hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

480. حضرت عتبہ بن عبدسلمی (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

16982
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ نَصْرٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَتْفِ أَذْنَابِ الْخَيْلِ وَأَعْرَافِهَا وَنَوَاصِيهَا وَقَالَ أَذْنَابُهَا مَذَابُّهَا وَأَعْرَافُهَا إِدْفَاؤُهَا وَنَوَاصِيهَا مَعْقُودٌ بِهَا الْخَيْرُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
حضرت عتبہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے گھوڑوں کی دموں، ایالوں اور پیشانیوں کے بال نوچنے سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ ان کی دم ان کے لئے مورچھل ہے، ان کی ایال سردی سے بچاؤ کا ذریعہ ہے اور ان کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر رکھ دی گئی ہے۔
16983
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَرِيزٌ عَنْ شُرَحْبِيلَ ابْنِ شُفْعَةَ الرَّحَبِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ صَاحِبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ يَمُوتُ وَقَالَ حَسَنٌ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ يُتَوَفَّى لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا تَلَقَّوْهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ
حضرت عتبہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں، وہ اسے جنت کے آٹھوں دروازوں پر ملیں گے کہ وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔
16984
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ نَصْرٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جَزِّ أَعْرَافِ الْخَيْلِ وَنَتْفِ أَذْنَابِهَا وَجَزِّ نَوَاصِيهَا وَقَالَ أَمَّا أَذْنَابُهَا فَإِنَّهَا مَذَابُّهَا وَأَمَّا أَعْرَافُهَا فَإِنَّهَا إِدْفَاؤُهَا وَأَمَّا نَوَاصِيهَا فَإِنَّ الْخَيْرَ مَعْقُودٌ فِيهَا
حضرت عتبہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے گھوڑوں کی دموں، ایالوں اور پیشانیوں کے بال نوچنے سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ ان کی دم ان کے لئے مورچھل ہے، ان کی ایال سردی سے بچاؤ کا ذریعہ ہے اور ان کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر رکھ دی گئی ہے۔
16985
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاسِجٍ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِتَالِ فَرُمِيَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ بِسَهْمٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْجَبَ هَذَا وَقَالُوا حِينَ أَمَرَهُمْ بِالْقِتَالِ إِذَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا مَعَكُمَا مِنْ الْمُقَاتِلِينَ
حضرت عتبہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے قتال کا حکم دیا، اس دوران ایک صحابی (رض) کو تیر لگ گیا، نبی ﷺ نے فرمایا اس نے اپنے لئے جنت واجب کرلی، جس وقت نبی ﷺ نے انہیں قتال کا حکم دیا تھا، تو انہوں نے کہا تھا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ تم اور تمہارا رب جاؤ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑئیے، ہم بھی آپ کی معیت میں لڑنے والوں میں سے ہوں گے۔
16986
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ زَيْدٍ الْبُكَالِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ يَقُولُ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْحَوْضِ وَذَكَرَ الْجَنَّةَ ثُمَّ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ فِيهَا فَاكِهَةٌ قَالَ نَعَمْ وَفِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى فَذَكَرَ شَيْئًا لَا أَدْرِي مَا هُوَ قَالَ أَيُّ شَجَرِ أَرْضِنَا تُشْبِهُ قَالَ لَيْسَتْ تُشْبِهُ شَيْئًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَيْتَ الشَّامَ فَقَالَ لَا قَالَ تُشْبِهُ شَجَرَةً بِالشَّامِ تُدْعَى الْجَوْزَةُ تَنْبُتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ وَيَنْفَرِشُ أَعْلَاهَا قَالَ مَا عِظَمُ أَصْلِهَا قَالَ لَوْ ارْتَحَلَتْ جَذَعَةٌ مِنْ إِبِلِ أَهْلِكَ مَا أَحَاطَتْ بِأَصْلِهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ تَرْقُوَتُهَا هَرَمًا قَالَ فِيهَا عِنَبٌ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا عِظَمُ الْعُنْقُودِ قَالَ مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِلْغُرَابِ الْأَبْقَعِ وَلَا يَعْثُرُ قَالَ فَمَا عِظَمُ الْحَبَّةِ قَالَ هَلْ ذَبَحَ أَبُوكَ تَيْسًا مِنْ غَنَمِهِ قَطُّ عَظِيمًا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَسَلَخَ إِهَابَهُ فَأَعْطَاهُ أُمَّكَ قَالَ اتَّخِذِي لَنَا مِنْهُ دَلْوًا قَالَ نَعَمْ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ فَإِنَّ تِلْكَ الْحَبَّةَ لَتُشْبِعُنِي وَأَهْلَ بَيْتِي قَالَ نَعَمْ وَعَامَّةَ عَشِيرَتِكَ
حضرت عتبہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی شخص نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حوض کوثر و جنت کے متعلق سوالات پوچھنے لگا، پھر اس نے پوچھا کہ کیا جنت میں میوے ہوں گے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اور وہاں طوبی نامی ایک درخت بھی ہوگا، اس نے پوچھا کہ زمین کے کس درخت کے ساتھ آپ اسے تشبیہ دے سکتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تمہاری زمین پر ایک درخت بھی ایسا نہیں ہے جسے اس کے ساتھ تشبیہ دی جاسکے۔ پھر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم شام گئے ہو ؟ اس نے کہا نہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اس کے مشابہہ درخت شام میں ہے جسے اخروٹ کا درخت کہتے ہیں وہ ایک بیل پر قائم ہوتا ہے اور اوپر سے پھیلتا جاتا ہے، اس نے پوچھا کہ اس کی جڑ کی موٹائی کتنی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اگر تمہارے گھریلو اونٹ کا کوئی جذعہ روانہ ہو تو وہ اس کی جڑ کا اس وقت تک احاطہ نہیں کرسکتا جب تک کہ اس کی ہڈیاں بڑھاپے کی وجہ سے چرچرانے نہ لگیں، ( مراد جنت کا درخت ہے) ۔ اس دیہاتی نے پوچھا کہ جنت میں انگور ہوں گے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اس نے پوچھا کہ اس کے خوشوں کی موٹائی کتنی ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا چتکبرے کوے کی ایک مہینے کی مسلسل مسافت جس میں وہ رکے نہیں، اس نے پوچھا کہ اس کے ایک دانے کی موٹائی کتنی ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے والد نے کبھی اپنی بکریوں میں سے کوئی بہت بڑا مینڈھا ذبح کیا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی ﷺ نے فرمایا پھر اس نے اس کی کھال اتار کر تمہاری والدہ کو دیا ہو اور یہ کہا ہو کہ اس کا ڈول بنالو ؟ اس نے کہا جی ہاں ! پھر وہ کہنے لگا کہ اس طرح تو وہ ایک دانہ ہی مجھے اور میرے تمام اہل خانہ کو سیراب کر دے گا، نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اور تمہارے تمام خاندان والوں کو بھی سیراب کر دے گا۔
16987
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلْقَمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُصُّوا نَوَاصِيَ الْخَيْلِ فَإِنَّ فِيهَا الْبَرَكَةَ وَلَا تَجُزُّوا أَعْرَافَهَا فَإِنَّهُ إِدْفَاؤُهَا وَلَا تَقُصُّوا أَذْنَابَهَا فَإِنَّهَا مَذَابُّهَا
حضرت عتبہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے گھوڑوں کی دموں، ایالوں اور پیشانیوں کے بال نوچنے سے منع فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا کہ ان کی دم ان کے لئے مورچھل ہے، ان کی ایال سردی سے بچاؤ کا ذریعہ ہے اور ان کی پیشانیوں میں قیامت تک کے لئے خیر رکھ دی گئی ہے۔
16988
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ عَنْ شُرَحْبِيلَ ابْنِ شُفْعَةَ قَالَ سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ لَهُ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا تَلَقَّوْهُ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ
حضرت عتبہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس مسلمان کے تین نابالغ بچے فوت ہوجائیں، وہ اسے جنت کے آٹھوں دروازوں پر ملیں گے کہ وہ جس دروازے سے چاہے جنت میں داخل ہوجائے۔
16989
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاسِجٍ الْحَضْرَمِيُّ وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَمَنْ دُونَهُمَا عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ قُومُوا فَقَاتِلُوا قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا نَقُولُ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام انْطَلِقْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ انْطَلِقْ أَنْتَ وَرَبُّكَ يَا مُحَمَّدُ فَقَاتِلَا وَإِنَّا مَعَكُمَا نُقَاتِلُ
حضرت عتبہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے قتال کا حکم دیا، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! ﷺ ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ تم اور تمہارا رب جاؤ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑئیے، ہم بھی آپ کی معیت میں لڑنے والوں میں سے ہوں گے۔
16990
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَاسِجٍ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ قُومُوا فَقَاتِلُوا قَالَ فَرُمِيَ رَجُلٌ بِسَهْمٍ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْجَبَ هَذَا
حضرت عتبہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے قتال کا حکم دیا، اس دوران ایک صحابی (رض) کو تیر لگ گیا، نبی ﷺ نے فرمایا اس نے اپنے لئے جنت واجب کرلی۔
16991
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ حَدَّثَنِي بَقِيَّةُ حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْعَنْ أَهْلَ الْيَمَنِ فَإِنَّهُمْ شَدِيدٌ بَأْسُهُمْ كَثِيرٌ عَدَدُهُمْ حَصِينَةٌ حُصُونُهُمْ فَقَالَ لَا ثُمَّ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَعْجَمِيِّينَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرُّوا بِكُمْ يَسُوقُونَ نِسَاءَهُمْ يَحْمِلُونَ أَبْنَاءَهُمْ عَلَى عَوَاتِقِهِمْ فَإِنَّهُمْ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ
حضرت عتبہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک شخص نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اہل یمن پر لعنت فرمائیے کیونکہ وہ بڑے سخت جنگجو، کثیر تعداد اور مضبوط قلعوں والے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، پھر نبی ﷺ نے عجمیوں پر لعنت فرمائی اور فرمایا جب اہل یمن تمہارے پاس سے اپنی عورتوں کو لے کر اور اپنے بچوں کو اپنے کندھوں پر بٹھا کر گذریں تو وہ مجھ سے ہیں اور میں ان میں سے ہوں۔