hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

172. حضرت ابوبردہ بن نیار کی حدیثیں۔

مسند احمد

15272
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُعِيدَ قَالَ إِنِّي لَا أَجِدُ إِلَّا جَذَعَةً فَأَمَرَهُ أَنْ يَذْبَحَ
حضرت ابوبردہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی ﷺ کے قربانی کرنے سے پہلے ہی قربانی کرلی نبی ﷺ نے انہیں دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا تو وہ کہنے لگے کہ اب تو میرے پاس صرف چھ ماہ کا ایک بچہ ہے نبی ﷺ نے انہیں وہی ذبح کرنے کا حکم دے دیا۔
15273
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ عَنِ الْجَهْمِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ عَنِ ابْنِ نِيَارٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ لِلُكَعِ ابْنِ لُكَعٍ
حضرت ابوبردہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا اس وقت تک فناء نہ ہوگی جب تک اس کا اقتدار کمینہ ابن کمینہ کو نہ مل جائے۔
15274
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى
حضرت ابوبردہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔
15275
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ وَلَمْ يَشُكَّ عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى نَقِيعِ الْمُصَلَّى فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي طَعَامٍ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَإِذَا هُوَ مَغْشُوشٌ أَوْ مُخْتَلِفٌ فَقَالَ لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا
حضرت ابوبردہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ عیدگاہ نقیع کی طرف جارہے تھے راستے میں نبی ﷺ نے ایک آدمی کے غلے میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو اس میں دھوکہ نظر آیا نبی ﷺ نے فرمایا وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمیں دھوکہ دے۔
15276
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ حَدِّثْ فَحَدَّثَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا جَلْدَ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابوبردہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔
15277
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَانَ لَيْثٌ حَدَّثَنَاهُ بِبَغْدَادَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بُكَيْرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ فَلَمَّا كُنَّا بِمِصْرَ أَخْبَرَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ
حضرت ابوبردہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔
15278
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ وَائِلٍ عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ خَالِهِ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَفْضَلِ الْكَسْبِ فَقَالَ بَيْعٌ مَبْرُورٌ وَعَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ
حضرت ابوبردہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے سب سے افضل کمائی کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا مقبول تجارت اور انسان کا اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کرنا۔
15279
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ قَالَ أَقْبَلْتُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَسَنٍ بَيْنَنَا ابْنُ رُمَّانَةَ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَرْوَانَ قَدْ نَصَبْنَا لَهُ أَيْدِيَنَا فَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَيْهَا دَاخِلَ الْمَسْجِدِ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَهَى ابْنَ نِيَارٍ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ ائْتِنِي فَأَتَاهُ فَقَالَ رَأَيْتُ ابْنَ رُمَّانَةَ بَيْنَكُمَا يَتَوَكَّأُ عَلَيْكَ وَعَلَى زَيْدِ بْنِ حَسَنٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَنْ تَذْهَبَ الدُّنْيَا حَتَّى تَكُونَ عِنْدَ لُكَعِ ابْنِ لُكَعٍ
ابوبکر بن ابی جہم کہتے ہیں کہ اور زید بن حسن چلے آرہے تھے ہمارے درمیان ابن رمانہ اس طرح چل رہے تھے کہ ہم نے ان کی خاطر اپنے کندھے سیدھے کر رکھے تھے اور وہ ان پر سہارا لئے ہوئے مسجد میں نبوی میں داخل ہو رہے تھے کہ وہاں نبی ﷺ کے ایک صحابی حضرت ابوبردہ بن نیار بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے مجھے بلابھیجا میں ان کے پاس پہنچا تو کہنے لگے کہ میں نے تمہارے درمیان ابن رمانہ کو دیکھا جو تم پر اور زید بن حسن پر سہارا لئے چل رہے تھے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا اس وقت فنا نہ ہوگی جب تک وہ کمینہ ابن کمینہ کی نہ ہوجائے۔