hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

844. حضرت زید بن ثابت (رض) کی مرویات

مسند احمد

20598
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الرِّجَالِ عَنْ شُرَحْبِيلَ قَالَ أَخَذْتُ نُهَسًا بِالْأَسْوَافِ فَأَخَذَهُ مِنِّي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَأَرْسَلَهُ وَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا
شرجیل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے بازار میں لٹورے کی طرح کا ایک پرندہ پکڑ لیا، حضرت زید بن ثابت (رض) نے دیکھا تو اسے میرے ہاتھ سے لے کر چھوڑ دیا ( اور وہ اڑ گیا) اور فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مدینہ منورہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی جگہ کو حرام قرار دیا ہے۔
20599
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قَالَ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا كَيْلًا
حضرت زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔
20600
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الرُّكَيْنِ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ
حضرت زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم میں اپنے دو نائب چھوڑ کر جارہا ہوں، ایک تو کتاب اللہ ہے جو کہ آسمان و زمین کے درمیان لٹکی ہوئی رسی ہے اور دوسری چیز میرے اہل بیت ہیں اور یہ دونوں چیزیں کبھی جدا نہیں ہونگی یہاں تک کہ میرے پاس حوض کوثر پر آپہنچیں۔
20601
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَحَدَّثَهُ حَدِيثًا فَأَمَرَ إِنْسَانًا أَنْ يَكْتُبَ فَقَالَ زَيْدٌ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ نَكْتُبَ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ فَمَحَاهُ
ایک مرتبہ حضرت زید بن ثابت (رض) ملاقات کے لئے حضرت امیر معاویہ (رض) کے پاس گئے تو ان سے کوئی حدیث بیان کی، حضرت امیر معاویہ (رض) نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ اسے لکھ لے لیکن حضرت زید (رض) نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی کوئی حدیث بھی لکھنے سے منع فرمایا ہے چناچہ انہوں نے اسے مٹا دیا۔
20602
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ تَمَارَوْا فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَأَرْسَلُوا إِلَى خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ قَالَ أَبِي قَامَ أَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ فَقَدْ أَعْلَمُ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ إِلَّا لِقِرَاءَةٍ فَأَنَا أَفْعَلُ
مطلب بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں کے درمیان نماز ظہر و عصر میں قرأت کے متعلق اختلاف رائے ہونے لگا تو انہوں نے خارجہ بن زید (رح) کے پاس ایک آدمی کو یہ مسئلہ معلوم کرنے کے لئے بھیجا، انہوں نے اپنے والد کے حوالے سے بتایا کہ نبی کریم ﷺ طویل قیام فرماتے تھے اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے رہتے تھے میں تو یہی سمجھتا ہوں کہ ایسا قراءت ہی کی وجہ سے ہوسکتا ہے اس لئے میں بھی قراءت کرتا ہوں۔
20603
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخَرْصِهَا وَلَمْ يُرَخِّصْ فِي غَيْرِ ذَلِكَ
حضرت زید بن ثابت سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔
20604
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ يُحَدِّثُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ فَصَلَّى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَالِيَ حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ مَا زَالَ بِكُمْ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ
حضرت زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مسجد میں چٹائی سے ایک خیمہ بنایا اور اس میں کئی راتیں نماز پڑھتے رہے حتٰی کہ لوگ بھی جمع ہونے لگے کچھ دنوں کے بعد نبی کریم ﷺ کی آواز نہ آئی تو لوگوں کا خیال ہوا کہ شاید نبی کریم ﷺ سوگئے اس لئے کچھ لوگ اس کے قریب جا کر کھانسنے لگے تاکہ نبی کریم ﷺ باہر آجائیں، نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں مسلسل تمہارا یہ عمل دیکھ رہا تھا حتٰی کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں تم پر یہ نماز (تہجد) فرض نہ ہوجائے، کیونکہ اگر یہ نماز تم پر فرض ہوگئی تو تم اس کی پابندی نہ کرسکو گے اس لئے لوگو ! اپنے اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو کیونکہ فرض نمازوں کو چھوڑ کر دوسری نمازیں گھر میں پڑھنا انسان کے لئے سب سے افضل ہے۔
20605
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا
حضرت زید بن ثابت سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " بیع عرایا " میں اس بات کی اجازت دی ہے کہ اسے اندازے سے ناپ کر بیچ دیا جائے۔ فائدہ۔ بیع عرایا کی وضاحت کے لئے حدیث نمبر (٤٤٩٠) ملاحظہ کیجئے۔
20606
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فَأَخْبَرَهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا
حضرت زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو کٹی ہوئی کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے تو حضرت زید بن ثابت (رض) نے انہیں بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے " عرایا " میں اس کی اجازت دے دی ہے۔
20607
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ تَسَحَّرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ قُلْتُ كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا قَالَ قَدْرُ مَا يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِينَ آيَةً
حضرت زید بن ثابت (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم، ﷺ کے ہمراہ سحری کھائی پھر ہم مسجد کی طرف نکلے تو نماز کھڑی ہوگئی، راوی نے پوچھا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا وقفہ تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ جتنی دیر میں آدمی پچاس آیتیں پڑھ لیتا ہے۔