Musnad Imam Ahmad
1014. حضرت ابورافع (رض) کی حدیثیں
مسند احمد
22779
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ أَنْبَأَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي غَطَفَانَ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ ذَبَحْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةً فَأَمَرَنَا فَعَالَجْنَا لَهُ شَيْئًا مِنْ بَطْنِهَا فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
حضرت ابو رافع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے لئے ایک بکری ذبح کی، نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اس کا تھوڑا ساحصہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا نبی کریم ﷺ نے اسے تناول فرمایا اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے درمیان میں تازہ وضو نہیں کیا۔
22780
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُخَوَّلٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ الرَّجُلُ وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ
حضرت ابو رافع (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انسان (مرد) کو اس حال میں نماز پڑھنے سے روکا ہے کہ اس کے سر کے بالوں کی چوٹی بنی ہوئی ہو۔
22781
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخَطَّابِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ قَالَ إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَخِيسُ الْبِرَّ وَارْجِعْ إِلَيْهِمْ فَإِنْ كَانَ فِي قَلْبِكَ الَّذِي فِيهِ الْآنَ فَارْجِعْ قَالَ بُكَيْرٌ وَأَخْبَرَنِي الْحَسَنُ أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا
حضرت ابو رافع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے کچھ لوگوں نے مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بھیجا نبی کریم ﷺ کو دیکھتے ہی اسلام میرے دل میں گھر کر گیا اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اب میں قریش کے پاس واپس نہیں جانا چاہتا نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں خلاف عہد نہیں کرسکتا اور ایلچیوں کو اپنے پاس نہیں روک سکتا اس لئے اب تو تم واپس چلے جاؤ اگر تمہارے دل میں وہی ارادہ باقی رہے جو اب ہے تو پھر میرے پاس آجانا (چنانچہ میں ان کے پاس چلا گیا پھر واپس آکر بارگاہ نبوت میں حاضر ہوا اور مشرف با اسلام ہوگیا)
22782
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَنٍ عَنْ بَعْضِ أَهْلِهِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ عَلِيٍّ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ بِرَايَتِهِ فَلَمَّا دَنَا مِنْ الْحِصْنِ خَرَجَ إِلَيْهِ أَهْلُهُ فَقَاتَلَهُمْ فَضَرَبَهُ رَجُلٌ مِنْ يَهُودَ فَطَرَحَ تُرْسَهُ مِنْ يَدِهِ فَتَنَاوَلَ عَلِيٌّ بَابًا كَانَ عِنْدَ الْحِصْنِ فَتَرَّسَ بِهِ نَفْسَهُ فَلَمْ يَزَلْ فِي يَدِهِ وَهُوَ يُقَاتِلُ حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ ثُمَّ أَلْقَاهُ مِنْ يَدِهِ حِينَ فَرَغَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي نَفَرٍ مَعِي سَبْعَةٌ أَنَا ثَامِنُهُمْ نَجْهَدُ عَلَى أَنْ نَقْلِبَ ذَلِكَ الْبَابَ فَمَا نَقْلِبُهُ
حضرت ابو رافع (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (غزوہ خیبر کے موقع پر) جب علی (رض) کو اپنا جھنڈا دے کر بھیجا تو ہم بھی ان کے ساتھ نکلے تھے جب وہ قلعہ کے قریب پہنچے تو قلعہ کے لوگ باہر آئے اور لڑائی شروع ہوگئی ایک یہودی نے حضرت علی (رض) پر حملہ کیا حضرت علی (رض) کی ڈھال ان کے ہاتھ سے گرگئی تھی انہوں نے قلعہ کا دروازہ اکھیڑ کر اس سے ڈھال کا کام لیا اور دوران قتال وہ مستقل ان کے ہاتھ میں رہا حتیٰ کہ اللہ نے انہیں فتح عطا فرما دی اور جنگ سے فارغ ہو کر حضرت علی (رض) نے اسے اپنے ہاتھ سے پھینک دیا میں نے دیکھا کہ سات آدمیوں کی ایک جماعت نے " جن کے ساتھ آٹھواں میں بھی تھا " اس دروازے کو ہلانے میں اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا لیکن ہم اسے ہلا نہیں سکے۔
22783
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ رَافِعٍ عَنْ عَمَّتِهِ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ صُنِعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَ لِي يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنَاوَلْتُهُ فَقَالَ يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ فَقَالَ لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مِنْهَا مَا دَعَوْتُ بِهِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُ
حضرت ابورافع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے لئے ایک ہنڈیا میں گوشت پکایا نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے اس کی دستی نکال کردو چناچہ میں نے نکال دی تھوڑی دیر بعد نبی کریم ﷺ نے دوسری دستی طلب فرمائی میں نے وہ بھی دے دی تھوڑی دیر بعد نبی کریم ﷺ نے پھر دستی طلب فرمائی میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ایک بکری کی کتنی دستیاں ہوتی ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تم خاموش رہتے تو اس ہنڈیا سے اس وقت تک دستیاں نکلتی رہتیں جب تک میں تم سے مانگتا رہتا۔
22784
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ مَوْجِيَّيْنِ خَصِيَّيْنِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا عَمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ وَلَهُ بِالْبَلَاغِ وَالْآخَرُ عَنْهُ وَعَنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَفَانَا
حضرت ابو رافع (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دو خوبصورت اور خصی مینڈھوں کی قربانی فرمائی اور فرمایا ان میں سے ایک تو ہر شخص کی جانب سے تھا جو اللہ کی وحدانیت اور نبی کریم ﷺ کی تبلیغ رسالت کی گواہی دیتا ہو اور دوسرا اپنی اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے تھا روای کہتے ہیں کہ اس طرح نبی کریم ﷺ نے ہماری کفایت فرمائی۔
22785
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَعْرِفَنَّ مَا يَبْلُغُ أَحَدَكُمْ مِنْ حَدِيثِي شَيْءٌ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى أَرِيكَتِهِ فَيَقُولُ مَا أَجِدُ هَذَا فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى
حضرت ابو رافع (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں اس شخص کو جانتا ہوں تم میں سے جس کے پاس میری کوئی حدیث پہنچے اور وہ اپنے صوفے پر ٹیک لگائے کہتا ہے کہ مجھے تو یہ حکم کتاب اللہ میں نہیں ملتا۔
22786
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي رَافِعٍ عَنْ عَمَّتِهِ سَلْمَى عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي يَوْمٍ فَجَعَلَ يَغْتَسِلُ عِنْدَ هَذِهِ وَعِنْدَ هَذِهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ جَعَلْتَهُ غُسْلًا وَاحِدًا قَالَ هَذَا أَزْكَى وَأَطْيَبُ وَأَطْهَرُ
حضرت ابو رافع (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ایک ہی دن میں اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے گئے اور ہر ایک سے فراغت کے بعد غسل فرماتے رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر آپ ایک ہی مرتبہ غسل فرما لیتے (تو کوئی حرج تھا ؟ ) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ طریقہ زیادہ پاکیزہ، عمدہ اور طہارت والا ہے۔
22787
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ قَالَ مَرَّ عَلَيَّ الْأَرْقَمُ الزُّهْرِيُّ أَوْ ابْنُ أَبِي الْأَرْقَمِ وَاسْتُعْمِلَ عَلَى الصَّدَقَاتِ قَالَ فَاسْتَتْبَعَنِي قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ يَا أَبَا رَافِعٍ إِنَّ الصَّدَقَةَ حَرَامٌ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ إِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ
حضرت ابو رافع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ارقم (رض) یا ان کے صاحبزادے میرے پاس سے گذرے انہیں زکوٰۃ کی وصولی کے لئے مقرر کیا گیا تھا انہوں نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے ابو رافع ! محمد و آل محمد ﷺ پر زکوٰۃ حرام ہے اور کسی قوم کا آزاد کردہ غلام ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
22788
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ قَالَ مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ فَحَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ قَالَ أَبُو رَافِعٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنْتُ غُلَامًا لِلْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَكَانَ الْإِسْلَامُ قَدْ دَخَلَنَا فَأَسْلَمْتُ وَأَسْلَمَتْ أُمُّ الْفَضْلِ وَكَانَ الْعَبَّاسُ قَدْ أَسْلَمَ وَلَكِنَّهُ كَانَ يَهَابُ قَوْمَهُ وَكَانَ يَكْتُمُ إِسْلَامَهُ وَكَانَ أَبُو لَهَبٍ عَدُوُّ اللَّهِ قَدْ تَخَلَّفَ عَنْ بَدْرٍ وَبَعَثَ مَكَانَهُ الْعَاصَ بْنَ هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَكَذَلِكَ كَانُوا صَنَعُوا لَمْ يَتَخَلَّفْ رَجُلٌ إِلَّا بَعَثَ مَكَانَهُ رَجُلًا فَلَمَّا جَاءَنَا الْخَيْرُ كَبَتَهُ اللَّهُ وَأَخْزَاهُ وَوَجَدْنَا أَنْفُسَنَا قُوَّةً فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَمِنْ هَذَا الْمَوْضُوعِ فِي كِتَابِ يَعْقُوبَ مُرْسَلٌ لَيْسَ فِيهِ إِسْنَادٌ وَقَالَ فِيهِ أَخُو بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ وَكَانَ فِي الْأُسَارَى أَبُو وَدَاعَةَ بْنُ صُبَيْرَةَ السَّهْمِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَهُ بِمَكَّةَ ابْنًا كَيِّسًا تَاجِرًا ذَا مَالٍ لَكَأَنَّكُمْ بِهِ قَدْ جَاءَنِي فِي فِدَاءِ أَبِيهِ وَقَدْ قَالَتْ قُرَيْشٌ لَا تَعْجَلُوا بِفِدَاءِ أُسَارَاكُمْ لَا يَتَأَرَّبُ عَلَيْكُمْ مُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ فَقَالَ الْمُطَّلِبُ بْنُ أَبِي وَدَاعَةَ صَدَقْتُمْ فَافْعَلُوا وَانْسَلَّ مِنْ اللَّيْلِ فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ وَأَخَذَ أَبَاهُ بِأَرْبَعَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ فَانْطَلَقَ بِهِ وَقَدِمَ مِكْرَزُ بْنُ حَفْصِ بْنِ الْأَخْيَفِ فِي فِدَاءِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو وَكَانَ الَّذِي أَسَرَهُ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ أَخُو بَنِي مَالِكِ بْنِ عَوْفٍ
حضرت ابورافع (رض) سے مروی ہے کہ ابتداء میں حضرت عباس بن عبدالمطلب (رض) غلام تھے، اسلام ہمارے گھر میں داخل ہوچکا تھا اور میں اور ام الفضل اسلام قبول کرچکے تھے اسلام تو حضرت عباس (رض) نے بھی قبول کرلیا تھا لیکن اپنی قوم کے خوف سے اسے چھپا کر رکھتے تھے ابو الہب دشمن اللہ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوسکا تھا اور اس نے اپنی جگہ عاص بن ہشام کو بھیج دیا تھا کیونکہ لوگوں میں یہی رواج تھا کہ اگر کوئی آدمی جنگ میں شریک نہ ہوتا تو اپنے بدلے کسی دوسرے آدمی کو بھیج دیتا تھا، پھر جب ہمارے پاس فتح بدر کی خوشخبری پہنچی تو اللہ نے ابولہب کو ذلیل و رسوا کردیا اور ہمیں اپنے اندر طاقت کا احساس ہوا پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ گذشتہ حدیث کا تسلسل یعقوب کی کتاب میں مرسلاً اس طرح مذکور ہے کہ غزوہ بدر کے قیدیوں میں ابو وداعہ بن صبیرہ سہمی نام کا ایک آدمی بھی تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مکہ مکرمہ میں اس کا ایک بیٹا ہے جو بڑا ہوشیار اور تاجر اور مال والا ہے، عنقریب تم اسے دیکھو گے کہ وہ میرے پاس اپنے باپ کا فدیہ دینے کے لئے آئے گا حالانکہ اس وقت قریش نے یہ اعلان کردیا تھا کہ اپنے قیدیوں کا فدیہ دینے میں جلد بازی سے کام نہ لینا محمد ﷺ اور ان کے ساتھی انہیں تم سے جدا نہ رکھ سکیں گے ابو وداعہ کے بیٹے مطلب نے بھی کہا کہ آپ صحیح کہتے ہیں ایسا ہی کریں لیکن رات ہوئی تو وہ چپکے سے مکہ مکرمہ سے کھسکا اور مدینہ منورہ پہنچ کر چار ہزار درہم کے بدلے اپنے باپ کو چھڑایا اور اسے لے کر روانہ ہوگیا اسی طرح مکرز بن حفص بھی سہیل بن عمرو کا فدیہ لے کر آیا تھا یہ وہی تھا جسے حضرت مالک بن دخش (رض) جن کا تعلق بنو مالک بن عوف سے تھا نے گرفتار کیا تھا۔