Musnad Imam Ahmad
489. حضرت ابوثعلبہ خشنی (رض) کی حدیثیں
مسند احمد
17068
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قُدُورِ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَالَ إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَاغْسِلْ وَاطْبُخْ وَسَأَلَهُ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ وَعَنْ كُلِّ سَبُعٍ ذِي نَابٍ
حضرت ابو ثعلبہ (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ سے اہل کتاب کی ہانڈیوں کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا اگر تمہیں اس کے علاوہ کوئی اور برتن نہ ملیں تو انہی کو دھوکر کھانا پکا سکتے ہو، پھر گدھوں کے گوشت کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے اس سے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا۔
17069
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا وَإِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَيَّ وَأَبْعَدَكُمْ مِنِّي فِي الْآخِرَةِ مَسَاوِيكُمْ أَخْلَاقًا الثَّرْثَارُونَ الْمُتَفَيْهِقُونَ الْمُتَشَدِّقُونَ
حضرت ابو ثعلبہ خشنی (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ محبوب اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ قریب اچھے اخلاق والے ہوں گے اور میرے نزدیک تم میں سب سے زیادہ مبغوض اور آخرت میں مجھ سے سب سے زیادہ دور بداخلاق، بےہودہ گو، پھیلا کر لمبی بات کرنے والے اور جبڑا کھول کر بتکلف بولنے والے ہوں گے۔
17070
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ يَقُولُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا أَهْلُ صَيْدٍ فَقَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ وَذَكَرْتَ اسْمَ اللَّهِ فَأَمْسَكَ عَلَيْكَ فَكُلْ قَالَ قُلْتُ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ وَإِنْ قَتَلَ قَالَ قُلْتُ إِنَّا أَهْلُ رَمْيٍ قَالَ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ فَكُلْ قَالَ قُلْتُ إِنَّا أَهْلُ سَفَرٍ نَمُرُّ بِالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالْمَجُوسِ وَلَا نَجِدُ غَيْرَ آنِيَتِهِمْ قَالَ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَاغْسِلُوهَا بِالْمَاءِ ثُمَّ كُلُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا
حضرت ابو ثعلبہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ ہم شکاری لوگ ہیں (ہمیں احکام صید بتائیے) نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اپنے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ پڑھ لو، تو وہ جو شکار کرے، تم اسے کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا اگرچہ کتا اس شکار کو مار چکا ہو ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اگرچہ وہ اسے مار چکا ہو، میں نے عرض کیا کہ ہم لوگ تیر انداز ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا تمہاری کمان تمہیں جو چیز لوٹا دے وہ تم کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا کہ ہم مسافر لوگ ہیں، یہود و نصاری اور مجوس کے پاس سے گذرتے ہیں اور ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہیں ملتا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہ ملے تو اسے پانی سے دھو لو، پھر اس میں کھاپی سکتے ہو۔
17071
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ وَهُوَ بِالْفُسْطَاطِ فِي خِلَافَةِ مُعَاوِيَةَ وَكَانَ مُعَاوِيَةُ أَغْزَى النَّاسَ الْقُسْطَنْطِينِيَّةَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا تَعْجِزُ هَذِهِ الْأُمَّةُ مِنْ نِصْفِ يَوْمٍ إِذَا رَأَيْتَ الشَّامَ مَائِدَةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ وَأَهْلِ بَيْتِهِ فَعِنْدَ ذَلِكَ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ
جبیر (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابو ثعلبہ (رض) کو یہ فرماتے ہوئے جبکہ وہ حضرت معاویہ (رض) کے دور خلافت میں شہر فسطاط میں تھے اور حضرت معاویہ (رض) نے لوگوں کو قسطنطنیہ میں جہاد کے لئے بھیجا ہوا تھا، سنا کہ بخدا ! یہ امت نصف دن سے عاجز نہیں آئے گی، جب تم شام کو ایک آدمی اور اس کے اہل بیت کا دستر خوان دیکھ لو تو قسطنطنیہ کی فتح قریب ہوگی۔
17072
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُحُومَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ وَلَحْمَ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ
حضرت ابو ثعلبہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے پالتو گدھوں سے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے کے گوشت کو حرام قرار دیا ہے۔
17073
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ زَبْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُسْلِمَ بْنَ مِشْكَمٍ يَقُولُ حَدَّثَنَا أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ قَالَ كَانَ النَّاسُ إِذَا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا فَعَسْكَرَ تَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ فَقَامَ فِي فَقَالَ إِنَّ تَفَرُّقَكُمْ فِي الشِّعَابِ إِنَّمَا ذَلِكُمْ مِنْ الشَّيْطَانِ قَالَ فَكَانُوا بَعْدَ ذَلِكَ إِذَا نَزَلُوا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ حَتَّى إِنَّكَ لَتَقُولُ لَوْ بَسَطْتُ عَلَيْهِمْ كِسَاءً لَعَمَّهُمْ أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ
حضرت ابو ثعلبہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کسی لشکر کے ساتھ کسی مقام پر پڑاؤ ڈالتے تو لوگ مختلف گھاٹیوں اور وادیوں میں منتشر ہوجاتے تھے، (ایک مرتبہ ایسا ہی ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ نے کھڑے ہو کر فرمایا تمہارا ان گھاٹیوں اور وادیوں میں منتشر ہونا) شیطان کی وجہ سے ہے، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد جب بھی کسی مقام پر پڑاؤ ہوتا تو لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب رہتے تھے کہ تم کہہ سکتے ہو اگر انہیں ایک چادر اوڑھائی جاتی تو وہ سب پر آجاتی۔
17074
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اكْتُبْ لِي بِأَرْضِ كَذَا وَكَذَا بِأَرْضِ الشَّامِ لَمْ يَظْهَرْ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى مَا يَقُولُ هَذَا فَقَالَ أَبُو ثَعْلَبَةَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَظْهَرُنَّ عَلَيْهَا قَالَ فَكَتَبَ لَهُ بِهَا قَالَ قُلْتُ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ صَيْدٍ فَأُرْسِلُ كَلْبِيَ الْمُكَلَّبَ وَكَلْبِيَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ قَالَ إِذَا أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الْمُكَلَّبَ وَسَمَّيْتَ فَكُلْ مَا أَمْسَكَ عَلَيْكَ كَلْبُكَ الْمُكَلَّبُ وَإِنْ قَتَلَ وَإِنْ أَرْسَلْتَ كَلْبَكَ الَّذِي لَيْسَ بِمُكَلَّبٍ فَأَدْرَكْتَ ذَكَاتَهُ فَكُلْ وَكُلْ مَا رَدَّ عَلَيْكَ سَهْمُكَ وَإِنْ قَتَلَ وَسَمِّ اللَّهَ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَرْضَنَا أَرْضُ أَهْلِ كِتَابٍ وَإِنَّهُمْ يَأْكُلُونَ لَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَيَشْرَبُونَ الْخَمْرَ فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِآنِيَتِهِمْ وَقُدُورِهِمْ قَالَ إِنْ لَمْ تَجِدُوا غَيْرَهَا فَارْحَضُوهَا وَاطْبُخُوا فِيهَا وَاشْرَبُوا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا يَحِلُّ لَنَا مِمَّا يُحَرَّمُ عَلَيْنَا قَالَ لَا تَأْكُلُوا لُحُومَ الْحُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ وَلَا كُلَّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ
حضرت ابو ثعلبہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ شام میں فلاں فلاں زمین جس پر ابھی نبی ﷺ غالب نہیں آئے تھے میرے نام لکھ دیجئے، نبی ﷺ نے صحابہ (رض) سے فرمایا کیا تم ان کی بات سن نہیں رہے ؟ حضرت ابو ثعلبہ (رض) نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، آپ اس پر ضرور غالب آئیں گے، چناچہ نبی ﷺ نے انہیں اس مضمون کی ایک تحریر لکھ کر دے دی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم شکاری لوگ ہیں (ہمیں احکام صید بتائیے) نبی ﷺ نے فرمایا جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے کو شکار پر چھوڑو اور بسم اللہ پڑھ لو، تو وہ جو شکار کرے، تم اسے کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا اگرچہ کتا اس شکار کو مارچکا ہو ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اگرچہ وہ اسے مار چکا ہو اور اگر وہ سدھایا ہوا نہ ہو اور تم اسے ذبح کرسکو تو ذبح کر کے کھالو، تمہاری کمان تمہیں جو چیز لوٹا دے، وہ تم کھا سکتے ہو، میں نے عرض کیا ہم لوگ یہودونصاری کے علاقے میں رہتے ہیں، وہ لوگ خنزیر کھاتے اور شراب پیتے ہیں، تو ہم ان کے برتنوں اور ہانڈیوں کو کس طرح استعمال کریں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تمہیں ان کے برتنوں کے علاوہ کوئی برتن نہ ملے تو اسے پانی سے دھو لو، پھر اس میں کھا پی سکتے ہو۔ پھر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارے لئے کیا چیز حلال اور کیا چیز حرام ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا پالتو گدھے اور ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے کو مت کھاؤ۔
17075
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ
حضرت ابو ثعلبہ (رض) سے مروی ہے نبی ﷺ نے ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا ہے۔
17076
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ حَدِيثِ أَبِي إِدْرِيسَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فِي خِلَافَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنَّ أَبَا ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ
حضرت ابوثعلبہ (رض) سے مروی ہے نبی ﷺ نے ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا ہے۔
17077
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ أَكْلِ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنْ السِّبَاعِ
حضرت ابوثعلبہ (رض) سے مروی ہے نبی ﷺ نے ہر کچلی سے شکار کرنے والے درندے سے منع فرما دیا ہے۔