Musnad Imam Ahmad
547. حضرت مستورد بن شداد (رض) کی حدیثیں
مسند احمد
17326
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسٍ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ أَخِي بَنِي فِهْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمِثْلِ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَا يَرْجِعُ وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ
حضرت مستورد بن شداد (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی ﷺ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
17327
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ هَذِهِ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ يَعْنِي الَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ
حضرت مستورد بن شداد (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے، یہ کہہ کر نبی ﷺ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
17328
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِىِّ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ خَلَّلَ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ
حضرت مستورد بن شداد (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ جب آپ ﷺ وضو فرماتے تو اپنی انگلیوں کا خلال چھنگلیا سے فرماتے تھے۔
17329
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا وَقَّاصُ بْنُ رَبِيعَةَ أَنَّ الْمُسْتَوْرِدَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَكَلَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ أَكْلَةً وَقَالَ مَرَّةً أُكْلَةً فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُطْعِمُهُ مِثْلَهَا مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ اكْتَسَى بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ ثَوْبًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَكْسُوهُ مِثْلَهُ مِنْ جَهَنَّمَ وَمَنْ قَامَ بِرَجُلٍ مُسْلِمٍ مَقَامَ سُمْعَةٍ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُومُ بِهِ مَقَامَ سُمْعَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
حضرت مستورد بن شداد (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کا کوئی لقمہ زبردستی کھالیا تو اللہ تعالیٰ اسے اتنا ہی کھانا جہنم سے کھلائے گا، جس شخص نے کسی مسلمان کے کپڑے (زبردستی چھین کر) پہن لئے، اللہ تعالیٰ اسے ویسا ہی جہنمی لباس پہنائے گا اور جو شخص کسی مسلمان کو مقام ریاء و شہرت پر کھڑا کرے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے مقام شہرت (تشہیر) پر کھڑا کرے گا۔
17330
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ إِلَيْهِ
حضرت مستورد بن شداد (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے۔
17331
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قَالَ كُنْتُ فِي رَكْبٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّ بِسَخْلَةٍ مَيْتَةٍ مَنْبُوذَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمِّدٍ بِيَدِهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا
حضرت مستورد بن شداد (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے قافلے میں تھا کہ آپ ﷺ کا گذر ایک مردار بکری پر ہوا جس کی کھال اتار کر اسے پھینک دیا گیا تھا، نبی ﷺ نے پوچھا کیا تمہارا یہی خیال ہے کہ اس بکری کو اس کے مالک حقیر سمجھتے ہیں ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! حقیر سمجھ کر ہی تو اسے انہوں نے پھینک دیا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے جتنی حقیر یہ بکری اپنے مالک کی نظر میں ہے، دنیا اللہ کی نظروں میں اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔
17332
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسٌ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ أَخَا بَنِي فِهْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ مَا الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا مِثْلُ مَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ إِلَيْهِ
حضرت مستورد بن شداد (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا کو آخرت کے ساتھ صرف اتنی ہی نسبت ہے جتنی تم میں سے کسی شخص کی انگلی سمندر میں ڈوبنے پر قطرے کو سمندر سے ہوتی ہے، کہ جب وہ یہ انگلی ڈبوتا ہے تو باہر نکال کر دیکھے کہ اس پر کتنا پانی لگا ہے۔
17333
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ والْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ بْنَ شَدَّادٍ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا وَلَيْسَ لَهُ مَنْزِلٌ فَلْيَتَّخِذْ مَنْزِلًا أَوْ لَيْسَتْ لَهُ زَوْجَةٌ فَلْيَتَزَوَّجْ أَوْ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا أَوْ لَيْسَتْ لَهُ دَابَّةٌ فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً وَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ
حضرت مستورد (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ہماری طرف سے گورنر نامزد ہو اور اس کے پاس متعلقہ شہر میں کوئی گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو شادی کرسکتا ہے، خادم نہ ہو تو رکھ سکتا ہے، سواری نہ ہو تو رکھ سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ جو کچھ لے گا، وہ اللہ کے یہاں خائن شمار ہوگا۔
17334
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى وَابْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِىِّ عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ صَاحِبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَوَضَّأَ يُخَلِّلُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ بِخِنْصَرِهِ
حضرت مستورد بن شداد (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ جب آپ ﷺ وضو فرماتے تو اپنی انگلیوں کا خلال چھنگلیا سے فرماتے تھے۔
17335
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ وَعَمْرُو بْنُ غَيْلَانَ بْنِ سَلَمَةَ فَسَمِعَ الْمُسْتَوْرِدَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا فَلَمْ يَكُنْ لَهُ زَوْجَةً فَلْيَتَزَوَّجْ أَوْ خَادِمًا فَلْيَتَّخِذْ خَادِمًا أَوْ مَسْكَنًا فَلْيَتَّخِذْ مَسْكَنًا أَوْ دَابَّةً فَلْيَتَّخِذْ دَابَّةً فَمَنْ أَصَابَ شَيْئًا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ غَالٌّ أَوْ سَارِقٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ كُنْتُ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ وَعَمْرُو بْنُ غَيْلَانَ فَسَمِعْتُ الْمُسْتَوْرِدَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ وَلِيَ لَنَا عَمَلًا فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ الْحَارِثِ
حضرت مستورد (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص ہماری طرف سے گورنر نامزد ہو اور اس کے پاس متعلقہ شہر میں کوئی گھر نہ ہو تو وہ گھر بنا سکتا ہے، بیوی نہ ہو تو شادی کرسکتا ہے، خادم نہ ہو تو رکھ سکتا ہے، سواری نہ ہو تو رکھ سکتا ہے لیکن اس کے علاوہ جو کچھ لے گا، وہ اللہ کے یہاں خائن اور چور شمار ہوگا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔