رکھنا اور جو میں اب بات کرنے لگا ہوں، اسے یاد رکھو، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس وقت لوگ سونے چاندی کے خزانے جمع کر رہے ہوں، تم ان کلمات کا خزانہ جمع کرنا، اے اللہ ! میں آپ سے دین میں ثابت قدمی، ہدایت پر رہوں، نیز آپ جن چیزوں کو جانتے ہیں ان کی خیر مانگتا ہوں اور ان کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور ان تمام گناہوں سے معافی مانگتا ہوں جو آپ کے علم میں ہیں، کیونکہ آپ ہی علام الغیوب ہیں۔
16494
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ مَعْمَرٌ أَخْبَرَنِي أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ زَوَى لِي الْأَرْضَ حَتَّى رَأَيْتُ مَشَارِقَهَا وَمَغَارِبَهَا وَإِنَّ مُلْكَ أُمَّتِي سَيَبْلُغُ مَا زُوِيَ لِي مِنْهَا وَإِنِّي أُعْطِيتُ الْكَنْزَيْنِ الْأَبْيَضَ وَالْأَحْمَرَ وَإِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ لَا يُهْلِكُ أُمَّتِي بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَأَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا فَيُهْلِكَهُمْ بِعَامَّةٍ وَأَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَلَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي إِذَا قَضَيْتُ قَضَاءً فَإِنَّهُ لَا يُرَدُّ وَإِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُكَ لِأُمَّتِكَ أَنْ لَا أُهْلِكَهُمْ بِسَنَةٍ بِعَامَّةٍ وَلَا أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِمَّنْ سِوَاهُمْ فَيُهْلِكُوهُمْ بِعَامَّةٍ حَتَّى يَكُونَ بَعْضُهُمْ يُهْلِكُ بَعْضًا وَبَعْضُهُمْ يَقْتُلُ بَعْضًا وَبَعْضُهُمْ يَسْبِي بَعْضًا
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرے لئے زمین کو سمیٹ دیا حتی کہ میں نے اس کے مشرق ومغرب سب کو دیکھ لیا اور میری امت کی حکومت وہاں تک پہنچ کر رہے گی جہاں تک کی زمین میرے لئے سمیٹی گئی تھی، مجھے سفید اور سرخ دو خزانے دیئے گئے ہیں، میں نے اپنے پروردگار سے درخواست کی ہے کہ وہ میری امت کو عام قحط سے ہلاک نہ کرے، کسی ایسے دشمن کو ان پر مسلط نہ کرے جو انہیں مکمل تباہ و برباد کرے اور انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے سے مزہ نہ چکھائے تو پروردگار عالم نے فرمایا اے محمد ! ﷺ میں ایک فیصلہ کرچکا ہوں، جسے ٹالا نہیں جاسکتا، میں آپ کی امت کے حق میں یہ درخواست قبول کرتا ہوں کہ انہیں عام قحط سے ہلاک نہ کروں گا اور ان پر کسی ایسے دشمن کو مسلط نہیں کروں گا جو ان سب کو مکمل تباہ و برباد کر دے، بلکہ وہ خود ہی ایک دوسرے کو ہلاک اور قتل کریں گے اور ایک دوسرے کو قید کریں گے۔
16495
Musnad Imam Ahmad
قَالَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنِّي لَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي إِلَّا الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ فَإِذَا وُضِعَ السَّيْفُ فِي أُمَّتِي لَمْ يُرْفَعْ عَنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
اور نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اپنی امت پر گمراہ کرنے والے ائمہ سے خوف آتا ہے، جب میری امت میں ایک مرتبہ تلوار رکھ دی جائے گی (جنگ چھڑ جائے گی) تو قیامت تک اٹھائی نہیں جائے گی۔
16496
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اثْنَتَيْنِ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذَّبْحَ وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ ثُمَّ لِيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے دو چیزیں نبی ﷺ سے یاد کی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر مہربانی کرنے کا حکم لکھ دیا ہے، اس لئے جب تم میدان جنگ میں کسی کو قتل کرو تو بھلے طریقے سے کرو اور جب کسی جانور کو ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو اور تمہیں اپنی چھری تیز اور اپنے جانور کو آرام پہنچانا چاہئے۔
16497
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سینگی لگانے والے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔
16498
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ رَاشِدِ بْنِ دَاوُدَ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ أَنَّهُ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ دِمَشْقَ وَهَجَّرَ بِالرَّوَاحِ فَلَقِيَ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ وَالصُّنَابِحِيُّ مَعَهُ فَقُلْتُ أَيْنَ تُرِيدَانِ يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ قَالَا نُرِيدُ هَاهُنَا إِلَى أَخٍ لَنَا مَرِيضٍ نَعُودُهُ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ فَقَالَا لَهُ كَيْفَ أَصْبَحْتَ قَالَ أَصْبَحْتُ بِنِعْمَةٍ فَقَالَ لَهُ شَدَّادٌ أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَايَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ إِنِّي إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ فَإِنَّهُ يَقُومُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ مِنْ الْخَطَايَا وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي وَابْتَلَيْتُهُ وَأَجْرُوا لَهُ كَمَا كُنْتُمْ تُجْرُونَ لَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ
ابواشعث کہتے ہیں کہ وہ دوپہر کے وقت مسجد دمشق کی جانب روانہ ہوئے، راستے میں حضرت شداد بن اوس (رض) سے ملاقات ہوگئی، ان کے ساتھ صنابحی بھی تھے، میں نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے، کہاں کا ارادہ ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں ایک بھائی بیمار ہے، اس کی عیادت کے لئے جا رہے ہیں، چناچہ میں بھی ان کے ساتھ چل پڑا، جب وہ دونوں اس کے پاس پہنچے تو اس سے پوچھا کہ کیا حال ہے ؟ اس نے بتایا کہ ٹھیک ہوں، حضرت شداد (رض) نے فرمایا تمہیں بشارت ہو کہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہوچکا اور گناہ معاف ہوچکے کیونکہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب میں اپنے بندوں میں سے کسی مومن بندے کو آزماتا ہوں اور وہ اس آزمائش پر بھی میری تعریف کرتا ہے تو جب وہ اپنے بستر سے اٹھتا ہے وہ اپنے گناہوں سے اس دن کی طرح پاک صاف ہوتا ہے جس دن اسے اس کی ماں نے جنم دیا تھا اور پروردگار فرماتا ہے کہ میں نے اپنے بندے کو قید کیا اور اسے آزمایا، لہذا تم اس کے لئے ان تمام کاموں کا اجروثواب لکھو جو وہ تندرستی کی حالت میں کرتا تھا۔
16499
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ الرَّحَبِيِّ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ مَرَرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَمَانِ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ فَأَبْصَرَ رَجُلًا يَحْتَجِمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ
حضرت شداد بن اوس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی ماہ رمضان کی اٹھارویں رات کو سینگی لگا رہا تھا کہ نبی ﷺ اس کے پاس سے مقام بقیع میں گذرے، اس وقت نبی ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، اسے اس حال میں دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا سینگی لگانے والا اور لگوانے والا دونوں کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔