hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

433. حضرت عقبہ بن عامر جہنی (رض) کی مرویات

مسند احمد

16655
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أُخْتَ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ مَاشِيَةً فَسَأَلَ عُقْبَةُ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ فَظَنَّ أَنَّهُ لَمْ يَفْهَمْ عَنْهُ فَلَمَّا خَلَا مَنْ كَانَ عِنْدَهُ عَادَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْكَبْ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِيبِ أُخْتِكَ نَفْسَهَا لَغَنِيٌّ
عبداللہ بن مالک (رح) سے مروی ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر (رض) کی ہمشیرہ نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، حضرت عقبہ (رض) نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا اسے حکم دو کہ وہ سوار ہو کر جائے، عقبہ (رض) سمجھے کہ شاید نبی ﷺ بات کو مکمل طور پر سمجھ نہیں سکے، اس لئے ایک مرتبہ پھر خلوت ہونے کے بعد اپنا سوال دہرایا، لیکن نبی ﷺ نے حسب سابق وہی حکم دیا اور فرمایا کہ تمہاری ہمشیرہ کے اپنے آپ کو عذاب میں مبتلا کرنے سے اللہ غنی ہے۔
16656
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا عُهْدَةَ بَعْدَ أَرْبَعٍ
حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا چار دن کے بعد بائع (بچنے والا) کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی۔
16657
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَعَلَيْهِ فَرُّوجُ حَرِيرٍ وَهُوَ الْقَبَاءُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ نَزَعَهُ نَزْعًا عَنِيفًا وَقَالَ إِنَّ هَذَا لَا يَنْبَغِي لِلْمُتَّقِينَ
حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، اس وقت آپ ﷺ نے ایک ریشمی قبا پہن رکھی تھی، نماز سے فارغ ہو کر نبی ﷺ نے اسے بےچینی سے اتارا اور فرمایا متقیوں کے لئے یہ لباس شایان شان نہیں ہے۔
16658
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ التُّجِيبِيِّ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ صَاحِبُ مَكْسٍ يَعْنِي الْعَشَّارَ
حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ٹیکس وصول کرنے میں ظلم کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
16659
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي رَاكِبٌ غَدًا إِلَى يَهُودَ فَلَا تَبْدَءُوهُمْ بِالسَّلَامِ فَإِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ خَالَفَهُ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ لَهِيعَةَ قَالَا عَنْ أَبِي بَصْرَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَبُو بَصْرَةَ يَعْنِي فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ
حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کل میں سوار ہو کر یہودیوں کے یہاں جاؤں گا، لہذا تم انہیں ابتداء میں سلام نہ کرنا اور جب وہ تمہیں سلام کریں تو تم صرف وعلیکم کہنا۔ عبدالحمید بن جعر اور ابن لہیعہ نے مذکورہ حدیث میں ابوعبدالرحمن کی بجائے ابوبصرہ کا نام لیا ہے۔ گذشتہ حدیث ابوعاصم سے بھی مروی ہے، امام احمد (رح) کے صاحبزادے کہتے ہیں کہ مراد اس سے حضرت عقبہ بن عامر (رض) ہیں۔
16660
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جَابِرٍ عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ بَيْنَا أَنَا أَقُودُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَقَبٍ مِنْ تِلْكَ النِّقَابِ إِذْ قَالَ لِي يَا عُقْبَةُ أَلَا تَرْكَبُ قَالَ فَأَجْلَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَرْكَبَ مَرْكَبَهُ ثُمَّ قَالَ يَا عُقَيْبُ أَلَا تَرْكَبُ قَالَ فَأَشْفَقْتُ أَنْ تَكُونَ مَعْصِيَةً قَالَ فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْتُ هُنَيَّةً ثُمَّ رَكِبَ ثُمَّ قَالَ يَا عُقَيْبُ أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَتَيْنِ مِنْ خَيْرِ سُورَتَيْنِ قَرَأَ بِهِمَا النَّاسُ قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَأَقْرَأَنِي قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ ثُمَّ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ بِهِمَا ثُمَّ مَرَّ بِي قَالَ كَيْفَ رَأَيْتَ يَا عُقَيْبُ اقْرَأْ بِهِمَا كُلَّمَا نِمْتَ وَكُلَّمَا قُمْتَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ هُوَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرِ بْنِ عَابِسٍ وَقَالَ ابْنُ عَبْسٍ الْجُهَنِيُّ
حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کسی راستے میں نبی ﷺ کی سواری کے آگے آگے چل رہا تھا، اچانک نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عقبہ ! تم سوار کیوں نہیں ہوتے ؟ لیکن مجھے نبی ﷺ کی عظمت کا خیال آیا کہ ان کی سواری پر میں سوار ہوں، تھوڑی دیر بعد نبی ﷺ نے پھر فرمایا اے عقبہ ! تم سوار کیوں نہٰ ہوتے، اس مرتبہ مجھے اندیشہ ہو کہ کہیں یہ نافرمانی کے زمرے میں نہ آئے، چناچہ جب نبی ﷺ اترے تو میں سوار ہوگیا اور تھوڑی ہی دور چل کر اتر گیا۔ نبی ﷺ دوبارہ سوار ہوئے تو فرمایا اے عقبہ ! کیا میں تمہیں ایسی دو سورتیں نہ سکھا دوں جو ان تمام سورتوں سے بہتر ہوں جو لوگ پڑھتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ! ﷺ چناچہ نبی ﷺ نے مجھے سورت فلق اور سورت ناس پڑھائیں، پھر نماز کھڑی ہوئی، نبی ﷺ آگے بڑھ گئے اور نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھیں، پھر میرے پاس سے گذرتے ہوئے فرمایا اے عقبہ ! تم کیا سمجھے ؟ یہ دونوں سورتیں سوتے وقت بھی پڑھا کرو اور بیدار ہو کر بھی پڑھا کرو۔
16661
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَخْبَرَهُ أَنَّ ابْنَ عَابِسٍ الْجُهَنِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا ابْنَ عَابِسٍ أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَفْضَلِ مَا تَعَوَّذَ الْمُتَعَوِّذُونَ قَالَ قُلْتُ بَلَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ وَقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ هَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ
حضرت ابن عابس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے ابن عابس ! کیا میں تمہیں تعوذ کے سب سے افضل کلمات کے بارے میں نہ بتاؤں جن سے تعوذ کرنے والے تعوذ کرتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کیوں نہیں، فرمایا دو سورتیں ہیں سورت فلق اور سورت ناس۔
16662
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُشَّانَةَ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَثْكَلَ ثَلَاثَةً مِنْ صُلْبِهِ فَاحْتَسَبَهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ أَبُو عُشَّانَةَ مَرَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَمْ يَقُلْهَا مَرَّةً أُخْرَى وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے تین حقیقی بچے فوت ہوجائیں اور وہ اللہ کے سامنے ان پر صبر کا مظاہرہ کرے تو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔
16663
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ سُورَتَانِ فَتَعَوَّذُوا بِهِنَّ فَإِنَّهُ لَمْ يُتَعَوَّذْ بِمِثْلِهِنَّ يَعْنِي الْمُعَوِّذَتَيْنِ
حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھ پر دو سورتیں نازل ہوئی ہیں تم ان سے اللہ کی پناہ حاصل کیا کرو، کیونکہ ان جیسی کوئی سورت نہیں ہے مراد معوذتین ہے۔
16664
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَّامٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْأَزْرَقِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُدْخِلُ الثَّلَاثَةَ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ الْجَنَّةَ صَانِعَهُ يَحْتَسِبُ فِي صَنْعَتِهِ الْخَيْرَ وَالْمُمِدَّ بِهِ وَالرَّامِيَ بِهِ وَقَالَ ارْمُوا وَارْكَبُوا وَأَنْ تَرْمُوا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ تَرْكَبُوا وَإِنَّ كُلَّ شَيْءٍ يَلْهُو بِهِ الرَّجُلُ بَاطِلٌ إِلَّا رَمْيَةَ الرَّجُلِ بِقَوْسِهِ وَتَأْدِيبَهُ فَرَسَهُ وَمُلَاعَبَتَهُ امْرَأَتَهُ فَإِنَّهُنَّ مِنْ الْحَقِّ وَمَنْ نَسِيَ الرَّمْيَ بَعْدَمَا عُلِّمَهُ فَقَدْ كَفَرَ الَّذِي عُلِّمَهُ
حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ ایک تیر کی وجہ سے تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرمائے گا، ایک تو اسے بنانے والا جس نے اچھی نیت سے اسے بنایا ہو، دوسرا اس کا معاون اور تیسرا اسے چلانے والا، لہذا تیر اندازی بھی کیا کرو اور گھڑ سواری بھی اور میرے نزدیک گھڑ سواری سے زیادہ تیر اندازی پسندیدہ ہے اور ہر وہ چیز جو انسان کو غفلت میں ڈال دے، وہ باطل ہے سوائے انسان کے تیر کمان میں، گھوڑے کی دیکھ بھال میں اور اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی میں مصروف ہونے کے، کہ یہ چیزیں برحق ہیں اور جو شخص تیر اندازی کا فن سیکھنے کے بعد اسے بھلا دے تو اس نے اپنے سکھانے والے کی ناشکری کی۔