hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

610. حضرت عطیہ قرظی (رض) کی حدیث

مسند احمد

18029
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيَّ يَقُولُ عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَكَانَ مَنْ أَنْبَتَ قُتِلَ وَلَمْ يُنْبِتْ خُلِّيَ سَبِيلُهُ فَكُنْتُ فِيمَنْ لَمْ يُنْبِتْ فَخُلِّيَ سَبِيلِي
حضرت عطیہ قرظی (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ بنوقریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیر ناف بال نہیں اگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔
18610
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَشَكُّوا فِيَّ فَأَمَرَ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيَّ هَلْ أَنْبَتُّ بَعْدُ فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَخَلَّى عَنِّي وَأَلْحَقَنِي بِالسَّبْيِ
حضرت عطیہ قرظی (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیر ناف بال نہیں اگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے لہٰذا مجھے چھوڑ دیا گیا۔
18611
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنَّهُ سَمِعَ عَطِيَّةَ يَقُولُ كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدٌ فِيهِمْ غُلَامًا فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ
حضرت عطیہ (رض) کہتے ہیں کہ جس دن حضرت سعد (رض) نے بنو قریظہ کے متعلق فیصلہ فرمایا ہے میں ایک چھوٹا لڑکا تھا، انہوں نے میرے زیر ناف بال اگے ہوئے نہیں پائے اسی وجہ سے آج میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔