Musnad Imam Ahmad
971. حضرت سلمان فارسی (رض) کی مرویات
مسند احمد
22594
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ بَعْضُ الْمُشْرِكِينَ وَهُمْ يَسْتَهْزِئُونَ بِهِ إِنِّي لَأَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى الْخِرَاءَةِ قَالَ سَلْمَانُ أَجَلْ أَمَرَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا وَلَا نَكْتَفِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ لَيْسَ فِيهَا رَجِيعٌ وَلَا عَظْمٌ
حضرت سلمان فارسی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی (رض) نے فرمایا کہ ہاں ! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔
22595
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ قَالَ عَبْد اللَّهِ و حَدَّثَنَاه عَلِيُّ بْنُ حَكِيمٍ أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ
حضرت سلمان فارسی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے لئے ہدیہ قبول فرما لیتے تھے لیکن صدقہ قبول نہیں فرماتے تھے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
22596
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ إِنِّي لَأَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ كَيْفَ تَصْنَعُونَ حَتَّى إِنَّهُ لَيُعَلِّمُكُمْ إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ الْغَائِطَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ أَجَلْ وَلَوْ سَخِرْتَ إِنَّهُ لَيُعَلِّمُنَا كَيْفَ يَأْتِي أَحَدُنَا الْغَائِطَ وَإِنَّهُ يَنْهَانَا أَنْ يَسْتَقْبِلَ أَحَدُنَا الْقِبْلَةَ وَأَنْ يَسْتَدْبِرَهَا وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ وَأَنْ يَتَمَسَّحَ أَحَدُنَا بِرَجِيعٍ وَلَا عَظْمٍ وَأَنْ يَسْتَنْجِيَ بِأَقَلَّ مِنْ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ
حضرت سلمان فارسی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی (رض) نے فرمایا کہ ہاں ! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔
22597
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ الْمَاصِرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي قُرَّةَ قَالَ كَانَ حُذَيْفَةُ بِالْمَدَائِنِ فَكَانَ يَذْكُرُ أَشْيَاءَ قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حُذَيْفَةُ إِلَى سَلْمَانَ فَيَقُولُ سَلْمَانُ يَا حُذَيْفَةُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَغْضَبُ فَيَقُولُ وَيَرْضَى وَيَقُولُ لَقَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فَقَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي سَبَبْتُهُ سَبَّةً فِي غَضَبِي أَوْ لَعَنْتُهُ لَعْنَةً فَإِنَّمَا أَنَا مِنْ وَلَدِ آدَمَ أَغْضَبُ كَمَا يَغْضَبُونَ وَإِنَّمَا بَعَثَنِي رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ فَاجْعَلْهَا صَلَاةً عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
عمرو بن قرہ (رح) کہتے ہیں کہ حضرت حذیفہ (رض) مدائن شہر میں رہتے تھے اور کچھ باتیں ذکر کرتے تھے جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی تھیں ایک دن حضرت حذیفہ (رض) حضرت سلمان فارسی (رض) کے پاس آئے حضرت سلمان فارسی (رض) نے ان سے فرمایا کہ حذیفہ ! نبی کریم ﷺ بعض اوقات غصے میں کچھ باتیں کہتے تھے اور کچھ باتیں خوشی کی حالت میں کہتے تھے میں جانتا ہوں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ میں نے اپنے جس امتی کو غصے کی حالت میں سخت سست کہا ہو یا اسے لعنت ملامت کی ہو تو میں بھی اولاد آدم میں سے ہوں اور جس طرح عام لوگوں کو غصہ آتا ہے مجھے بھی آتا ہے اور اللہ نے مجھے رحمتہ للعالمین بنایا ہے اے اللہ ! میرے ان کلمات کو قیامت کے دن اس شخص کے لئے باعث رحمت بنا دیجئے گا۔
22598
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ كُنْتُ مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ تَحْتَ شَجَرَةٍ وَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا عُثْمَانَ أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا قُلْتُ وَلِمَ تَفْعَلُهُ فَقَالَ هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَأَخَذَ مِنْهَا غُصْنًا يَابِسًا فَهَزَّهُ حَتَّى تَحَاتَّ وَرَقُهُ فَقَالَ يَا سَلْمَانُ أَلَا تَسْأَلُنِي لِمَ أَفْعَلُ هَذَا فَقُلْتُ وَلِمَ تَفْعَلُهُ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ تَحَاتَّتْ خَطَايَاهُ كَمَا يَتَحَاتُّ هَذَا الْوَرَقُ وَقَالَ وَأَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ
ابوعثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت سلمان فارسی (رض) کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا انہوں نے اس کی ایک خشک ٹہنی کو پکڑ کر اسے ہلایا تو اس کے پتے گرنے لگے پھر انہوں نے فرمایا کہ اے ابو عثمان ! تم مجھ سے یہ کیوں نہیں پوچھتے کہ میں نے ایسا کیوں کیا ؟ میں نے کہا کہ آپ نے ایسا کیوں کیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھا تو نبی کریم ﷺ نے میرے ساتھ بھی اسی طرح کیا تھا اور یہی سوال و جواب ہوئے تھے جس کے بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب کوئی مسلمان خوب اچھی طرح وضو کرے اور پانچوں نمازیں پڑھے تو اس کے گناہ اسی طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے جھڑ رہے ہیں پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ " واقم الصلاۃ طرفی النھار وزلفا من اللیل ان الحسنات یذہبن السئیات ذلک ذکرٰی للذاکرین "
22599
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ وَالْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ قَالَ لَهُ الْمُشْرِكُونَ إِنَّا نَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمْ الْخِرَاءَةَ قَالَ أَجَلْ إِنَّهُ يَنْهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ أَوْ يَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَيَنْهَانَا عَنْ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ وَقَالَ لَا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِكِينَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَّمَكُمْ هَذَا كُلَّ شَيْءٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت سلمان فارسی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی (رض) نے فرمایا کہ ہاں ! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
22600
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ وَدِيعَةَ عَنْ سَلْمَانَ الْخَيْرِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ ثُمَّ يَرُوحُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ يُصَلِّي مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ ثُمَّ يُنْصِتُ لِلْإِمَامِ إِذَا تَكَلَّمَ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى
حضرت سلمان فارسی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے حسب استطاعت پاکیزگی حاصل کرے، تیل لگائے اپنے گھر کی خوشبو لگائے پھر مسجد کی طرف روانہ ہو تو کسی دو آدمیوں کے درمیان تفرق پیدا نہ کرے حسب استطاعت نماز پڑھے جب امام گفتگو کر رہا ہو تو خاموشی اختیار کرے تو اگلے جمعہ تک اس کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔
22601
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ لَمَّا احْتُضِرَ سَلْمَانُ بَكَى وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا عَهْدًا فَتَرَكْنَا مَا عَهِدَ إِلَيْنَا أَنْ يَكُونَ بُلْغَةُ أَحَدِنَا مِنْ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ قَالَ ثُمَّ نَظَرْنَا فِيمَا تَرَكَ فَإِذَا قِيمَةُ مَا تَرَكَ بِضْعَةٌ وَعِشْرُونَ دِرْهَمًا أَوْ بِضْعَةٌ وَثَلَاثُونَ دِرْهَمًا
حضرت سلمان فارسی (رض) کا جب وقت آخر قریب آیا تو وہ رونے لگے اور فرمانے لگے کہ نبی کریم ﷺ نے ہم سے ایک عہد لیا تھا اور اسی عہد پر ہمیں چھوڑا تھا کہ دنیا میں زیادہ سے زیادہ سامان ہمارے پاس ایک مسافر کے توشے جتنا ہونا چاہئے راوی کہتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی (رض) کے وصال کے بعد جب ہم نے ان کے ترکے کا جائزہ لیا تو اس تمام ترکے کی قیمت صرف بیس یا تیس سے کچھ اوپر درہم تھے۔
22602
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي قُرَّةَ الْكِنْدِيِّ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ كُنْتُ مِنْ أَبْنَاءِ أَسَاوِرَةِ فَارِسَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَانْطَلَقْتُ تَرْفَعُنِي أَرْضٌ وَتَخْفِضُنِي أُخْرَى حَتَّى مَرَرْتُ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْأَعْرَابِ فَاسْتَعْبَدُونِي فَبَاعُونِي حَتَّى اشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ فَسَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الْعَيْشُ عَزِيزًا فَقُلْتُ لَهَا هَبِي لِي يَوْمًا فَقَالَتْ نَعَمْ فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا فَبِعْتُهُ فَصَنَعْتُ طَعَامًا فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا فَقُلْتُ صَدَقَةٌ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ كُلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ قُلْتُ هَذِهِ مِنْ عَلَامَاتِهِ ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ فَقُلْتُ لِمَوْلَاتِي هَبِي لِي يَوْمًا قَالَتْ نَعَمْ فَانْطَلَقْتُ فَاحْتَطَبْتُ حَطَبًا بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَنَعْتُ طَعَامًا فَأَتَيْتُهُ بِهِ وَهُوَ جَالِسٌ بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مَا هَذَا قُلْتُ هَدِيَّةٌ فَوَضَعَ يَدَهُ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ خُذُوا بِسْمِ اللَّهِ وَقُمْتُ خَلْفَهُ فَوَضَعَ رِدَاءَهُ فَإِذَا خَاتَمُ النُّبُوَّةِ فَقُلْتُ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ وَمَا ذَاكَ فَحَدَّثْتُهُ عَنْ الرَّجُلِ وَقُلْتُ أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّهُ حَدَّثَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ فَقَالَ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّكَ نَبِيٌّ أَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَالَ لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ
حضرت سلمان فارسی (رض) سے مروی ہے کہ ہم فارس کے سرداروں کی اولاد میں سے تھے۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کرتے ہوئے (جو عنقریب ٢٤١٣٨ پر آیا چاہتی ہے) فرمایا کہ میں زمین کے نشیب و فراز طے کرتے ہوا چلتا رہا یہاں تک کہ دیہاتیوں کی ایک قوم پر میرا گذر ہوا تو انہوں نے مجھے غلام بنا کر بیچ ڈالا اور مجھے ایک عورت نے خرید لیا میں نے ان لوگوں کو نبی کریم ﷺ کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا لیکن اس وقت تک زندگی تلخ ہوچکی تھی میں نے اپنی مالکہ سے کہا کہ مجھے ایک دن کی چھٹی دے دے اس نے مجھے چھٹی دے دی۔ میں وہاں سے روانہ ہوا کچھ لکڑیاں کاٹیں اور انہیں بیچ کر کھانا تیار کیا اور اسے لے کر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا نبی کریم ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ یہ صدقہ ہے نبی کریم ﷺ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ تم لوگ ہی کھالو نبی کریم ﷺ نے اسے تناول نہ فرمایا میں نے سوچا کہ یہ ایک علامت ہے (جو پوری ہوگئی) پھر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک مرتبہ دوبارہ میں نے اپنی مالکہ سے ایک دن کی چھٹی مانگی جو اس نے مجھے دے دی میں نے حسب سابق لکڑیاں کاٹ کر بیچ کر کھانا تیار کیا اور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی کریم ﷺ اپنے ساتھیوں کے درمیان بیٹھے ہوئے تھے میں نے وہ کھانا نبی کریم ﷺ کے سامنے لے جا کر رکھ دیا نبی کریم ﷺ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا یہ ہدیہ ہے نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور صحابہ (رض) سے بھی فرمایا کہ کھاؤ اللہ کے نام سے۔ پھر میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے جا کر کھڑا ہوگیا نبی کریم ﷺ نے اپنی چادر ہٹا دی تو وہاں مہر نبوت نظر آگئی میں نے اسے دیکھتے ہی کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ کیا معاملہ ہے ؟ میں نے نبی کریم ﷺ کو اس آدمی کے متعلق بتایا اور پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ کیا وہ آدمی جنت میں جائے گا کیونکہ اس نے ہی مجھے بتایا تھا کہ آپ اللہ کے نبی ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جنت میں صرف وہی آدمی جائے گا جو مسلمان ہوگا میں نے پھر اپنا سوال دہرایا نبی کریم ﷺ نے پھر وہی جواب دیا۔
22603
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّ هَذَا لَيُعَلِّمُكُمْ حَتَّى إِنَّهُ لَيُعَلِّمُكُمْ الْخِرَاءَةَ قَالَ قُلْتُ لَئِنْ قُلْتُمْ ذَاكَ لَقَدْ نَهَانَا أَنْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ أَوْ نَسْتَدْبِرَهَا أَوْ نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا أَوْ يَكْتَفِيَ أَحَدُنَا بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ أَوْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِرَجِيعٍ أَوْ عَظْمٍ
حضرت سلمان فارسی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ مشرکین نے نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمہارے پیغمبر تمہیں قضائے حاجت تک کا طریقہ سکھاتے ہیں، حضرت سلمان فارسی (رض) نے فرمایا کہ ہاں ! وہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم قبلہ کی جانب اس وقت رخ نہ کیا کریں دائیں ہاتھ سے استنجاء نہ کیا کریں اور تین پتھروں سے کم پر اکتفاء نہ کریں جن میں لید ہو اور نہ ہڈی۔