hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

386. حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) کی مرویات

مسند احمد

16186
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعَنِي أَبِي وَأَنَا أَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ إِيَّاكَ قَالَ وَلَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَبْغَضَ إِلَيْهِ حَدَثًا فِي الْإِسْلَامِ مِنْهُ فَإِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقُولُهَا فَلَا تَقُلْهَا إِذَا أَنْتَ قَرَأْتَ فَقُلْ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد نے مجھے نماز میں بآواز بلند بسم اللہ پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ بیٹا اس سے اجتناب کرو، یزید کہتے ہیں کہ میں نے ان سے زیادہ نبی ﷺ کے کسی صحابی کو بدعت سے اتنی نفرت کرتے ہوئے نہیں دیکھا، کیونکہ میں نے نبی ﷺ اور تینوں خلفاء کے ساتھ نماز پڑھی ہے، میں نے ان میں سے کسی کو بلند آواز سے بسم اللہ پڑھتے ہوئے نہیں سنا لہذا تم بھی نہ پڑھا کرو، بلکہ الحمدللہ رب العلمین سے قرأت کا آغاز کیا کرو۔
16187
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنَّ الْكِلَابَ أُمَّةٌ مِنْ الْأُمَمِ لَأَمَرْتُ بِقَتْلِهَا فَاقْتُلُوا مِنْهَا الْأَسْوَدَ الْبَهِيمَ وَأَيُّمَا قَوْمٍ اتَّخَذُوا كَلْبًا لَيْسَ بِكَلْبِ حَرْثٍ أَوْ صَيْدٍ أَوْ مَاشِيَةٍ نَقَصُوا مِنْ أُجُورِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطًا
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کتے بھی ایک امت نہ ہوتے تو میں ان کی نسل ختم کرنے کا حکم دے دیتا، لہذا جو انتہائی کالا سیاہ کتا ہو، اسے قتل کردیا کرو اور جو لوگ بھی اپنے یہاں کتے کو رکھتے ہیں جو کھیت، شکار یا ریوڑ کی حفاظت کے لئے نہ ہو، ان کے اجر وثواب سے روزانہ ایک قیراط کی کمی ہوتی رہتی ہے۔
16188
Musnad Imam Ahmad
قَالَ وَكُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نُصَلِّيَ فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ وَلَا نُصَلِّيَ فِي أَعْطَانِ الْإِبِلِ فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنْ الشَّيَاطِينِ
اور ہمیں حکم تھا کہ بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن اونٹوں کے باڑے میں نماز نہیں پڑھ سکتے، کیونکہ ان کی پیدائش شیطان سے ہوئی ہے (ان کی فطرت میں شیطانیت پائی جاتی ہے)
16189
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ سَمِعْتُ شُعْبَةَ يَذْكُرُ عَنْ أَبِي إِيَاسٍ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقْرَأُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَلَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَحَكَيْتُ لَكُمْ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَرَأَ سُورَةَ الْفَتْحِ قَالَ لَوْلَا أَنْ يَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلَيَّ لَحَكَيْتُ لَكُمْ مَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُغَفَّلٍ كَيْفَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ بَهْزٌ وَغُنْدَرٌ قَالَ فَرَجَّعَ فِيهَا
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فتح مکہ کے موقع پر قرآن کریم پڑھتے ہوئے سنا تھا، اگر لوگ میرے پاس مجمع نہ لگاتے تو میں تمہیں نبی ﷺ کے انداز میں پڑھ کر سناتا، نبی ﷺ نے سورت فتح کی تلاوت فرمائی تھی۔ معاویہ بن قرہ کہتے ہیں کہ اگر مجھے بھی مجمع لگ جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں تمہارے سامنے حضرت عبداللہ بن مغفل کا بیان کردہ طرز نقل کر کے دکھاتا کہ نبی ﷺ نے کس طرح قرأت فرمائی تھی۔
16190
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنِ ابْنِ مُغَفَّلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ لِمَنْ شَاءَ
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر دواذانوں کے درمیان نماز ہے، جو چاہے پڑھ لے۔
16191
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُغَفَّلٍ قَالَ قَالَ دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ فَالْتَزَمْتُهُ قُلْتُ لَا أُعْطِي أَحَدًا مِنْهُ شَيْئًا قَالَ فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ قَالَ بَهْزٌ إِلَيَّ
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر مجھے چمڑے کا ایک برتن ملا جس میں چربی تھی، میں نے اسے پکڑ کر بغل میں دبا لیا اور کہنے لگا کہ میں اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا، اچانک میری نظر پڑی تو نبی ﷺ مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے۔
16192
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنِ ابْنِ مُغَفَّلٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِقَتْلِ الْكِلَابِ ثُمَّ قَالَ مَا لَهُمْ وَلَهَا فَرَخَّصَ فِي كَلْبِ الصَّيْدِ وَفِي كَلْبِ الْغَنَمِ قَالَ وَإِذَا وَلَغَ الْكَلْبُ فِي الْإِنَاءِ فَاغْسِلُوهُ سَبْعَ مِرَارٍ وَالثَّامِنَةَ عَفِّرُوهُ بِالتُّرَابِ
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ابتداء کتوں کو مار ڈالنے کا حکم دیا تھا، پھر بعد میں فرمادیا کہ اب اس کی ضرورت نہیں ہے اور شکاری کتے اور بکریوں کے ریوڑ کی حفاظت کے لئے کتے رکھنے کی اجازت دے دی۔ اور فرمایا کہ جب کسی برتن میں کتا منہ ڈال دے تو اسے سات مرتبہ دھویا کرو اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے بھی مانجھا کرو۔
16193
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے، الاّ یہ کہ کبھی کبھار ہو۔
16194
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي كَهْمَسٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنِ ابْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْخَذْفِ وَقَالَ إِنَّهَا لَا يُنْكَأُ بِهَا عَدُوٌّ وَلَا يُصَادُ بِهَا صَيْدٌ
حضرت عبداللہ بن مغفل مزنی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کسی کو کنکری مارنے سے منع کیا ہے اور فرمایا کہ اس سے دشمن زیر نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی شکار پکڑا جاسکتا ہے۔
16195
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنِ فُضَيْلِ بْنِ زَيْدٍ الرَّقَاشِيِّ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ فَتَذَاكَرْنَا الشَّرَابَ فَقَالَ الْخَمْرُ حَرَامٌ قُلْتُ لَهُ الْخَمْرُ حَرَامٌ فِي كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ إِيشْ تُرِيدُ تُرِيدُ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ قُلْتُ مَا الْحَنْتَمُ قَالَ كُلُّ خَضْرَاءَ وَبَيْضَاءَ قَالَ قُلْتُ مَا الْمُزَفَّتُ قَالَ كُلُّ مُقَيَّرٍ مِنْ زِقٍّ أَوْ غَيْرِهِ
فضیل بن زید رقاشی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ شراب کا تذکرہ شروع ہوگیا اور حضرت عبداللہ بن مغفل کہنے لگے کہ شراب حرام ہے، میں نے پوچھا کیا کتاب اللہ میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے ؟ انہوں فرمایا تمہارا مقصد کیا ہے ؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں نے اس سلسلے میں نبی ﷺ سے جو سنا ہے وہ تمہیں بھی سناؤں ؟ میں نبی ﷺ کو کدو، حنتم اور مزفت سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، میں نے حنتم کا مطلب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہر سبز اور سفید مٹکا، میں مزفت کا مطلب پوچھا تو فرمایا کہ لک وغیرہ سے بنا ہوا برتن۔