Musnad Imam Ahmad
835. وہ حدیثیں جو ابوالعالیہ ریاحی نے ان سے نقل کی ہیں۔
مسند احمد
20276
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُيَسَّرٍ الصَّاغَانِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مُحَمَّدُ انْسُبْ لَنَا رَبَّكَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا کہ اے محمد ! ﷺ ہمارے سامنے اپنے رب کا نسب نامہ بیان کرو اس پر اللہ تعالیٰ نے سورت اخلاص نازل فرمائی کہ اے نبی کریم ﷺ کہہ دیجئے کہ وہ اللہ اکیلا ہے اللہ بےنیاز ہے، اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ ہی کوئی اس کا ہمسر ہے۔
20277
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ وَالدِّينِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ وَهُوَ يَشُكُّ فِي السَّادِسَةِ قَالَ فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ قَالَ عَبْد اللَّهِ قَالَ أَبِي أَبُو سَلَمَةَ هَذَا الْمُغِيرَةُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخُو عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيِّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْخُرَاسَانِيِّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس امت کو عظمت و رفعت، دین ونصرت اور زمین میں اقتدار کی خوشخبری دے دو (چھٹی چیز میں راوی کو شک ہے) سو جو ان میں سے آخرت کا عمل دنیا کے لئے کرے گا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سے بھی مروی ہے۔
20278
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد قَالَ و حَدَّثَنِي أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مُغِيرَةَ السَّرَّاجِ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ فَمَنْ عَمِلَ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ وَهَذَا لَفْظُ الْمُقَدَّمِيِّ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس امت کو عظمت و رفعت، دین و نصرت اور زمین میں اقتدار کی خوشخبری دے دو (چھٹی چیز میں راوی کو شک ہے) سو جو ان میں سے آخرت کا عمل دنیا کے لئے کرے گا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
20279
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس امت کو عظمت و رفعت، دین و نصرت اور زمین میں اقتدار کی خوشخبری دے دو (چھٹی چیز میں راوی کو شک ہے) سو جو ان میں سے آخرت کا عمل دنیا کے لئے کرے گا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
20280
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْبِلَادِ وَالنَّصْرِ وَالرِّفْعَةِ فِي الدِّينِ وَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعَمَلِ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا فَلَيْسَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس امت کو عظمت و رفعت، دین و نصرت اور زمین میں اقتدار کی خوشخبری دے دو (چھٹی چیز میں راوی کو شک ہے) سو جو ان میں سے آخرت کا عمل دنیا کے لئے کرے گا اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
20281
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنْ الطُّوَلِ ثُمَّ رَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَرَأَ بِسُورَةٍ مِنْ الطُّوَلِ ثُمَّ رَكَعَ خَمْسَ رَكَعَاتٍ وَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ جَلَسَ كَمَا هُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ يَدْعُو حَتَّى انْجَلَى كُسُوفُهَا
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوا تو نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں ایک لمبی سورت کی تلاوت فرمائی اور پانچ رکوعات اور دو سجدے کئے پھر دوسری رکعت میں بھی کھڑے ہو کر ایک طویل سورت پڑھی پانچ رکوع اور دو سجدے کئے پھر حسب عادت قبلہ رخ ہو کر بیٹھ کر دعاء کرنے لگے یہاں تک کہ سورج گرہن ختم ہوگیا۔
20282
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُمْ جَمَعُوا الْقُرْآنَ فِي مَصَاحِفَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ رِجَالٌ يَكْتُبُونَ وَيُمْلِي عَلَيْهِمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ مِنْ سُورَةِ بَرَاءَةٌ ثُمَّ انْصَرَفُوا صَرَفَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ فَظَنُّوا أَنَّ هَذَا آخِرُ مَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ فَقَالَ لَهُمْ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِي بَعْدَهَا آيَتَيْنِ لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ إِلَى وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ثُمَّ قَالَ هَذَا آخِرُ مَا أُنْزِلَ مِنْ الْقُرْآنِ قَالَ فَخُتِمَ بِمَا فُتِحَ بِهِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَهُوَ قَوْلُ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا يُوحَى إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ حضرت صدیق اکبر (رض) کے دور خلافت میں انہوں نے قرآن کریم کو جمع کیا جو کہ مصاحف کی شکل میں تھا کچھ افراد لکھتے تھے اور حضرت ابی بن کعب (رض) انہیں املاء کرواتے تھے جب وہ سورت برأت کی اس آیت " ثم انصرفوا صرف اللہ قلوبہم۔۔۔۔۔۔۔۔ " پر پہنچے تو دیگر صحابہ (رض) کا یہ خیال تھا کہ قرآن کریم کی سب سے آخر میں نازل ہونے والی آیات یہی ہیں لیکن حضرت ابی بن کعب (رض) نے ان سے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے اس کے بعد بھی دو آیتیں پڑھائی ہیں " لقدجائکم رسول من انفسکم عزیز علیہ ماعنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤوف رحیم الی وہورب العرش العظیم " اور فرمایا کہ یہ وہ آیات ہیں جو قرآن کریم میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہیں اور قرآن کریم کا اختتام بھی ان ہی آیات پر ہوا جن سے وحی کا آغاز ہوا تھا یعنی اس اللہ کے نام سے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں حضرت ابی (رض) کا اشارہ اس آیت کی طرف تھا کہ " ہم نے آپ سے پہلے جتنے رسول بھی بھیجے ہر ایک طرف یہی وحی کی گئی کہ میرے علاوہ کوئی معبود نہیں لہٰذا میری ہی عبادت کرو۔ "
20283
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عَنْ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ الْآيَةَ قَالَ هُنَّ أَرْبَعٌ وَكُلُّهُنَّ عَذَابٌ وَكُلُّهُنَّ وَاقِعٌ لَا مَحَالَةَ فَمَضَتْ اثْنَتَانِ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً فَأُلْبِسُوا شِيَعًا وَذَاقَ بَعْضُهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ وَثِنْتَانِ وَاقِعَتَانِ لَا مَحَالَةَ الْخَسْفُ وَالرَّجْمُ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ شَقِيقٍ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّازِيُّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ قُلْ هُوَ الْقَادِرُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ الْخَسْفُ وَالْقَذْفُ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے اس ارشاد باری تعالیٰ " و ہو القادر علی ان یبعث علیکم۔۔۔۔۔۔۔۔ " کی تفسیر میں مروی ہے کہ یہ چار چیزیں ہیں اور چاروں عذاب ہیں اور سب کی سب یقینا واقع ہو کر رہیں گی چناچہ ان میں سے دو تو نبی کریم ﷺ کے وصال کے صرف پچیس سال بعد ہی واقع ہوگئیں یعنی مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ گئے اور ایک دوسرے سے جنگ کا مزہ چکھنے لگے اور دو رہ گئیں جو یقینا رونما ہو کر رہیں گی یعنی زمین میں دھنسنا اور آسمان سے پتھروں کی بارش ہونا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
20284
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ هَدِيَّةُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْمَرْوَزِيُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ قُتِلَ مِنْ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ رَجُلًا وَمِنْ الْمُهَاجِرِينَ سِتَّةٌ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَئِنْ كَانَ لَنَا يَوْمٌ مِثْلُ هَذَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ لَنُرْبِيَنَّ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ قَالَ رَجُلٌ لَا يُعْرَفُ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمِنَ الْأَسْوَدُ وَالْأَبْيَضُ إِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا نَاسًا سَمَّاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَصْبِرُ وَلَا نُعَاقِبُ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر انصار کے ٦٤ اور مہاجرین کے چھ آدمی شہید ہوئے صحابہ کرام (رض) کہنے لگے کہ آج کے بعد مشرکین کے ساتھ جنگ کا کوئی ایسا موقع دوبارہ آیا تو ہم سود سمیت اس کا بدلہ لیں گے چناچہ فتح مکہ کے دن ایک غیر معروف آدمی کہنے لگا آج کے بعد قریش نہیں رہیں گے اس پر نبی کریم ﷺ کے منادی نے یہ اعلان کردیا کہ ہر سیاہ وسفید کو امن دیا جاتا ہے سوائے فلاں فلاں آدمی کے جن کا نام نبی کریم ﷺ نے بتادیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اگر تم بدلہ لینا چاہتے ہو تو اتنی سزا دو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی ہے اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے بہت عمدہ چیز ہے " اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہم صبر کریں گے اور بدلہ نہیں لیں گے "۔
20285
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ قَدِمَ مِنْ الْكُوفَةِ حَدَّثَنَا أَبُو نُمَيْلَةَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ الْكِنْدِيُّ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ حَدَّثَنِي أَبُو الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ أُصِيبَ يَوْمَ أُحُدٍ مِنْ الْأَنْصَارِ أَرْبَعَةٌ وَسِتُّونَ وَأُصِيبَ مِنْ الْمُهَاجِرِينِ سِتَّةٌ وَحَمْزَةُ فَمَثَّلُوا بِقَتْلَاهُمْ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ لَئِنْ أَصَبْنَا مِنْهُمْ يَوْمًا مِنْ الدَّهْرِ لَنُرْبِيَنَّ عَلَيْهِمْ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ نَادَى رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ لَا يُعْرَفُ لَا قُرَيْشَ بَعْدَ الْيَوْمِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُمْ بِهِ الْآيَةَ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُفُّوا عَنْ الْقَوْمِ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے موقع پر انصار کے ٦٤ اور مہاجرین کے چھ آدمی اور حضرت حمزہ (رض) شہید ہوئے صحابہ کرام (رض) کہنے لگے کہ آج کے بعد مشرکین کے ساتھ جنگ کا کوئی ایسا موقع دوبارہ آیا تو ہم سود سمیت اس کا بدلہ لیں گے چناچہ فتح مکہ کے دن ایک غیر معروف آدمی کہنے لگا آج کے بعد قریش نہیں رہیں گے اس پر نبی کریم ﷺ کے منادی نے یہ اعلان کردیا کہ ہر سیاہ وسفید کو امن دیا جاتا ہے سوائے فلاں فلاں آدمی کے جن کا نام نبی کریم ﷺ نے بتادیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اگر تم بدلہ لینا چاہتے ہو تو اتنی سزا دو جتنی تمہیں تکلیف دی گئی ہے اور اگر تم صبر کرو تو یہ صبر کرنے والوں کے لئے بہت عمدہ چیز ہے " اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا قریش سے اپنا ہاتھ روک لو۔