hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

20. حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کی مرویات

مسند احمد

1650
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ الْقِثَّاءَ بِالرُّطَبِ
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو تر کھجور کے ساتھ ککڑی کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔
1651
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَنْبَأَنَا حَبِيبُ بْنُ الشَّهِيدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ لِابْنِ الزُّبَيْرِ أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ نَعَمْ قَالَ فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً أَتَذْكُرُ إِذْ تَلَقَّيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَنْتَ وَابْنُ عَبَّاسٍ فَقَالَ نَعَمْ فَحَمَلَنَا وَتَرَكَكَ
ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) نے حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) سے کہا کیا آپ کو یاد ہے کہ ایک مرتبہ میں، آپ اور حضرت ابن عباس (رض) کی نبی ﷺ سے ملاقات ہوئی تھی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! نبی ﷺ نے ہمیں اٹھا لیا تھا اور آپ کو چھوڑ دیا تھا۔
1652
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِالصِّبْيَانِ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ قَالَ وَإِنَّهُ قَدِمَ مَرَّةً مِنْ سَفَرٍ قَالَ فَسُبِقَ بِي إِلَيْهِ قَالَ فَحَمَلَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ ثُمَّ جِيءَ بِأَحَدِ ابْنَيْ فَاطِمَةَ إِمَّا حَسَنٍ وَإِمَّا حُسَيْنٍ فَأَرْدَفَهُ خَلْفَهُ قَالَ فَدَخَلْنَا الْمَدِينَةَ ثَلَاثَةً عَلَى دَابَّةٍ
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب بھی کسی سفر سے واپس آتے تو اپنے اہل بیت کے بچوں سے ملاقات فرماتے، ایک مرتبہ نبی ﷺ سفر سے واپس تشریف لائے، سب سے پہلے مجھے نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے مجھے اٹھا لیا، پھر حضرت فاطمہ (رض) کے کسی صاحبزادے حضرت امام حسن (رض) یا امام حسین (رض) کو لایا گیا تو نبی ﷺ نے انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا اس طرح ہم ایک سواری پر تین آدمی سوار ہو کر مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔
1653
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ فَهْمٍ قَالَ وَأَظُنُّهُ يُسَمَّى مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ وَأَظُنُّهُ حِجَازِيًّا أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ يُحَدِّثُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَقَدْ نُحِرَتْ لِلْقَوْمِ جَزُورٌ أَوْ بَعِيرٌ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَوْمُ يُلْقُونَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّحْمَ يَقُولُ أَطْيَبُ اللَّحْمِ لَحْمُ الظَّهْرِ
ایک مرتبہ ایک اونٹ ذبح ہوا تو حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) نے حضرت ابن زبیر (رض) سے فرمایا کہ انہوں نے ایک موقع پر نبی ﷺ کو جبکہ لوگ نبی ﷺ کے سامنے گوشت لاکر پیش کر رہے تھے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بہترین گوشت پشت کا ہوتا ہے۔
1654
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا مَهْدِيٌّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَعْقُوبَ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَى الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُخْبِرُ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ فِي حَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ فَدَخَلَ يَوْمًا حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ قَدْ أَتَاهُ فَجَرْجَرَ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ قَالَ بَهْزٌ وَعَفَّانُ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرَاتَهُ وَذِفْرَاهُ فَسَكَنَ فَقَالَ مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ فَجَاءَ فَتًى مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ هُوَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَمَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَهَا اللَّهُ إِنَّهُ شَكَا إِلَيَّ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُ
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے اپنی سواری پر بٹھایا اور میرے ساتھ سرگوشی میں ایسی بات کہی جو میں کسی کو کبھی نہیں بتاؤں گا اور نبی ﷺ کی عادت تھی کہ قضاء حاجت کے موقع پر کسی اونچی عمارت یا درختوں کے جھنڈ کی آڑ میں ہوجاتے تھے، ایک دن نبی ﷺ کسی انصاری کے باغ میں داخل ہوئے، اچانک ایک اونٹ آیا اور آپ ﷺ کے قدموں میں لوٹنے لگا، اس وقت اس کی آنکھوں میں آنسو تھے، نبی ﷺ نے اس کی کمر پر اور سر کے پچھلے حصے پر ہاتھ پھیرا جس سے وہ پرسکون ہوگیا، پھر نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس اونٹ کا مالک کون ہے ؟ جو اللہ نے تمہاری ملکیت میں کردیا ہے، اللہ سے ڈرتے نہیں، یہ مجھ سے شکایت کر رہا ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور اس سے محنت ومشقت کا کام زیادہ لیتے ہو۔
1655
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي رَافِعٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَذَكَرَ أَنَّهُ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَتَّمُ فِي يَمِينِهِ
حماد بن سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن ابی رافع کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہن رکھی ہے، میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) کو دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنے ہوئے دیکھا ہے اور ان کے بقول نبی ﷺ بھی دائیں ہاتھ میں انگوٹھی پہنتے تھے۔
1656
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو نماز میں شک ہوجائے، اسے چاہیے کہ وہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔
1657
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ أُمِّ كِلَابٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ جَعْفَرٍ قَالَ أَحَدُهُمَا ذِي الْجَنَاحَيْنِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا عَطَسَ حَمِدَ اللَّهَ فَيُقَالُ لَهُ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَيَقُولُ يَهْدِيكُمُ اللَّهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسی شخص کو چھینک آئے تو وہ الحمدللہ کہے، سننے والا یرحمک اللہ کہے اور چھینکنے والا پھر یہدیکم اللہ ویصلح بالکم کہے۔
1658
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ آخِرَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِحْدَى يَدَيْهِ رُطَبَاتٌ وَفِي الْأُخْرَى قِثَّاءٌ وَهُوَ يَأْكُلُ مِنْ هَذِهِ وَيَعَضُّ مِنْ هَذِهِ وَقَالَ إِنَّ أَطْيَبَ الشَّاةِ لَحْمُ الظَّهْرِ
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی آخری کیفیت جو میں نے دیکھی، وہ یہ تھی کہ آپ ﷺ کے ایک ہاتھ میں تر کھجوریں تھیں اور دوسرے میں ککڑی، آپ ﷺ اس سے کھجور کھاتے اور اس سے ککڑی کاٹتے اور فرمایا کہ بہترین گوشت پشت کا ہوتا ہے۔
1659
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَ يُحَدِّثُ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا اسْتَعْمَلَ عَلَيْهِمْ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَقَالَ فَإِنْ قُتِلَ زَيْدٌ أَوْ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ جَعْفَرٌ فَإِنْ قُتِلَ أَوْ اسْتُشْهِدَ فَأَمِيرُكُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَلَقُوا الْعَدُوَّ فَأَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ جَعْفَرٌ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَتَى خَبَرُهُمْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى النَّاسِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ إِنَّ إِخْوَانَكُمْ لَقُوا الْعَدُوَّ وَإِنَّ زَيْدًا أَخَذَ الرَّايَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوْ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ بَعْدَهُ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوْ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ أَوْ اسْتُشْهِدَ ثُمَّ أَخَذَ الرَّايَةَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَأَمْهَلَ ثُمَّ أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ فَقَالَ لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ أَوْ غَدٍ ادْعُوا لِي ابْنَيْ أَخِي قَالَ فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ فَقَالَ ادْعُوا إِلَيَّ الْحَلَّاقَ فَجِيءَ بِالْحَلَّاقِ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا ثُمَّ قَالَ أَمَّا مُحَمَّدٌ فَشَبِيهُ عَمِّنَا أَبِي طَالِبٍ وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَشَبِيهُ خَلْقِي وَخُلُقِي ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَأَشَالَهَا فَقَالَ اللَّهُمَّ اخْلُفْ جَعْفَرًا فِي أَهْلِهِ وَبَارِكْ لِعَبْدِ اللَّهِ فِي صَفْقَةِ يَمِينِهِ قَالَهَا ثَلَاثَ مِرَارٍ قَالَ فَجَاءَتْ أُمُّنَا فَذَكَرَتْ لَهُ يُتْمَنَا وَجَعَلَتْ تُفْرِحُ لَهُ فَقَالَ الْعَيْلَةَ تَخَافِينَ عَلَيْهِمْ وَأَنَا وَلِيُّهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ
حضرت عبداللہ بن جعفر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس کا امیر حضرت زید بن حارثہ (رض) کو مقرر فرمایا : ان کی شہادت کی صورت میں حضرت جعفر (رض) کو اور ان کی شہادت کی صورت میں حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) کو امیر مقرر فرمایا : دشمن سے آمنا سامنا ہوا، حضرت زید بن حارثہ (رض) نے جھنڈا ہاتھ میں پکڑ کر اس بےجگری سے جنگ کی کہ شہید ہوگئے، پھر حضرت جعفر (رض) نے جھنڈا ہاتھ میں لے کر قتال شروع کیا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر حضرت عبداللہ بن رواحہ (رض) نے جھنڈا ہاتھ میں لے کر جنگ شروع کی لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر حضرت خالد بن ولید (رض) جھنڈا اپنے ہاتھ میں لیا اور ان کے ہاتھ پر اللہ نے مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی۔ نبی ﷺ کو جب اس واقعہ کی خبر ملی تو آپ ﷺ لوگوں کے پاس تشریف لائے، اللہ کی حمدوثناء کی اور فرمایا تمہارے بھائیوں کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا، زید (رض) نے جھنڈا پکڑ کر قتال شروع کیا اور شہید ہوگئے، ان کے بعد جعفر بن ابی طالب (رض) نے جھنڈا پکڑ کر جنگ شروع کی اور وہ بھی شہید ہوگئے، پھر عبداللہ بن رواحہ (رض) نے جھنڈا تھاما اور قتال شروع کیا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، اس کے بعد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار خالد بن ولید (رض) نے جھنڈا پکڑ کر جنگ شروع کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح عطاء فرمائی۔ پھر تین دن بعد نبی ﷺ حضرت جعفر (رض) کے اہل خانہ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ آج کے بعد میرے بھائی پر مت رونا، میرے دونوں بھتیجوں کو میرے پاس لاؤ، ہمیں نبی ﷺ کے پاس لایا گیا، ہم اس وقت چوزوں کی طرح تھے، نبی ﷺ نے نائی کو بلانے کے لئے حکم دیا، اس نے آکر ہمارے سر مونڈے، پھر فرمایا ان میں سے محمد تو ہمارے چچا ابوطالب کے مشابہ ہے اور عبداللہ صورت و سیرت میں میرے مشابہ ہے، پھر نبی ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور دعاء فرمائی کہ اے اللہ ! جعفر کے اہل خانہ کو اس کا نعم البدل عطاء فرما اور عبداللہ کے دائیں ہاتھ کے معاملے میں برکت عطاء فرما، یہ دعاء نبی ﷺ نے تین مرتبہ فرمائی۔ اتنی دیر میں ہماری والدہ بھی آگئیں اور ہماری یتیمی اور اپنے غم کا اظہار کرنے لگیں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ تمہیں ان پر فقر و فاقہ کا اندیشہ ہے ؟ میں دنیا و آخرت میں ان بچوں کا سرپرست ہوں۔