hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

278. حضرت ہشام بن عامر انصاری کی حدیثیں۔

مسند احمد

15664
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَصَابَ النَّاسَ قَرْحٌ وَجَهْدٌ شَدِيدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ نُقَدِّمُ قَالَ أَكْثَرَهُمْ جَمْعًا وَأَخْذًا لِلْقُرْآنِ
حضرت ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن لوگوں کو بڑے زخم اور مشکلات پیش آئیں نبی ﷺ نے فرمایا قبر کشادہ کر کے کھودو اور ایک ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کرو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ پہلے کسے رکھیں فرمایا جسے قرآن زیادہ یاد ہو۔
15665
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ كَانَ النَّاسُ يَشْتَرُونَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً إِلَى الْعَطَاءِ فَأَتَى عَلَيْهِمْ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ فَنَهَاهُمْ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْوَرِقِ نَسِيئَةً وَأَنْبَأَنَا أَوْ قَالَ وَأَخْبَرَنَا أَنَّ ذَلِكَ هُوَ الرِّبَا
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ لوگ چاندی کے بدلے وظیفہ ملنے تک کی تاریخ پر ادھار سونا لے لیا کرتے تھے حضرت ہشام بن عامر نے انہیں منع کیا اور فرمایا کہ نبی ﷺ نے ہمیں چاندی کے بدلے ادھار سونا خریدوفروخت کرنے سے منع فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ یہ عین سود ہے۔
15666
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ بَعْضِ أَشْيَاخِهِمْ قَالَ قَالَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ لِجِيرَانِهِ إِنَّكُمْ لَتَخُطُّونَ إِلَى رِجَالٍ مَا كَانُوا أَحْضَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَوْعَى لِحَدِيثِهِ مِنِّي وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَمْرٌ أَكْبَرُ مِنْ الدَّجَّالِ
حضرت ہشام بن عامرنے ایک مرتبہ اپنے پڑوسیوں سے فرمایا کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ بارگاہ نبوت میں حاضر باش تھے اور نہ ہی مجھ سے زیادہ احادیث کو یاد رکھنے والے تھے میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت آدم کی پیدائش سے قیامت کے درمیانی وقفہ میں دجال سے زیادہ کوئی بڑا واقعہ نہیں ہے۔
15667
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ إِنَّكُمْ لَتَخُطُّونَ إِلَى أَقْوَامٍ مَا هُمْ بِأَعْلَمَ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا وَكَانَ أَبِي أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقُدِّمَ
حضرت ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ نبی ﷺ کی احادیث کو جاننے والے نہیں ہیں غزوہ احد کے دن میرے والد صاحب شہید ہوگئے نبی ﷺ نے فرمایا قبریں کشادہ کرکے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کرو جسے قرآن زیادہ یاد ہو اسے پہلے رکھو اور چونکہ میرے والد صاحب کو قرآن زیادہ یاد تھا انہیں پہلے رکھا گیا تھا۔
15668
Musnad Imam Ahmad
قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا بَيْنَ خَلْقِ آدَمَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ أَمْرٌ أَعْظَمُ مِنْ الدَّجَّالِ
اور میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت آدم کی پیدائش سے قیامت کے درمیانی وقفے میں دجال سے زیادہ کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں ہے۔
15669
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَرْحَ يَوْمَ أُحُدٍ وَقَالُوا كَيْفَ تَأْمُرُ بِقَتْلَانَا قَالَ احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا فِي الْقَبْرِ الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَقَدِّمُوا أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا قَالَ هِشَامٌ فَقُدِّمَ أَبِي بَيْنَ يَدَيْ اثْنَيْنِ
حضرت ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ تم لوگ ایسے افراد کے پاس جاتے ہو جو مجھ سے زیادہ نبی ﷺ کی احادیث کو جاننے والے نہیں ہیں غزوہ احد کے دن میرے والد صاحب شہید ہوگئے نبی ﷺ نے فرمایا قبریں کشادہ کرکے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کرو جسے قرآن زیادہ یاد ہو اسے پہلے رکھو اور چونکہ میرے والد صاحب کو قرآن زیادہ یاد تھا انہیں پہلے رکھا گیا تھا۔
15670
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ قَالَ شُعْبَةُ قَرَأْتُهُ عَلَيْهِ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةَ قَالَتْ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَإِنْ كَانَ تَصَارَمَا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنْ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صُرَامِهِمَا وَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا فَسَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَتُهُ فَإِنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ فَإِنْ مَاتَا عَلَى صُرَامِهِمَا لَمْ يَجْتَمِعَا فِي الْجَنَّةِ أَبَدًا
حضرت ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کے لے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے قطع تعلق رکھے اگر دونوں ہی تین دن سے زیادہ قطع کلامی کئے رہے تو وہ جب تک اس حال پر رہیں گے حق سے دور رہیں گے اور جو پہلے رجوع کرلے گا اس کا یہ پہل کرنا اس کے لئے کفارہ بن جائے گا اگر اس نے دوسرے کو سلام کیا لیکن اس نے جواب نہ دیا تو سلام کرنے والے کو فرشتے جواب دیں گے اور رد کرنے والے کو شیطان اگر وہ دونوں قطع تعلقی کی حالت میں ہی مرگئے تو جنت میں کبھی اکٹھے نہ ہوسکیں گے۔
15671
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ عَنْ مُعَاذَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ مُسْلِمًا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَإِنَّهُمَا نَاكِبَانِ عَنْ الْحَقِّ مَا دَامَا عَلَى صُرَامِهِمَا وَأَوَّلُهُمَا فَيْئًا يَكُونُ سَبْقُهُ بِالْفَيْءِ كَفَّارَةً لَهُ وَإِنْ سَلَّمَ فَلَمْ يَقْبَلْ وَرَدَّ عَلَيْهِ سَلَامَهُ رَدَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ وَرَدَّ عَلَى الْآخَرِ الشَّيْطَانُ وَإِنْ مَاتَا عَلَى صُرَامِهِمَا لَمْ يَدْخُلَا الْجَنَّةَ جَمِيعًا أَبَدًا
حضرت ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی مسلمان کے لے جائز نہیں ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے کسی مسلمان بھائی سے قطع تعلق رکھے اگر دونوں ہی تین دن سے زیادہ قطع کلامی کئے رہے تو وہ جب تک اس حال پر رہیں گے حق سے دور رہیں گے اور جو پہلے رجوع کرلے گا اس کا یہ پہل کرنا اس کے لئے کفارہ بن جائے گا اگر اس نے دوسرے کو سلام کیا لیکن اس نے جواب نہ دیا تو سلام کرنے والے کو فرشتے جواب دیں گے اور رد کرنے والے کو شیطان اگر وہ دونوں قطع تعلقی کی حالت میں ہی مرگئے تو جنت میں کبھی اکٹھے نہ ہوسکیں گے۔
15672
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ قَالَ هِشَامُ بْنُ عَامِرٍ جَاءَتْ الْأَنْصَارُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَنَا قَرْحٌ وَجَهْدٌ فَكَيْفَ تَأْمُرُنَا قَالَ احْفِرُوا وَأَوْسِعُوا وَاجْعَلُوا الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي الْقَبْرِ قَالُوا فَأَيُّهُمْ نُقَدِّمُ قَالَ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا قَالَ فَقُدِّمَ أَبِي عَامِرٌ بَيْنَ يَدَيْ رَجُلٍ أَوْ اثْنَيْنِ
حضرت ہشام بن عامر سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن انصار کی بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ لوگوں کو بڑے زخم اور مشکلات پیش آئے ہیں اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا قبریں کشادہ کرکے کھودو اور ایک قبر میں دو دو تین تین آدمیوں کو دفن کرو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ پہلے کسے رکھیں فرمایا جسے قرآن زیادہ یاد ہو چناچہ میرے والد عامر کو ایک یا دو آدمیوں سے پہلے رکھا گیا۔
15673
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَأْسَ الدَّجَّالِ مِنْ وَرَائِهِ حُبُكٌ حُبُكٌ فَمَنْ قَالَ أَنْتَ رَبِّي افْتُتِنَ وَمَنْ قَالَ كَذَبْتَ رَبِّي اللَّهُ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ فَلَا يَضُرُّهُ أَوْ قَالَ فَلَا فِتْنَةَ عَلَيْهِ
حضرت ہشام سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دجال کا سر پیچھے سے ایسا محسوس ہوگا کہ اس میں راستے بنے ہوئے ہیں سو جو اسے اپنا رب مان لے گا وہ فتنے میں مبتلا ہوجائے گا اور جو اس کی تکذیب کرکے کہہ دے گا کہ میرا اللہ میرا رب ہے اور میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں تو وہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچاسکے گا۔