Musnad Imam Ahmad
1161. حضرت اسماء بنت یزید کی حدیثیں
مسند احمد
26324
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَبِي وَقُرِئَ عَلَى سُفْيَانَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَجْمَعْنَ جُوعًا وَكَذِبًا
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا مت کرو۔
26325
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ سَمِعَ شَهْرًا يَقُولُ سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ إِحْدَى نِسَاءِ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ تَقُولُ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي نِسْوَةٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَقَالَ إِيَّاكُنَّ وَكُفْرَ الْمُنَعَّمِينَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا كُفْرُ الْمُنَعَّمِينَ قَالَ لَعَلَّ إِحْدَاكُنَّ أَنْ تَطُولَ أَيْمَتُهَا بَيْنَ أَبَوَيْهَا وَتَعْنُسَ فَيَرْزُقَهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ زَوْجًا وَيَرْزُقَهَا مِنْهُ مَالًا وَوَلَدًا فَتَغْضَبَ الْغَضْبَةَ فَرَاحَتْ تَقُولُ مَا رَأَيْتُ مِنْهُ يَوْمًا خَيْرًا قَطُّ وَقَالَ مَرَّةً خَيْرًا قَطُّ
حضرت اسماء بنت یزید " جن کا تعلق بنی عبدالاشہل سے ہے " کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی ہمارے پاس سے گذرے، ہم کچھ عورتوں کے ساتھ تھے، نبی نے ہمیں سلام کیا اور فرمایا احسان کرنے والوں کی ناشکری سے اپنے آپ کو بچاؤ، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! احسان کرنے والوں کی ناشکری سے کیا مراد ہے ؟ نبی نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی عورت اپنے ماں باپ کے یہاں طویل عرصے تک رشتے کے انتظار میں بیٹھی رہے، پھر اللہ اسے شوہر عطاء فرما دے اور اس سے اسے مال و دولت بھی عطاء فرما دے اور وہ پھر کسی دن غصے میں آکر یوں کہہ دے کہ میں نے تو تجھ سے کبھی خیر نہیں دیکھی۔
26326
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُهَاجِرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ سِرًّا فَإِنَّ قَتْلَ الْغَيْلِ يُدْرِكُ الْفَارِسَ فَيُدَعْثِرُهُ عَنْ ظَهْرِ فَرَسِهِ
حضرت اسماء بنت یزید سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی اولاد کو خفیہ قتل نہ کیا کرو، کیونکہ حالت رضاعت میں بیوی سے قربت کے نتیجے میں دودھ پینے والا بچہ جب بڑا ہوتا ہے تو گھوڑا اسے اپنی پشت سے گرا دیتا ہے (وہ جم کر گھوڑے پر نہیں بیٹھ سکتا)
26327
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ عَنْ شَهْرٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ فَدَنَوْتُ وَعَلَيَّ سِوَارَانِ مِنْ ذَهَبٍ فَبَصُرَ بِبَصِيصِهِمَا فَقَالَ أَلْقِي السِّوَارَيْنِ يَا أَسْمَاءُ أَمَا تَخَافِينَ أَنْ يُسَوِّرَكِ اللَّهُ بِسِوَارٍ مِنْ نَارٍ قَالَتْ فَأَلْقَيْتُهُمَا فَمَا أَدْرِي مَنْ أَخَذَهُمَا
حضرت اسماء بنت یزید سے مروی ہے کہ میں نبی کی خدمت میں بیعت کرنے حاضر ہوئی، جب میں نبی کے قریب ہوئی تو نبی کی نظر میرے ان دو کنگنوں کے اوپر پڑی جو میں نے پہنے ہوئے تھے، نبی نے فرمایا اسماء ! یہ دونوں کنگن اتار دو ، کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتیں کہ اللہ ان کے بدلے میں تمہیں آگ کے دو کنگن پہنائے، چناچہ میں نے انہیں اتار دیا اور مجھے یاد نہیں کہ انہیں کس نے لے لیا تھا۔
26328
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِى ابْنَ يَزِيدَ الْأَوْدِيَّ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَصْلُحُ مِنْ الذَّهَبِ شَيْءٌ وَلَا بَصِيصُهُ
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا سونا اور ریشم کچھ بھی چمک کا فائدہ نہیں دیتے۔
26329
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ الْفَزَارِيُّ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ مِثْلَهُ
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی کی جس وقت وفات ہوئی تو آپ ﷺ کی زدہ رہن رکھی ہوئی تھی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
26330
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ شَهْرٍ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَتْ أَتَانَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِلَبَنٍ فَقَالَ أَتَشْرَبِينَ قُلْنَ لَا نَشْتَهِيهِ فَقَالَ لَا تَجْمَعْنَ كَذِبًا وَجُوعًا
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی ہمارے پاس آئے، ان کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا، انہوں نے عورتوں سے پوچھا کیا تم بھی پیو گی ؟ انہوں نے عرض کیا کہ ہمیں اس کی خواہش نہیں ہے نبی نے فرمایا بھوک اور جھوٹ کو اکٹھا نہ کرو۔
26331
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَقَالَ إِذَا كَانَ قَبْلَ خُرُوجِ الدَّجَّالِ بِثَلَاثِ سِنِينَ حَبَسَتْ السَّمَاءُ ثُلُثَ قَطْرِهَا وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ ثُلُثَ نَبَاتِهَا فَإِذَا كَانَتْ السَّنَةُ الثَّانِيَةُ حَبَسَتْ السَّمَاءُ ثُلُثَيْ قَطْرِهَا وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ ثُلُثَيْ نَبَاتِهَا فَإِذَا كَانَتْ السَّنَةُ الثَّالِثَةُ حَبَسَتْ السَّمَاءُ قَطْرَهَا كُلَّهُ وَحَبَسَتْ الْأَرْضُ نَبَاتَهَا كُلَّهُ فَلَا يَبْقَى ذُو خُفٍّ وَلَا ظِلْفٍ إِلَّا هَلَكَ فَيَقُولُ الدَّجَّالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ إِبِلَكَ ضِخَامًا ضُرُوعُهَا عِظَامًا أَسْنِمَتُهَا أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَتَمَثَّلُ لَهُ الشَّيَاطِينُ عَلَى صُورَةِ إِبِلِهِ فَيَتَّبِعُهُ وَيَقُولُ لِلرَّجُلِ أَرَأَيْتَ إِنْ بَعَثْتُ أَبَاكَ وَابْنَكَ وَمَنْ تَعْرِفُ مِنْ أَهْلِكَ أَتَعْلَمُ أَنِّي رَبُّكَ فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُمَثِّلُ لَهُ الشَّيَاطِينَ عَلَى صُوَرِهِمْ فَيَتَّبِعُهُ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ ثُمَّ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكُمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا ذَكَرْتَ مِنْ الدَّجَّالِ فَوَاللَّهِ إِنَّ أَمَةَ أَهْلِي لَتَعْجِنُ عَجِينَهَا فَمَا تَبْلُغُ حَتَّى تَكَادَ تَفَتَّتُ مِنْ الْجُوعِ فَكَيْفَ نَصْنَعُ يَوْمَئِذٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْفِي الْمُؤْمِنِينَ عَنْ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ يَوْمَئِذٍ التَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ ثُمَّ قَالَ لَا تَبْكُوا فَإِنْ يَخْرُجْ الدَّجَّالُ وَأَنَا فِيكُمْ فَأَنَا حَجِيجُهُ وَإِنْ يَخْرُجْ بَعْدِي فَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کے ساتھ ان کے گھر میں تھے، نبی نے فرمایا خروج دجال سے تین سال قبل آسمان ایک تہائی بارش اور زمین ایک تہائی نباتات روک لے گی، دوسرے سال آسمان دو تہائی بارش اور زمین دو تہائی پیداوار روک لے گی اور تیسرے سال آسمان اپنی مکمل بارش اور زمین اپنی مکمل پیداوار روک لے گی اور ہر موزے اور کھر والا ذی حیات ہلاک ہوجائے گا، اس موقع پر پر دجال ایک دیہاتی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے اونٹ زندہ کردوں، ان کے تھن بھرے اور بڑے ہوں اور ان کے کوہان عظیم ہوں تو کیا تم مجھے اپنا رب یقین کرلو گے ؟ وہ کہے گا ہاں ! چناچہ شیاطین اس کے سامنے اونٹوں کی شکل میں آئیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا۔ اسی طرح دجال ایک اور آدمی سے کہے گا یہ بتاؤ کہ اگر میں تمہارے باپ، تمہارے بیٹے اور تمہارے اہل خانہ میں سے ان تمام لوگوں کو جنہیں تم پہچانتے ہو زندہ کردوں تو کیا تم یقین کرلو گے کہ میں ہی تمہارا رب ہوں، وہ کہے گا ہاں ! چناچہ اس کے سامنے شیاطین ان صورتوں میں آجائیں گے اور وہ دجال کی پیروی کرنے لگے گا، پھر نبی تشریف لے آئے اور اہل خانہ رونے لگے، جب نبی واپس آئے ہم اس وقت رو رہے تھے، نبی نے پوچھا تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے دجال کا جو ذکر کیا ہے، واللہ میرے گھر میں جو باندی ہے، وہ آٹا گوندھ رہی ہوتی ہے، ابھی وہ اسے گوندھ کر فارغ نہیں ہونے پاتی کہ میرا کلیجہ بھوک کے مارے پارہ پارہ ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے تو اس دن ہم کیا کریں گے ؟ نبی نے فرمایا اس دن مسلمانوں کے لئے کھانے پینے کی بجائے تکبیر اور تسبیح وتحمید ہی کافی ہوگی، پھر نبی نے فرمایا مت روؤ، اگر میری موجودگی میں دجال نکل آیا تو میں اس سے مقابلہ کروں گا اور اگر میرے بعد اس کا خروج ہوا تو ہر مسلمان پر اللہ میرا نائب ہے۔
26332
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ إِنَّهُ عَمِلَ غَيْرَ صَالِحٍ وَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا وَلَا يُبَالِي إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ میں نے نبی کو یہ آیت اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے اور اس آیت کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔
26333
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ مَا يَحْمِلُكُمْ عَلَى أَنْ تَتَابَعُوا فِي الْكَذِبِ كَمَا يَتَتَابَعُ الْفَرَاشُ فِي النَّارِ كُلُّ الْكَذِبِ يُكْتَبُ عَلَى ابْنِ آدَمَ إِلَّا ثَلَاثَ خِصَالٍ رَجُلٌ كَذَبَ عَلَى امْرَأَتِهِ لِيُرْضِيَهَا أَوْ رَجُلٌ كَذَبَ فِي خَدِيعَةِ حَرْبٍ أَوْ رَجُلٌ كَذَبَ بَيْنَ امْرَأَيْنِ مُسْلِمَيْنِ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمَا
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی کو دورانِ خطبہ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اے لوگو ! تمہیں اس طرح جھوٹ میں گرنے کی " جیسے پروانے آگ میں گرتے ہیں " کیا مجبوری ہے ؟ ابن آدم کا ہر جھوٹ اس کے خلاف لکھا جاتا ہے سوائے تین جگہوں کے، ایک تو وہ آدمی جو اپنی بیوی کو خوش رکھنے کے لئے جھوٹ بولے، دوسرے وہ آدمی جو جنگ میں جھوٹ بولے، تیسرے وہ آدمی جو دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے جھوٹ بولے۔