hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

910. حضرت عطیہ قرظی کی مرویات

مسند احمد

21611
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ قَالَ عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ فَشَكُّوا فِيَّ فَأَمَرَ بِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْظُرُوا إِلَيَّ هَلْ أَنْبَتُّ بَعْدُ فَنَظَرُوا فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فَخَلَّى عَنِّي وَأَلْحَقَنِي بِالسَّبْيِ
حضرت عطیہ قرظی (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر ہمیں نبی کریم ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا تو یہ فیصلہ ہوا کہ جس کے زیر ناف بال اگ آئے ہیں اسے قتل کردیا جائے اور جس کے زیرناف بال نہیں اگے اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے۔ میں ان لوگوں میں سے تھا جن کے بال نہیں اگے تھے مجھے چھوڑ دیا گیا۔
21612
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ سَمِعَ عَطِيَّةَ يَقُولُ كُنْتُ يَوْمَ حَكَمَ سَعْدٌ فِيهَا غُلَامًا فَلَمْ يَجِدُونِي أَنْبَتُّ فِيهَا فَهَا أَنَا ذَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ
حضرت عطیہ (رض) کہتے ہیں کہ جس دن حضرت سعد (رض) نے بنوقریظہ کے متعلق فیصلہ فرمایا ہے میں ایک چھوٹا لڑکا تھا انہوں نے میرے زیرناف بال اگے ہوئے نہیں پائے اسی وجہ سے آج میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔