hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

574. حضرت محمد بن حاطب (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

17564
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ تَنَاوَلْتُ قِدْرًا لِأُمِّي فَاحْتَرَقَتْ يَدِي فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَمْسَحُ يَدِي وَلَا أَدْرِي مَا يَقُولُ أَنَا أَصْغَرُ مِنْ ذَاكَ فَسَأَلْتُ أُمِّي فَقَالَتْ كَانَ يَقُولُ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ
حضرت محمد بن حاطب (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے ہاتھ پر ایک ہانڈی گرگئی میری والدہ مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گئیں اس وقت نبی کریم ﷺ کسی خاص جگہ پر تھے نبی کریم ﷺ نے میرے لئے دعاء فرمائی کہ اے لوگوں کے رب ! اس تکلیف کو دور فرما اور شاید یہ بھی فرمایا کہ تو اسے شفاء عطاء فرما کیونکہ شفاء دینے والا تو ہی ہے نبی کریم نے اس کے بعد مجھ پر اپنا لعاب دہن لگایا۔
17565
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَا حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ دَنَوْتُ إِلَى قِدْرٍ لَنَا فَاحْتَرَقَتْ يَدِي قَالَ إِبْرَاهِيمُ أَوْ قَالَ فَوَرِمَتْ قَالَ فَذَهَبَتْ بِي أُمِّي إِلَى رَجُلٍ فَجَعَلَ يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ وَجَعَلَ يَنْفُثُ فَسَأَلْتُ أُمِّي فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ مَنْ الرَّجُلُ فَقَالَتْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت محمد بن حاطب (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں پاؤں کے بل چلتا ہوا ہانڈی کے پاس پہنچ گیا وہ ابل رہی تھی میں نے اس میں ہاتھ ڈالا تو وہ سوج گیا یا جل گیا میری والدہ مجھے ایک شخص کے پاس لے گئیں جو مقام بطحاء میں تھا اس نے کچھ پڑھا اور میرے ہاتھ پر تھتکار دیا حضرت عثمان غنی (رض) کے دور خلافت میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ آدمی کون تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ وہ نبی کریم ﷺ تھے۔
17566
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا مَعَ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَرْضًا ذَاتَ نَخْلٍ فَاخْرُجُوا فَخَرَجَ حَاطِبٌ وَجَعْفَرٌ فِي الْبَحْرِ قِبَلَ النَّجَاشِيِّ قَالَ فَوُلِدْتُ أَنَا فِي تِلْكَ السَّفِينَةِ
ابومالک اشجعی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں محمد بن حاطب (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا وہ کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے خواب میں کھجوروں والا ایک علاقہ دیکھا ہے لہٰذا تم اس کی طرف ہجرت کر جاؤ چناچہ حاطب (رض) (میرے والد) اور حضرت جعفر (رض) سمندری راستے کے ذریعے نجاشی کی طرف روانہ ہوگئے میں اسی سفر میں کشتی میں پیدا ہوا تھا۔
17567
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصْلُ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ وَضَرْبُ الدُّفِّ
حضرت محمد بن حاطب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا حلال و حرام کے درمیان فرق دف بجانے اور نکاح کی تشہیر کرنے سے ہوتا ہے۔
17568
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بَلْجٍ قَالَ قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ إِنِّي قَدْ تَزَوَّجْتُ امْرَأَتَيْنِ لَمْ يُضْرَبْ عَلَيَّ بِدُفٍّ قَالَ بِئْسَمَا صَنَعْتَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ فَصْلَ مَا بَيْنَ الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ الصَّوْتُ يَعْنِي الضَّرْبَ بِالدُّفِّ
حضرت محمد بن حاطب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا حلال و حرام کے درمیان فرق دف بجانے اور نکاح کی تشہیر کرنے سے ہوتا ہے۔
17569
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاطِبٍ قَالَ وَقَعَتْ الْقِدْرُ عَلَى يَدِي فَاحْتَرَقَتْ يَدِي فَانْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ يَتْفُلُ فِيهَا وَيَقُولُ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَاشْفِهِ إِنَّكَ أَنْتَ الشَّافِي
حضرت محمد بن حاطب (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میرے ہاتھ پر ایک ہانڈی گرگئی میری والدہ مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لے گئیں اس وقت نبی کریم ﷺ کسی خاص جگہ پر تھے نبی کریم ﷺ نے میرے لئے دعاء فرمائی کہ اے لوگوں کے رب ! اس تکلیف کو دور فرما اور شاید یہ بھی فرمایا کہ تو اسے شفاء عطاء فرما کیونکہ شفاء دینے والا تو ہی ہے نبی کریم نے اس کے بعد مجھ پر اپنا لعاب دہن لگایا۔