Musnad Imam Ahmad
725. حدیث ابوبرزہ اسلمی (رض) کی احادیث
مسند احمد
18931
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ شَكَّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ فَأَتَاهُ فَقَالَ لَهُ جُلَسَاءُ عُبَيْدِ اللَّهِ إِنَّمَا أَرْسَلَ إِلَيْكَ الْأَمِيرُ لِيَسْأَلَكَ عَنْ الْحَوْضِ هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ شَيْئًا قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ فَمَنْ كَذَّبَ بِهِ فَلَا سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ
عبداللہ بن بریدہ (رح) کہتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد کو حوض کوثر کے ثبوت میں شک تھا، اس نے حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) کو بلا بھیجا، وہ آئے تو عبیداللہ کے ہم نشینوں نے ان سے کہا کہ امیر نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ آپ سے حوض کوثر کے متعلق دریافت کرے، کیا آپ نے اس حوالے سے نبی ﷺ سے کچھ سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! میں نے نبی ﷺ کو اس کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہے، اب جو اس کی تکذیب کرتا ہے، اللہ اسے اس حوض سے سیراب نہ کرے۔
18932
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
حضرت ابوبرزہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک کی تلاوت فرماتے تھے۔
18933
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ أَنْبَأَنِي أَبِي عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْغَدَاةِ بِالْمِائَةِ إِلَى السِّتِّينَ وَالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
حضرت ابوبرزہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فجر کی نماز میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک کی تلاوت فرماتے تھے۔
18934
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ كَانَتْ رَاحِلَةٌ أَوْ نَاقَةٌ أَوْ بَعِيرٌ عَلَيْهَا بَعْضُ مَتَاعِ الْقَوْمِ وَعَلَيْهَا جَارِيَةٌ فَأَخَذُوا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَتَضَايَقَ بِهِمْ الطَّرِيقُ فَأَبْصَرَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ حَلْ حَلْ اللَّهُمَّ الْعَنْهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَاحِبُ هَذِهِ الْجَارِيَةِ لَا تَصْحَبُنَا رَاحِلَةٌ أَوْ نَاقَةٌ أَوْ بَعِيرٌ عَلَيْهَا مِنْ لَعْنَةِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى
حضرت ابوبرزہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک اونٹنی تھی جس پر کسی آدمی کا سامان لدا ہوا تھا، وہ ایک باندی کی تھی، لوگ دو پہاڑوں کے درمیان چلنے لگے تو راستہ تنگ ہوگیا، اس نے جب نبی ﷺ کو دیکھا تو اپنی سواری کو تیز کرنے کے لئے اسے ڈانٹا اور کہنے لگی اللہ ! اس پر لعنت فرما، نبی ﷺ نے فرمایا اس باندی کا مالک کون ہے ؟ ہمارے ساتھ کوئی ایسی سواری نہیں ہونی چاہیے جس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔
18935
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنِي أَبُو الْمِنْهَالِ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ فَقَالَ لَهُ أَبِي حَدِّثْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ قَالَ كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ وَهِيَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَيُصَلِّي الْعَصْرَ وَيَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ بِالْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ قَالَ وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلَاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ أَحَدُنَا جَلِيسَهُ وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ
ابومنہال کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، میرے والد نے ان سے عرض کیا کہ یہ بتائیے، نبی ﷺ فرض نماز کس طرح پڑھتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نماز ظہر جسے تم " اولیٰ " کہتے ہو، اس وقت پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا، عصر کی نماز اس وقت پڑھتے تھے کہ جب ہم میں سے کوئی شخص مدینہ میں اپنے گھر واپس پہنچتا تو سورج نظر آ رہا ہوتا تھا، مغرب کے متعلق انہوں نے جو فرمایا وہ میں بھول گیا اور نبی ﷺ عشاء کو مؤخر کرنے کو پسند فرماتے تھے، نیز اس سے پہلے سونا اور اس کے بعد باتیں کرنا پسند نہیں فرماتے تھے اور فجر کی نماز پڑھ کر اس وقت فارغ ہوتے جب ہم اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کو پہچان سکتے تھے اور اس میں ساٹھ سے لے کر سو آیات تک تلاوت فرماتے تھے۔
18936
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَوَكِيعٌ قَالَا ثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ عَنْ أَبِي الْوَازِعِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ اعْزِلْ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ
حضرت ابوبرزہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جس سے مجھے فائدہ ہو ؟ نبی ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیا کرو۔
18937
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ أَنْبَأَنَا حَجَّاجٌ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الْوَاسِطِيِّ عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِآخِرَةٍ إِذَا طَالَ الْمَجْلِسُ فَقَامَ قَالَ سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ فَقَالَ لَهُ بَعْضُنَا إِنَّ هَذَا قَوْلٌ مَا كُنَّا نَسْمَعُهُ مِنْكَ فِيمَا خَلَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا كَفَّارَةُ مَا يَكُونُ فِي الْمَجْلِسِ
حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) سے مروی ہے کہ زندگی کے آخری ایام میں جب کوئی مجلس طویل ہوجاتی تو آخر میں اٹھتے ہوئے نبی ﷺ یوں کہتے " سبحانک اللھم وبحمدک اشہد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیک " ایک مرتبہ ہم میں سے کسی نے عرض کیا کہ یہ جملہ ہم نے آپ سے پہلے کبھی نہیں سنا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا یہ مجلس میں ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہے۔
18938
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ كَانَ أَبُو بَرْزَةَ بِالْأَهْوَازِ عَلَى جَرْفِ نَهْرٍ وَقَدْ جَعَلَ اللِّجَامَ فِي يَدِهِ وَجَعَلَ يُصَلِّي فَجَعَلَتْ الدَّابَّةُ تَنْكُصُ وَجَعَلَ يَتَأَخَّرُ مَعَهَا فَجَعَلَ رَجُلٌ مِنْ الْخَوَارِجِ يَقُولُ اللَّهُمَّ اخْزِ هَذَا الشَّيْخَ كَيْفَ يُصَلِّي فَلَمَّا صَلَّى قَالَ قَدْ سَمِعْتُ مَقَالَتَكُمْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتًّا أَوْ سَبْعًا أَوْ ثَمَانِيًا فَشَهِدْتُ أَمْرَهُ وَتَيْسِيرَهُ فَكَانَ رُجُوعِي مَعَ دَابَّتِي أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ تَرْكِهَا فَتَنْزِعُ إِلَى مَأْلَفِهَا فَيَشُقُّ عَلَيَّ وَصَلَّى أَبُو بَرْزَةَ الْعَصْرَ رَكْعَتَيْنِ
ازرق بن قیس (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) اہواز شہر میں ایک نہر کے کنارے پر تھے، انہوں نے اپنی سواری کی لگام اپنے ہاتھ میں تھام رکھی ہوئی تھی، اسی دوران وہ نماز پڑھنے لگے، اچانک ان کا جانور ایڑیوں کے بل پیجھے جانے لگا، حضرت ابوبرزہ (رض) بھی اس کے ساتھ ساتھ پیچھے ہٹتے رہے، یہ دیکھ کر خوارج میں سے ایک آدمی کہنے لگا اے اللہ ! ان بڑے میاں کو رسوا کر، یہ کیسے نماز پڑھ رہے ہیں، نماز سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے فرمایا میں نے تمہاری بات سنی ہے، میں چھ، سات یا آٹھ غزوات میں نبی ﷺ کے ساتھ شریک ہوا ہوں اور نبی ﷺ کے معاملات اور آسانیوں کو دیکھا ہے، میرا اپنے جانور کو ساتھ لے کر واپس جانا اس سے زیادہ آسان اور بہتر ہے کہ میں اسے چھوڑ دوں اور یہ بھاگتا ہوا اپنے ٹھکانے پر چلا جائے اور مجھے پریشانی ہو اور حضرت ابوبرزہ (رض) نے (مسافر ہونے کی وجہ سے) نماز عصر کی دو رکعتیں پڑھیں۔
18939
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا جَابِرٌ أَبُو الْوَازِعِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ يَقُولُ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا إِلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَضَرَبُوهُ وَسَبُّوهُ فَرَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَهْلَ عُمَانَ أَتَيْتَ مَا ضَرَبُوكَ وَلَا سَبُّوكَ
حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو عرب کے کسی قبیلے میں بھیجا، ان لوگوں نے اسے مارا پیٹا اور برا بھلا کہا، وہ نبی ﷺ کی خدمت میں واپس حاضر ہوا اور اس کی شکایت کی، نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم اہل عمان کے پاس گئے ہوتے تو وہ تمہیں مارتے پیٹتے اور نہ برا بھلا کہتے۔
18940
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ أَبُو الْأَشْهَبِ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ وَمُضِلَّاتِ الْفِتَنِ
حضرت ابوبرزہ اسلمی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے تمہارے متعلق ان گمراہ کن خواہشات سے سب سے زیادہ اندیشہ ہے جن کا تعلق پیٹ اور شرمگاہ سے ہوتا ہے اور گمراہ کن فتنوں سے بھی اندیشہ ہے۔