hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

502. حضرت عمروبن عاص کی بقیہ حدیثیں

مسند احمد

17136
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ عَن أَبِيهِ عَن أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِكُمْ وَبَيْنَ صِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ
حضرت عمرو بن عاص (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارے اور اہل کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانا ہے۔
17137
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ذَاكَ اللَّخْمِيُّ عَن أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَمْرُو اشْدُدْ عَلَيْكَ سِلَاحَكَ وَثِيَابَكَ وَأْتِنِي فَفَعَلْتُ فَجِئْتُهُ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ فَصَعَّدَ فِيَّ الْبَصَرَ وَصَوَّبَهُ وَقَالَ يَا عَمْرُو إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ وَجْهًا فَيُسَلِّمَكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ وَأَرْغَبُ لَكَ مِنْ الْمَالِ رَغْبَةً صَالِحَةً قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ إِنَّمَا أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْجِهَادِ وَالْكَيْنُونَةِ مَعَكَ قَالَ يَا عَمْرُو نَعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ لِلرَّجُلِ الصَّالِحِ قَالَ كَذَا فِي النُّسْخَةِ نَعِمَّا بِنَصْبِ النُّونِ وَكَسْرِ الْعَيْنِ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ بِكَسْرِ النُّونِ وَالْعَيْنِ
حضرت عمرو بن عاص (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے میرے پاس پیغام بھیجا کہ اپنے کپڑے اور اسلحہ زیب تن کر کے میرے پاس آؤ، میں جس وقت حاضر ہوا تو نبی ﷺ وضو فرما رہے تھے، نبی ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے نیچے سے اوپر تک دیکھا پھر نظریں جھکا کر فرمایا میرا ارادہ ہے کہ تمہیں ایک لشکر کا امیر بنا کر روانہ کروں، اللہ تمہیں صحیح سالم اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لائے گا اور میں تمہارے لئے مال کی اچھی رغبت رکھتا ہوں، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے مال و دولت کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا، میں نے دلی رغبت کے ساتھ اسلام قبول کیا ہے اور اس مقصد کے لئے کہ مجھے نبی ﷺ کی معیت حاصل ہوجائے، نبی ﷺ نے فرمایا نیک آدمی کے لئے حلال مال کیا ہی خوب ہوتا ہے۔
17138
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ عَن قَتَادَةَ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ لَا تَلْبِسُوا عَلَيْنَا سُنَّةَ نَبِيِّنَا عِدَّةُ أُمِّ الْوَلَدِ إِذَا تُوُفِّيَ عَنْهَا سَيِّدُهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا
حضرت عمرو بن عاص (رض) سے مروی ہے کہ تم ہمارے اوپر ہمارے نبی ﷺ کی سنت میں اشتباہ پیدا نہ کرو، ام ولدہ کا آقا اگر فوت ہوجائے تو اس کی عدت چار ماہ دس دن ہوگی۔
17139
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَن إِسْمَاعِيلَ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَن عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِهَارًا غَيْرَ سِرٍّ يَقُولُ إِنَّ آلَ أَبِي فُلَانٍ لَيْسُوا لِي بِأَوْلِيَاءَ إِنَّمَا وَلِيِّيَ اللَّهُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِينَ
حضرت عمرو بن عاص (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو علانیہ طور پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے آل ابو فلاں میرے ولی نہیں ہیں، میرا ولی تو اللہ اور نیک مومنین ہیں۔
17140
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ذَكْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ مَوْلًى لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ أَرْسَلَهُ إِلَى عَلِيٍّ يَسْتَأْذِنُهُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ فَأَذِنَ لَهُ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْ حَاجَتِهِ سَأَلَ الْمَوْلَى عَمْرًا عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَوْ نَهَى أَنْ نَدْخُلَ عَلَى النِّسَاءِ بِغَيْرِ إِذْنِ أَزْوَاجِهِنَّ
حضرت عمرو بن عاص (رض) نے ایک مرتبہ اپنے ایک غلام کو حضرت علی (رض) کے پاس ان کی زوجہ حضرت اسماء بنت عمیس (رض) سے ملنے کی اجازت لینے کی وجہ پوچھی تو حضرت عمرو (رض) نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع فرمایا ہے کہ شوہر کی اجازت کے بغیر عورتوں کے پاس نہ جائیں۔
17141
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي قَبِيلٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ عَقَلْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْفَ مَثَلٍ
حضرت عمرو بن عاص (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے ایک ہزار مثالیں یاد کی ہیں۔
17142
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ ثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُ أَلَيْسَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ بَلَى قَالَ قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّكَ وَقَدْ اسْتَعْمَلَكَ فَقَالَ قَدْ اسْتَعْمَلَنِي فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَحُبًّا كَانَ لِي مِنْهُ أَوْ اسْتِعَانَةً بِي وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ بِرَجُلَيْنِ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُحِبُّهُمَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ
احسن (رح) کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمرو بن عاص (رض) سے کہا یہ بتائیے کہ اگر نبی ﷺ کسی آدمی سے محبت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ہوں، تو کیا وہ نیک آدمی ہوگا ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں، اس نے کہا کہ پھر نبی ﷺ آپ سے محبت کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ہیں اور وہ آپ کو مختلف ذمہ داریاں سونپتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا یہ تو واقعی حقیقت ہے، لیکن میں تمہیں بتاؤں، بخدا ! میں نہیں جانتا کہ نبی ﷺ محبت کی وجہ سے میرے ساتھ یہ معاملہ فرماتے تھے یا تالیف قلب کے لئے، البتہ میں اس بات کی گواہی دے سکتا ہوں کہ دنیا سے رخصت ہونے تک وہ دو آدمیوں سے محبت فرماتے تھے، ایک سمیہ کے بیٹے عمار (رض) سے اور ایک ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود (رض) سے۔
17143
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ كَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَتَخَوَّلُنَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ قُرَيْشٌ لَيَضَعَنَّ اللَّهُ هَذَا الْأَمْرَ فِي جُمْهُورٍ مِنْ جَمَاهِيرِ الْعَرَبِ سِوَاهُمْ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ كَذَبْتَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قُرَيْشٌ وُلَاةُ النَّاسِ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
عبداللہ بن ابی الہذیل (رح) کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص (رض) ہماری رعایت اور خیال فرماتے تھے، ایک مرتبہ بکر بن وائل قبیلے کا ایک آدمی کہنے لگا کہ اگر قریش کے لوگ باز نہ آئے تو حکومت ان کے ہاتھ سے نکل کر جمہور اہل عرب کے ہاتھ میں چلی جائے گی، حضرت عمرو (رض) نے یہ سن کر فرمایا آپ سے غلطی ہوئی، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قریش ہر نیکی اور برائی کے کاموں میں قیامت تک لوگوں کے سردار ہوں گے۔
17144
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ عَن أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هُوَ فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا وَأَنْتُمْ أَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا
حضرت عمرو بن عاص (رض) نے ایک مرتبہ مصر میں خطبہ دیتے ہوئے لوگوں سے فرمایا کہ تم اپنے نبی ﷺ کے طریقے سے کتنے دور چلے گئے ہو ؟ وہ دنیا سے انتہائی بےرغبت تھے اور تم دنیا کو انتہائی محبوب و مرغوب رکھتے ہو۔
17145
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَن مُوسَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ كَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِينَةِ فَأَتَيْتُ عَلَى سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ وَهُوَ مُحْتَبٍ بِحَمَائِلِ سَيْفِهِ فَأَخَذْتُ سَيْفًا فَاحْتَبَيْتُ بِحَمَائِلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ثُمَّ قَالَ أَلَا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلَانِ الْمُؤْمِنَانِ
حضرت عمرو بن عاص (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں خوف وہراس پھیلا ہوا تھا، میں حضرت ابوحذیفہ (رض) کے آزاد کردہ غلام سالم کے پاس آیا تو انہوں نے اپنی تلوار حمائل کر رکھی تھی، میں نے بھی اپنی تلوار پکڑی اور اسے حمائل کرلیا، نبی ﷺ نے فرمایا لوگو ! گھبراہٹ کے اس وقت میں تم اللہ اور اس کے رسول کے پاس کیوں نہیں آئے ؟ پھر فرمایا تم نے اس طرح کیوں نہ کیا جس طرح ان دو مومن مردوں نے کیا ہے۔