Musnad Imam Ahmad
432. حضرت رافع بن خدیج (رض) کی مرویات
مسند احمد
16621
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بَلَغَهُ أَنَّ رَافِعًا يُحَدِّثُ فِي ذَلِكَ بِنَهْيٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهُ وَأَنَا مَعَهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ فَتَرَكَهَا ابْنُ عُمَرَ فَكَانَ لَا يُكْرِيهَا فَكَانَ إِذَا سُئِلَ يَقُولُ زَعَمَ ابْنُ خَدِيجٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ زمین کو بٹائی پردے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، بعد میں حضرت رافع بن خدیج (رض) نے بتایا کہ نبی ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے، اس لئے ہم نے اسے ترک کردیا۔
16622
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَصْبِحُوا بِالصُّبْحِ فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِأُجُورِكُمْ أَوْ أَعْظَمُ لِلْأَجْرِ
حضرت رافع (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا صبح کی نماز روشنی میں پڑھا کرو کہ اس کا ثواب زیادہ ہے۔
16623
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ قَالَ قُلْتُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ قَالَ لَا إِنَّمَا نَهَى عَنْهُ بِبَعْضِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ فَلَا بَأْسَ بِهِ
حضرت رافع (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا کہ اگر سونے چاندی کے عوض ہو تو فرمایا نہیں، نبی ﷺ نے زمین کی پیداوار کے عوض اسے اچھا نہیں سمجھا البتہ درہم و دینار کے عوض اسے کرائے پر دینے میں کوئی حرج نہیں۔
16624
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ بْنِ أُخْتِ النِّمْرِ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَرُّ الْكَسْبِ ثَمَنُ الْكَلْبِ وَكَسْبُ الْحَجَّامِ وَمَهْرُ الْبَغِيِّ
حضرت رافع (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سینگی لگانے والے کی کمائی گندی ہے، فاحشہ عورت کی کمائی گندی ہے اور کتے کی قیمت گندی ہے۔
16625
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قَطْعَ فِي ثَمَرٍ وَلَا كَثَرٍ
حضرت رافع (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ پھل یا شگوفے چوری کرنے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
16626
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ غَدًا وَلَيْسَتْ مَعَنَا مُدًى قَالَ أَعْجِلْ أَوْ أَرِنْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ قَالَ وَأَصَابَنَا نَهْبُ إِبِلٍ وَغَنَمٍ فَنَدَّ مِنْهَا بَعِيرٌ فَرَمَاهَا رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَهَذِهِ الْإِبِلِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَإِذَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا شَيْءٌ فَافْعَلُوا بِهِ هَكَذَا
حضرت رافع بن خدیج (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ کل ہمارا دشمن (جانوروں) سے آمنا سامنا ہوگا، جبکہ ہمارے پاس تو کوئی چھری نہیں ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا دانت ناخن کے علاوہ جو چیز جانور کا خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام بھی لیا گیا ہو، تم اسے کھا سکتے ہو اور اس کی وجہ بھی بتادوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔ اس دوران نبی ﷺ کو مال غنیمت کے طور پر کچھ اونٹ ملے جن میں سے ایک اونٹ بدک گیا، لوگوں نے اسے قابو کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے، تنگ آکر ایک آدمی نے اسے تاک کر تیر مارا اور اسے قابو میں کرلیا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ جانور بھی بعض اوقات وحشی ہوجاتے ہیں جیسے وحشی جانور بپھر جاتے ہیں، جب تم کسی جانور سے مغلوب ہوجاؤ تو اس کے اسی طرح کیا کرو۔
16627
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ
حضرت رافع بن خدیج (رض) اور سہل بن ابی حثمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو کٹی ہوئی کھجور کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا ہے، البتہ ضرورت مندوں کو (پانچ وسق سے کم میں) اس کی اجازت دی ہے۔
16628
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلًا قَالَ فَعَجَّلَ الْقَوْمُ فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ ثُمَّ قَالَ عَدْلُ عَشْرَةٍ مِنْ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ قَالَ ثُمَّ إِنَّ بَعِيرًا نَدَّ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلَّا خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ بِسَهْمٍ فَحَبَسَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا قَالَ فَقَالَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ إِنَّا لَنَرْجُو وَإِنَّا لَنَخَافُ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى أَفَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ قَالَ أَعْجِلْ أَوْ أَرِنْ مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلْ لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ
حضرت رافع بن خدیج (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم لوگ ذوالحلیفہ میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے، نبی ﷺ کو مال غنیمت کے طور پر کچھ بکریاں اور اونٹ ملے لوگوں نے جلدی سے ہانڈیاں چڑھا دیں نبی ﷺ تشریف لائے اور ہانڈیاں الٹا دینے کا حکم دیا، پھر فرمایا ایک اونٹ کے مقابلے میں دس بکریاں بنتی ہییں، ان اونٹوں میں سے ایک اونٹ بدک گیا، لوگوں نے اسے قابو کرنے کی بہت کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکے، تنگ آکر ایک آدمی نے اسے تاک کر تیر مارا اور اسے قابو میں کرلیا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ جانور بھی بعض اوقات وحشی ہوجاتے ہیں جیسے وحشی جانور بپھر جاتے ہیں، جب تم کسی جانور سے مغلوب ہوجاؤ تو اس کے ساتھ اسی طرح کیا کرو، کل ہمارا دشمن (جانوروں) سے آمنا سامنا ہوگا، جبکہ ہمارے پاس تو کوئی چھری نہیں ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا دانت اور ناخن کے علاوہ جو چیز جانور کا خون بہادے اور اس پر اللہ کا نام بھی لیا گیا ہو، تم اسے کھا سکتے ہو اور اس کی وجہ بھی بتادوں کہ دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھری ہے۔
16629
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي حَصِينٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُسْتَأْجَرَ الْأَرْضُ بِالدَّرَاهِمِ الْمَنْقُودَةِ أَوْ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ
حضرت رافع (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حفل سے منع فرمایا ہے، راوی نے پوچھا کہ حفل سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ تہائی اور چوتھائی کے عوض زمین کو بٹائی پر دینا، یہ حدیث سن کر ابراہیم نے بھی اس کے مکروہ ہونے کا فتوی دے دیا اور دراہم کے عوض زمین لینے میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔
16630
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ وَائِلٍ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الْكَسْبِ أَطْيَبُ قَالَ عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ وَكُلُّ بَيْعٍ مَبْرُورٍ
حضرت رافع (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ سب سے افضل اور عمدہ کمائی کون سی ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا انسان کے ہاتھ کی کمائی اور ہر مقبول تجارت۔