hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

459. حضرت یعلی بن مرہ ثفقی (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

16891
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا مَا رَآهَا أَحَدٌ قَبْلِي وَلَا يَرَاهَا أَحَدٌ بَعْدِي لَقَدْ خَرَجْتُ مَعَهُ فِي سَفَرٍ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِامْرَأَةٍ جَالِسَةٍ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا صَبِيٌّ أَصَابَهُ بَلَاءٌ وَأَصَابَنَا مِنْهُ بَلَاءٌ يُؤْخَذُ فِي الْيَوْمِ مَا أَدْرِي كَمْ مَرَّةً قَالَ نَاوِلِينِيهِ فَرَفَعَتْهُ إِلَيْهِ فَجَعَلتْهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ وَاسِطَةِ الرَّحْلِ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثًا وَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ اخْسَأْ عَدُوَّ اللَّهِ ثُمَّ نَاوَلَهَا إِيَّاهُ فَقَالَ الْقَيْنَا فِي الرَّجْعَةِ فِي هَذَا الْمَكَانِ فَأَخْبِرِينَا مَا فَعَلَ قَالَ فَذَهَبْنَا وَرَجَعْنَا فَوَجَدْنَاهَا فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مَعَهَا شِيَاهٌ ثَلَاثٌ فَقَالَ مَا فَعَلَ صَبِيُّكِ فَقَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا حَسَسْنَا مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى السَّاعَةِ فَاجْتَرِرْ هَذِهِ الْغَنَمَ قَالَ انْزِلْ فَخُذْ مِنْهَا وَاحِدَةً وَرُدَّ الْبَقِيَّةَ قَالَ وَخَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَى الْجَبَّانَةِ حَتَّى إِذَا بَرَزْنَا قَالَ انْظُرْ وَيْحَكَ هَلْ تَرَى مِنْ شَيْءٍ يُوَارِينِي قُلْتُ مَا أَرَى شَيْئًا يُوَارِيكَ إِلَّا شَجَرَةً مَا أُرَاهَا تُوَارِيكَ قَالَ فَمَا بِقُرْبِهَا قُلْتُ شَجَرَةٌ مِثْلُهَا أَوْ قَرِيبٌ مِنْهَا قَالَ فَاذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَجْتَمِعَا بِإِذْنِ اللَّهِ قَالَ فَاجْتَمَعَتَا فَبَرَزَ لِحَاجَتِهِ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ اذْهَبْ إِلَيْهِمَا فَقُلْ لَهُمَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكُمَا أَنْ تَرْجِعَ كُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْكُمَا إِلَى مَكَانِهَا فَرَجَعَتْ قَالَ وَكُنْتُ عِنْدَهُ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ إِذْ جَاءَهُ جَمَلٌ يُخَبِّبُ حَتَّى صَوَّبَ بِجِرَانِهِ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَقَالَ وَيْحَكَ انْظُرْ لِمَنْ هَذَا الْجَمَلُ إِنَّ لَهُ لَشَأْنًا قَالَ فَخَرَجْتُ أَلْتَمِسُ صَاحِبَهُ فَوَجَدْتُهُ لِرَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَعَوْتُهُ إِلَيْهِ فَقَالَ مَا شَأْنُ جَمَلِكَ هَذَا فَقَالَ وَمَا شَأْنُهُ قَالَ لَا أَدْرِي وَاللَّهِ مَا شَأْنُهُ عَمِلْنَا عَلَيْهِ وَنَضَحْنَا عَلَيْهِ حَتَّى عَجَزَ عَنْ السِّقَايَةِ فَأْتَمَرْنَا الْبَارِحَةَ أَنْ نَنْحَرَهُ وَنُقَسِّمَ لَحْمَهُ قَالَ فَلَا تَفْعَلْ هَبْهُ لِي أَوْ بِعْنِيهِ فَقَالَ بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَوَسَمَهُ بِسِمَةِ الصَّدَقَةِ ثُمَّ بَعَثَ بِهِ
حضرت یعلی بن مروہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے تین ایسے معجزے دیکھے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نے نہیں دیکھے اور نہ بعد میں کوئی دیکھ سکے گا، چناچہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ کسی سفر پر نکلا، دوران سفر ہمارا گذر ایک عورت کے پاس سے ہوا جس کے ساتھ اس کا بچہ بھی تھا، وہ کہنے لگی یا رسول اللہ ! ﷺ اس بچے کو کوئی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے رہتے ہیں، دن میں نجانے کتنی مرتبہ اس پر اثر ہوتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اسے مجھے پکڑا دو ، اس نے پکڑا دیا، نبی ﷺ نے اس بچے کو اپنے اور کجاوے کے درمیان بٹھا لیا، پھر اس کا منہ کھول کر اس میں تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا بسم اللہ ! میں اللہ کا بندہ ہوں، اے دشمن خدا ! دور ہو، یہ کہہ کر وہ بچہ اس کی ماں کے حوالے کیا اور فرمایا جب ہم اس جگہ سے واپس گذریں تو ہمارے پاس اسے دوبارہ لانا اور بتانا کہ اب اس کی حالت کیسے رہی ؟ پھر ہم آگے چل پڑے، واپسی پر جب ہم دوبارہ وہاں پہنچے تو ہمیں اس جگہ پر اس عورت کے ساتھ تین بکریاں بھی نظر آئیں، نبی ﷺ نے پوچھا کہ تمہارا بچہ کیسا رہا ؟ اس نے جواب دیا کہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اب تک ہمیں اس کی بیماری محسوس نہیں ہوئی ہے ( اور یہ صحیح ہے) یہ بکریاں آپ لے جائیں، نبی ﷺ نے فرمایا نیچے اتر کر اس میں سے صرف ایک بکری لے لو اور باقی اسے واپس لوٹا دو ۔ اسی طرح ایک دن میں نبی ﷺ کے ساتھ صحراء کی طرف نکلا، وہاں پہنچ کر نبی ﷺ نے فرمایا ارے بھئی ! دیکھو، تمہیں کوئی جگہ نہیں دکھائی دے رہی اور بظاہر یہ درخت بھی آڑ نہیں بن سکتا، نبی ﷺ نے پوچھا اس کے قریب کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا کہ اسی جیسا یا اس کے قریب قریب ہی ایک اور درخت ہے، نبی ﷺ نے فرمایا تم ان دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اللہ کے اذن سے اکٹھے ہوجاؤ، چناچہ وہ دونوں اکٹھے ہوگئے اور نبی ﷺ نے قضاء حاجت فرمائی، پھر واپس آکر فرمایا ان سے جا کر کہہ دو کہ نبی ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ اپنی اپنی جگہ چلے جاؤ، چناچہ ایسا ہی ہوا۔ اسی طرح ایک دن میں نبی ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور نبی ﷺ کے سامنے آکر اپنی گردن ڈال دی اور پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا ارے بھئی ! دیکھو، یہ اونٹ کس کا ہے ؟ اس کا معاملہ عجیب محسوس ہوتا ہے، چناچہ میں اس کے مالک کی تلاش میں نکلا، مجھے معلوم ہوا کہ وہ ایک انصاری آدمی کا ہے، میں نے اسے بلایا اور نبی ﷺ کی خدمت میں پہنچا، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ اس اونٹ کا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے کہا کہ واللہ مجھے اور تو کچھ معلوم نہیں، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ہم اس پر کام کرتے تھے اور اس پر پانی لاد کر لاتے تھے، لیکن اب یہ پانی لانے سے عاجز آگیا تھا، اس لئے ہم نے آج رات یہ مشورہ کیا کہ اسے ذبح کر کے اس کا گوشت تقسیم کردیتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا ایسا مت کرو، یہ ہدیۃ مجھے دے دو ، یا قیمۃ دے دو ، اس نے کہا یا رسول اللہ ! ﷺ یہ آپ کا ہوا، نبی ﷺ نے اس پر صدقہ کی علامت لگائی اور اسے ان کے ساتھ بھیج دیا۔
16892
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ وَكِيعٌ مُرَّةَ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ وَلَمْ يَقُلْ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا بِهِ لَمَمٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اخْرُجْ عَدُوَّ اللَّهِ أَنَا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ فَبَرَأَ فَأَهْدَتْ إِلَيْهِ كَبْشَيْنِ وَشَيْئًا مِنْ أَقِطٍ وَشَيْئًا مِنْ سَمْنٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُذْ الْأَقِطَ وَالسَّمْنَ وَأَحَدَ الْكَبْشَيْنِ وَرُدَّ عَلَيْهَا الْآخَرَ
حضرت یعلی بن مرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس اپنا ایک بچہ لے کر آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! ﷺ اس بچے کو کوئی تکلیف ہے جس کی وجہ سے ہم پریشان ہوتے رہتے ہیں، نبی ﷺ نے اس کا منہ کھول کر اس میں تین مرتبہ اپنا لعاب دہن ڈالا اور فرمایا : بسم اللہ ! میں اللہ کا بندہ ہوں، اے دشمن خدا ! دور ہو، وہ بچہ اسی وقت ٹھیک ہوگیا، اس کی ماں نے دو مینڈھے، کچھ پنیر اور کچھ گھی نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا، نبی ﷺ نے فرمایا پنیر گھی اور ایک مینڈھا لے لو اور دوسرا واپس کردو۔
16893
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عُمَرَ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيِّ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ مَسَحَ وُجُوهَ أَصْحَابِهِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَأَصَبْتُ شَيْئًا مِنْ خَلُوقٍ فَمَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وُجُوهَ أَصْحَابِهِ وَتَرَكَنِي قَالَ فَرَجَعْتُ وَغَسَلْتُهُ ثُمَّ جِئْتُ إِلَى الصَّلَاةِ الْأُخْرَى فَمَسَحَ وَجْهِي وَقَالَ عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعُلَا تَابَ وَاسْتَهَلَّتْ السَّمَاءُ
حضرت یعلی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر سے پہلے اپنے ساتھیوں کے چہروں پر ہاتھ پھیرتے تھے، میں نے خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی لہذا نبی ﷺ نے دیگر صحابہ کے چہروں پر تو ہاتھ پھیرا لیکن مجھے چھوڑ دیا، میں نے واپس جا کر اسے دھویا اور دوسری نماز کے وقت حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیر کر فرمایا اچھے دین کے ساتھ واپس آئے، علا (یعلی) نے توبہ کرلی اور ان کی آواز آسمان تک پہنچی۔
16894
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ ابْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فِي الصَّلَاةِ وَيُبَارِكُ عَلَيْنَا قَالَ فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَمَسَحَ وُجُوهَ الَّذِينَ عَنْ يَمِينِي وَعَنْ يَسَارِي وَتَرَكَنِي وَذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ دَخَلْتُ عَلَى أُخْتٍ لِي فَمَسَحْتُ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ صُفْرَةٍ فَقِيلَ لِي إِنَّمَا تَرَكَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَى بِوَجْهِكَ فَانْطَلَقْتُ إِلَى بِئْرٍ فَدَخَلْتُ فِيهَا فَاغْتَسَلْتُ ثُمَّ إِنِّي حَضَرْتُ صَلَاةً أُخْرَى فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ وَجْهِي وَبَرَّكَ عَلَيَّ وَقَالَ عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعُلَا تَابَ وَاسْتَهَلَّتْ السَّمَاءُ
حضرت یعلی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر سے پہلے اپنے ساتھیوں کے چہروں پر ہاتھ پھیرتے تھے، میں نے خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی لہذا نبی ﷺ نے دیگر صحابہ کے چہروں پر تو ہاتھ پھیرا لیکن مجھے چھوڑ دیا، میں نے واپس جا کر اسے دھویا اور دوسری نماز کے وقت حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیر کر فرمایا اچھے دین کے ساتھ واپس آئے، علا (یعلی) نے توبہ کرلی اور ان کی آواز آسمان تک پہنچی۔
16895
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصٍ أَوْ أَبِي حَفْصِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ خَلُوقًا فَقَالَ أَلَكَ امْرَأَةٌ قَالَ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْهَبْ فَاغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ
حضرت یعلی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ پر خلوق نامی خوشبو لگی ہوئی دیکھی تو پوچھا کہ کیا تمہاری شادی ہوئی ہے ؟ میں نے عرض کیا نہیں، فرمایا تو جا کر اسے دھو اور دوبارہ مت لگانا۔
16896
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِي رَدْعٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ قَالَ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ قَالَ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ
حضرت یعلی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ پر زعفران کے نشان دیکھے تو فرمایا جا کر اسے تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا چناچہ میں نے اسے دھولیا اور دوبارہ نہیں لگایا۔
16897
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ صُفْرَةٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ قَالَ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ
حضرت یعلی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ پر زعفران کے نشان دیکھے تو فرمایا جا کر اسے تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا چناچہ میں نے اسے دھولیا اور دوبارہ نہیں لگایا۔
16898
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيَّ صُفْرَةٌ مِنْ زَعْفَرَانٍ فَقَالَ اغْسِلْهُ ثُمَّ اغْسِلْهُ ثُمَّ لَا تَعُدْ قَالَ فَغَسَلْتُهُ ثُمَّ لَمْ أَعُدْ
حضرت یعلی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ پر زعفران کے نشان دیکھے تو فرمایا جا کر اس تین مرتبہ دھو لو اور دوبارہ مت لگانا چناچہ میں نے اسے دھولیا اور دوبارہ نہیں لگایا۔
16899
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ قَالَ اغْتَسَلْتُ وَتَخَلَّقْتُ بِخَلُوقٍ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ وُجُوهَنَا فَلَمَّا دَنَا مِنِّي جَعَلَ يُجَافِي يَدَهُ عَنْ الْخَلُوقِ فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ يَا يَعْلَى مَا حَمَلَكَ عَلَى الْخَلُوقِ أَتَزَوَّجْتَ قُلْتُ لَا قَالَ لِي اذْهَبْ فَاغْسِلْهُ قَالَ فَمَرَرْتُ عَلَى رَكِيَّةٍ فَجَعَلْتُ أَقَعُ فِيهَا ثُمَّ جَعَلْتُ أَتَدَلَّكُ بِالتُّرَابِ حَتَّى ذَهَبَ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَادَ بِخَيْرِ دِينِهِ الْعُلَا تَابَ وَاسْتَهَلَّتْ السَّمَاءُ
حضرت یعلی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو تکبیر سے پہلے اپنے ساتھیوں کے چہروں پر ہاتھ پھیرتے تھے، میں نے خلوق نامی خوشبو لگا رکھی تھی لہذا نبی ﷺ نے دیگر صحابہ کے چہروں پر تو ہاتھ پھیرا لیکن مجھے چھوڑ دیا، میں نے واپس جا کر اسے دھویا اور دوسری نماز کے وقت حاضر ہوا تو نبی ﷺ نے میرے چہرے پر ہاتھ پھیر کر فرمایا اچھے دین کے ساتھ واپس آئے، علا (یعلی) نے توبہ کرلی اور ان کی آواز آسمان تک پہنچی۔
16900
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ الثَّقَفِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ عَلَيْهِ خَاتَمٌ مِنْ الذَّهَبِ عَظِيمٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتُزَكِّي هَذَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا زَكَاةُ هَذَا فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمْرَةٌ عَظِيمَةٌ عَلَيْهِ
حضرت یعلی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک آدمی حاضر ہوا جس نے سونے کی بہت بڑی (بھاری) انگوٹھی پہن رکھی، نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم اس کی زکوٰۃ ادا کرتے ہو ؟ اس نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اس کی زکوٰۃ کیا ہے ؟ جب وہ واپس چلا گیا تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ اس کے لئے ایک بہت بڑی چنگاڑی ہے۔