hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

923. متعدد صحابہ کرام (رض) کی مرویات

مسند احمد

21989
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ أَخْبَرَنِي رَجُلَانِ أَنَّهُمَا أَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يَسْأَلَانِهِ الصَّدَقَةَ قَالَ فَرَفَعَ فِيهِمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَصَرَ وَخَفَضَهُ فَرَآهُمَا رَجُلَيْنِ جَلْدَيْنِ فَقَالَ إِنْ شِئْتُمَا أَعْطَيْتُكُمَا مِنْهَا وَلَا حَظَّ فِيهَا لِغَنِيٍّ وَلَا لِقَوِيٍّ مُكْتَسِبٍ
دو آدمی ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں صدقات و عطیات کی درخواست لے کر آئے نبی کریم ﷺ نے نگاہ اٹھا کر انہیں اوپر سے نیچے تک دیکھا اور انہیں تندرست و توانا پایا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہتے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن اس میں کسی مالدار شخص کا کوئی حصہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی ایسے طاقتور کا جو کمائی کرسکے۔
21990
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ حَدَّثَنَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسِيرُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَنَامَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَانْطَلَقَ بَعْضُهُمْ إِلَى نَبْلٍ مَعَهُ فَأَخَذَهَا فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ الرَّجُلُ فَزِعَ فَضَحِكَ الْقَوْمُ فَقَالَ مَا يُضْحِكُكُمْ فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنَّا أَخَذْنَا نَبْلَ هَذَا فَفَزِعَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُرَوِّعَ مُسْلِمًا
ابن ابی لیلی (رض) سے مروی ہے کہ ہمیں کئی صحابہ (رض) نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر پر جا رہے تھے ان میں سے ایک آدمی سو گیا ایک آدمی چپکے سے اس کی طرف بڑھا اور اس کا تیر اٹھا لیاجب وہ آدمی اپنی نیند سے بیدار ہوا تو وہ خوفزدہ ہوگیا لوگ اس کی اس کیفیت پر ہنسنے لگے نبی کریم ﷺ نے لوگوں سے ان کے ہنسنے کی وجہ پوچھی لوگوں نے کہا ایسی تو کوئی بات نہیں ہے بس ہم نے اس کا تیر لے لیا تھا جس پر یہ خوفزدہ ہوگیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کے لئے حلال نہیں ہے کہ کسی مسلمان کو خوفزدہ کرے۔
21991
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ حَكِيمٍ أَخْبَرَنِي تَمِيمُ بْنُ يَزِيدَ مَوْلَى بَنِي زَمْعَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ قَالَ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تُخْبِرْنَا مَا هُمَا ثُمَّ قَالَ اثْنَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى إِذَا كَانَتْ الثَّالِثَةُ أَجْلَسَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا تَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ يُبَشِّرُنَا فَتَمْنَعُهُ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ فَقَالَ ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا لوگو ! دو چیزیں ہیں جن کے شر سے اللہ کسی کو بچالے تو وہ جنت میں داخل ہوگا اس پر ایک انصاری آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ وہ دونوں چیزیں ہمیں نہ بتائیے (کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ان پر عمل نہ کرسکیں) نبی کریم ﷺ نے دوبارہ اپنی بات دہرائی اور اس انصاری نے پھر وہی بات کہی تیسری مرتبہ اس کے ساتھیوں نے اسے روک دیا اور کہنے لگے کہ نبی کریم ﷺ ہمیں خوشخبری دینا چاہتے ہیں تم دیکھ بھی رہے ہو اور پھر بھی انہیں روک رہے ہو ؟ اس نے کہا مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں لوگ صرف اس پر ہی بھروسہ کر کے نہ بیٹھ جائیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا دو چیزیں ہیں جن کے شر سے اللہ کسی کو بچالے تو وہ جنت میں داخل ہوگا ایک تو وہ چیز جو دو جبڑوں کے درمیان ہے اور ایک وہ چیز جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے۔
21992
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَاتِلِ وَالْآمِرِ قَالَ قُسِّمَتْ النَّارُ سَبْعِينَ جُزْءًا فَلِلْآمِرِ تِسْعٌ وَسِتُّونَ وَلِلْقَاتِلِ جُزْءٌ وَحَسْبُهُ
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی کریم ﷺ سے قاتل اور قتل کا حکم دینے والے کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا جہنم کی آگ کو ستر حصوں پر تقسیم کیا گیا ہے ان میں سے ٦٩ حصے قتل کا حکم دینے والے کے لئے ہیں اور ایک حصہ قتل کرنے والے کے لئے ہے اور اس کے لئے اتنا بھی کافی ہے۔
21993
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِي جَارٌ لِخَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لِخَدِيجَةَ أَيْ خَدِيجَةُ وَاللَّهِ لَا أَعْبُدُ اللَّاتَ أَبَدًا وَاللَّهِ لَا أَعْبُدُ الْعُزَّى أَبَدًا قَالَ فَتَقُولُ خَدِيجَةُ حِلَّ الْعُزَّى قَالَ كَانَتْ صَنَمَهُمْ الَّتِي يَعْبُدُونَ ثُمَّ يَضْطَجِعُونَ
حضرت خدیجہ (رض) کے ایک پڑوسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو حضرت خدیجہ (رض) سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے اے خدیجہ ! بخدا ! میں لات کی عبادت کبھی نہیں کروں گا اللہ کی قسم میں عزیٰ کی عبادت کبھی نہیں کروں گا حضرت خدیجہ (رض) نے فرمایا آپ عزی وغیرہ کے حوالے سے اپنی قسم پوری کیجئے راوی کہتے ہیں کہ یہ ان بتوں کے نام تھے جن کی مشرکین عبادت کرتے تھے پھر اپنے بستروں پر لیٹتے تھے۔
21994
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْبَيْلَمَانِيِّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَابَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِيَوْمٍ قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ قَالَ فَحَدَّثَهُ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَابَ إِلَى اللَّهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِنِصْفِ يَوْمٍ قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ قَالَ فَحَدَّثَنِيهَا رَجُلٌ آخَرُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَابَ إِلَى اللَّهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِضَحْوَةٍ قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ قَالَ فَحَدَّثَهُ رَجُلًا آخَرَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ يُغَرْغِرَ نَفَسُهُ قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ
عبدالرحمن بن بیلمانی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے چار صحابہ کرام (رض) کہیں اکٹھے ہوئے تو ان میں سے ایک کہنے لگے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر بندہ مرنے سے ایک دن پہلے بھی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ دوسرے نے کہا کیا واقعی آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ پہلے نے جواب دیا جی ہاں ! دوسرے نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی بندہ مرنے سے صرف آدھا دن پہلے بھی توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ تیسرے نے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ دوسرے نے اثبات میں جواب دیا اس پر تیسرے نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر کوئی بندہ مرنے سے چوتھائی دن پہلے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرما لیتا ہے۔ چوتھے نے پوچھا کیا واقعی آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ جب تک بندے پر نزع کی کیفیت طاری نہیں ہوتی اللہ تعالیٰ اس وقت تک اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
21995
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَصْبَحَ النَّاسُ صِيَامًا لِتَمَامِ ثَلَاثِينَ قَالَ فَجَاءَ أَعْرَابِيَّانِ فَشَهِدَا أَنَّهُمَا أَهَلَّا الْهِلَالَ بِالْأَمْسِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَأَفْطَرُوا
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے ماہ رمضان کے ٣٠ ویں دن کا بھی روزہ رکھا ہوا تھا کہ دو دیہاتی آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شہادت دی کہ کل رات انہوں نے عید کا چاند دیکھا تھا تو نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو روزہ ختم کرنے کا حکم دے دیا۔
21996
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنِي قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ عَنِ الْأَعْرَابِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ
ایک دیہاتی صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ماہ رمضان کے اور ہر مہینے تین روزے رکھنا سینے کے کینے کو دور کردیتا ہے۔
21997
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ وَالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے۔
21998
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ شَبِيبٍ أَبِي رَوْحٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَقَرَأَ فِيهِمَا بِالرُّومِ فَالْتُبِسَ عَلَيْهِ فِي الْقِرَاءَةِ فَلَمَّا صَلَّى قَالَ مَا بَالُ رِجَالٍ يَحْضُرُونَ مَعَنَا الصَّلَاةَ بِغَيْرِ طُهُورٍ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَلْبِسُونَ عَلَيْنَا صَلَاتَنَا مَنْ شَهِدَ مَعَنَا الصَّلَاةَ فَلْيُحْسِنْ الطُّهُورَ
حضرت ابو روح (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں نماز پڑھائی جس میں سورت روم کی تلاوت فرمائی دوران تلاوت آپ ﷺ پر کچھ اشتباہ ہوگیا نماز کے بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ شیطان نے ہمیں قرأت کے دوران اشتباہ میں ڈال دیا جس کی وجہ وہ لوگ ہیں جو نماز میں بغیر وضو کے آجاتے ہیں اس لئے جب تم نماز کے لئے آیا کرو تو خوب اچھی طرح وضو کیا کرو۔