hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

524. حضرت زیاد بن لبید (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

17245
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ زِيَادِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَالَ وَذَاكَ عِنْدَ أَوَانِ ذَهَابِ الْعِلْمِ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ يَذْهَبُ الْعِلْمُ وَنَحْنُ نَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَنُقْرِئُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُقْرِئُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا ابْنَ أُمِّ لَبِيدٍ إِنْ كُنْتُ لَأَرَاكَ مِنْ أَفْقَهِ رَجُلٍ بِالْمَدِينَةِ أَوَلَيْسَ هَذِهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى يَقْرَءُونَ التَّوْرَاةَ وَالْإِنْجِيلَ فَلَا يَنْتَفِعُونَ مِمَّا فِيهِمَا بِشَيْءٍ
حضرت زیاد بن لبید (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی چیز کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ یہ علم ضائع ہونے کے وقت ہوگا، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم خود بھی قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھاتے ہیں، پھر وہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور یہ سلسلہ یونہی قیامت تک چلتا رہے گا تو علم کیسے ضائع ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اے ابن ام لبید ! تیری ماں تجھے گم کر کے روئے، میں تو سمجھتا تھا کہ تم مدینہ کے بہت سمجھدار آدمی ہو، کیا یہ یہود و نصاری تورات اور انجیل نہیں پڑھتے ؟ دراصل یہ لوگ اس میں موجود تعلیمات سے معمولی سا فائدہ بھی نہیں اٹھاتے۔
17246
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ لَبِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا أَوَانُ ذَهَابِ الْعِلْمِ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ هَذَا أَوَانُ انْقِطَاعِ الْعِلْمِ فَقُلْتُ وَكَيْفَ وَفِينَا كِتَابُ اللَّهِ نُعَلِّمُهُ أَبْنَاءَنَا وَيُعَلِّمُهُ أَبْنَاؤُنَا أَبْنَاءَهُمْ قَالَ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ ابْنَ لَبِيدٍ مَا كُنْتُ أَحْسَبُكَ إِلَّا مِنْ أَعْقَلِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَلَيْسَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فِيهِمْ كِتَابُ اللَّهِ تَعَالَى قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ أَلَيْسَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فِيهِمْ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ ثُمَّ لَمْ يَنْتَفِعُوا مِنْهُ بِشَيْءٍ أَوْ قَالَ أَلَيْسَ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى أَوْ أَهْلُ الْكِتَابِ شُعْبَةُ يَقُولُ ذَلِك فِيهِمْ كِتَابُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت زیاد بن لبید (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی چیز کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ یہ علم ضائع ہونے کے وقت ہوگا، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم خود بھی قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو بھی پڑھاتے ہیں، پھر وہ اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں اور یہ سلسلہ یونہی قیامت تک چلتا رہے گا تو علم کیسے ضائع ہوگا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اے ابن ام لبید ! تیری ماں تجھے گم کر کے روئے، میں تو سمجھتا تھا کہ تم مدینہ کے بہت سمجھدار آدمی ہو، کیا یہ یہود و نصاری تورات اور انجیل نہیں پڑھتے ؟ دراصل یہ لوگ اس میں موجود تعلیمات سے معمولی سا فائدہ بھی نہیں اٹھاتے۔