hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

842. وہ روایات جو دیگرمشائخ نے ان سے نقل کی ہیں۔

مسند احمد

20319
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَوْ عَنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَرَأَ بِمَقُولِ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَكَأَنَّمَا قَرَأَ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص سورت اخلاص پڑھ لے یہ ایسے ہے جیسے اس نے ایک تہائی قرآن کی تلاوت کی۔
20320
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ و حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ قَالَ الثَّقَفِيُّ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا أَبُو مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيُّ قَالَ وَهْبٌ أَخْبَرَنَا خَالِدٌ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الصَّلَاةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ سُنَّةٌ كُنَّا نَفْعَلُهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يُعَابُ عَلَيْنَا فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ إِذْ كَانَ فِي الثِّيَابِ قِلَّةٌ فَأَمَّا إِذْ وَسَّعَ اللَّهُ فَالصَّلَاةُ فِي الثَّوْبَيْنِ أَزْكَى
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ ایک کپڑے میں نماز پڑھنا سنت سے ثابت ہے نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں ہم اس طرح کرتے تھے لیکن کوئی ہمیں اس پر طعنہ نہیں دیتا تھا یہ سن کر حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا یہ حکم اس وقت تھا جب لوگوں کے پاس کپڑوں کی قلت ہوتی تھی اب جب اللہ نے وسعت دے دی ہے تو دو کپڑوں میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔
20321
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى وَعَفَّانُ قَالُوا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ وَقَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَعْتَكِفُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ فَسَافَرَ سَنَةً فَلَمْ يَعْتَكِفْ فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الْمُقْبِلُ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ يَوْمًا
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کا یہ معمول مبارک تھا کہ ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے ایک سال نبی کریم ﷺ سفر پر تھے اس لئے اعتکاف نہیں کرسکے چناچہ جب اگلا سال آیا تو نبی کریم ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔
20322
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي السَّلِيلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أُبَيٍّ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ عَنْ أُبَيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهُ أَيُّ آيَةٍ فِي كِتَابِ اللَّهِ أَعْظَمُ قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَرَدَّدَهَا مِرَارًا ثُمَّ قَالَ أُبَيٌّ آيَةُ الْكُرْسِيِّ قَالَ لِيَهْنِكَ الْعِلْمُ أَبَا الْمُنْذِرِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ لَهَا لِسَانًا وَشَفَتَيْنِ تُقَدِّسُ الْمَلِكَ عِنْدَ سَاقِ الْعَرْشِ وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أُبَيٍّ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ ان سے پوچھا کہ قرآن کریم میں سب سے عظیم آیت کون سی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے یہ سوال کئی مرتبہ دہرایا تو حضرت ابی بن کعب (رض) نے کہہ دیا آیت الکرسی نبی کریم ﷺ نے یہ سن کر فرمایا ابوالمنذر ! تمہیں علم مبارک ہو، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عرش کے پائے کے پاس یہ اللہ کی پاکیزگی بیان کرتی ہوگی اور اس کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہوں گے۔
20323
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا عَلَى بَلِيٍّ وَعُذْرَةَ وَجَمِيعِ بَنِي سَعْدٍ وَهُذَيْمِ بْنِ قُضَاعَةَ قَالَ أَبِي وَقَالَ يَعْقُوبُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ قُضَاعَةَ قَالَ فَصَدَّقْتُهُمْ حَتَّى مَرَرْتُ بِآخِرِ رَجُلٍ مِنْهُمْ وَكَانَ مَنْزِلُهُ وَبَلَدُهُ مِنْ أَقْرَبِ مَنَازِلِهِمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَلَمَّا جَمَعَ إِلَيَّ مَالَهُ لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهَا إِلَّا ابْنَةَ مَخَاضٍ يَعْنِي فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا صَدَقَتُهُ قَالَ فَقَالَ ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولٌ لَهُ قَطُّ قَبْلَكَ وَمَا كُنْتُ لِأُقْرِضَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مِنْ مَالِي مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ فَتِيَّةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا قَالَ فَقُلْتُ لَهُ مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُومَرْ بِهِ فَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرِضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ فَافْعَلْ فَإِنْ قَبِلَهُ مِنْكَ قَبِلَهُ وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَّهُ قَالَ فَإِنِّي فَاعِلٌ قَالَ فَخَرَجَ مَعِي وَخَرَجَ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَتَانِي رَسُولُكَ لِيَأْخُذَ مِنِّي صَدَقَةَ مَالِي وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رَسُولٌ لَهُ قَطُّ قَبْلَهُ فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي فَزَعَمَ أَنَّ عَلَيَّ فِيهِ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَذَلِكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرَ وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً فَتِيَّةً سَمِينَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ ذَلِكَ وَقَالَ هَا هِيَ هَذِهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ الَّذِي عَلَيْكَ فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ قَبِلْنَاهُ مِنْكَ وَآجَرَكَ اللَّهُ فِيهِ قَالَ فَهَا هِيَ ذِهْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا قَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أُبَيٍّ وَزَادَ فِيهِ قَالَ عُمَارَةُ وَقَدْ وُلِّيتُ صَدَقَاتِهِمْ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ فَأَخَذْتُ مِنْ ذَلِكَ الرَّجُلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً لِأَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةِ بَعِيرٍ عَلَيْهِ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھے بلی، عذرہ اور تمام بنو سعد بن ہذیم کی طرف زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا میں نے ان سے زکوٰۃ وصول کی اور سب سے آخری آدمی کے پاس آگیا اس کا گھر اور علاقہ مدینہ منورہ میں نبی کریم ﷺ کے گھر سے دوسروں کی نسبت سب سے زیادہ قریب تھا جب اس نے اپنا سارا مال میرے سامنے پیش کیا تو اس کی زکوٰۃ صرف ایک بنت مخاض بنتی تھی میں نے اسے بتادیا کہ اس کی زکوٰۃ اتنی بنتی ہے اس نے کہا کہ اس اونٹنی میں تو دودھ ہے اور نہ ہی یہ سواری کے قابل ہے بخدا ! اس سے پہلے نبی کریم ﷺ یا ان کا کوئی قاصد کبھی میرے مال میں آکر کھڑا نہیں ہوا اب میں اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کو ایسا جانور قرض نہیں دے سکتا جس میں دودھ ہو اور نہ ہی وہ سواری کے قابل ہو البتہ یہ جوان اور صحت مند اونٹنی موجود ہے اسے لے لو میں نے کہا کہ میں تو ایسی چیز نہیں لے سکتا جس کی مجھے اجازت نہ ہو البتہ نبی کریم ﷺ تمہارے قریب ہی ہیں اگر تم چاہو تو ان کے پاس چل کر وہی پیش کش کردو جو تم نے میرے سامنے رکھی ہے اگر انہوں نے قبول کرلیا تو بہت اچھا ورنہ وہ تمہیں واپس کردیں گے اس نے کہا کہ میں ایسا ہی کروں گا۔ چنانچہ وہ میرے ساتھ نکل پڑا اور اپنے ساتھ وہ اونٹنی بھی لے لی جو اس نے مجھے پیش کی تھی یہاں تک کہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اس نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی ! میرے پاس آپ کا قاصد میرے مال کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے آیا اللہ کی قسم اس سے پہلے نبی کریم ﷺ یا ان کا کوئی قاصد کبھی میرے مال میں آکر کھڑا نہیں ہوا سو میں نے اپنا سارا مال اکٹھا کیا قاصد کا خیال یہ تھا کہ اس مال میں مجھ پر ایک بنت مخاض واجب ہوتی ہے لیکن وہ اونٹنی ایسی تھی کہ جس میں دودھ تھا اور نہ ہی وہ سواری کے قابل تھی اس لئے میں نے اس کے سامنے ایک جوان اور صحت مند اونٹنی پیش کی لیکن انہوں نے لینے سے انکار کردیا اب یا رسول اللہ ! ﷺ یہ سب آپ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا ہوں آپ اسے قبول فرما لیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم پر زکوٰۃ تو اتنی ہی بنتی تھی البتہ اگر تم خود سے نیکی کرنا چاہتے ہو تو ہم قبول کرلیتے ہیں اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا اس نے وہ اونٹنی پیش کی اور نبی کریم ﷺ نے اسے لے لینے کا حکم دیا اور اس کے مال میں برکت کی دعاء فرمائی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
20324
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَأَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ الْخُزَاعِيُّ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ و حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد حَدَّثَنَاه إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ الْجَارُودِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ فَتَرَكَ آيَةً فَقَالَ أَيُّكُمْ أَخَذَ عَلَيَّ شَيْئًا مِنْ قِرَاءَتِي فَقَالَ أُبَيٌّ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكْتَ آيَةَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَلِمْتُ إِنْ كَانَ أَحَدٌ أَخَذَهَا عَلَيَّ فَإِنَّكَ أَنْتَ هُوَ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ لوگوں کو نماز پڑھاتے ہوئے دوران تلاوت ایک آیت چھوڑ دی نماز کے بعد فرمایا تم میں سے کس نے میری قرأت میں نئی چیز محسوس کی ہے ؟ حضرت ابی (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ آپ نے فلاں فلاں آیت چھوڑ دی ہے، نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے معلوم تھا کہ اگر کسی نے اس چیز کو محسوس کیا ہوگا تو وہ تم ہی ہوگے۔
20325
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَمَّنْ حَدَّثَهُ عَنْ أُمِّ وَلَدِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ وَهُوَ حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ لَوَجَعٌ مَا أَصَابَنِي قَطُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ تَحْمَرُّ مَرَّةً وَتَصْفَرُّ أُخْرَى
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا ام ملدم (بخار) کو ختم ہوئے کتنا عرصہ ہوا ہے ؟ اس نے کہا کہ مجھے یہ تکلیف کبھی نہیں ہوئی نبی ﷺ نے فرمایا مسلمان کی مثال اس دانے کی سی ہے جو کبھی سرخ ہوتا ہے اور کبھی زرد۔
20326
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا يُونُسُ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ لَيْسَ ذَاكَ لَكَ قَدْ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَنْهَنَا عَنْ ذَلِكَ فَأَضْرَبَ عَنْ ذَلِكَ عُمَرُ وَأَرَادَ أَنْ يَنْهَى عَنْ حُلَلِ الْحِبَرَةِ لِأَنَّهَا تُصْبَغُ بِالْبَوْلِ فَقَالَ لَهُ أُبَيٌّ لَيْسَ ذَلِكَ لَكَ قَدْ لَبِسَهُنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَبِسْنَاهُنَّ فِي عَهْدِهِ
حسن بصری (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) نے ارادہ کیا کہ حج تمتع کی ممانعت کردیں تو حضرت ابی بن کعب (رض) نے ان سے فرمایا آپ ایسا نہیں کرسکتے ہم نے خو نبی ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا ہے لیکن نبی ﷺ نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا چناچہ حضرت عمر (رض) اس ارادے سے رک گئے پھر ان کا ارادہ ہوا کہ دھاری دار یمنی چادروں اور حلوں سے منع کردیں کہ ان پر پیشاب کا رنگ چڑھایا جاتا ہے تو حضرت ابی بن کعب (رض) نے ان سے فرمایا کہ آپ یہ بھی نہیں کرسکتے اس لئے کہ یہ چادریں تو خود نبی ﷺ نے زیب تن فرمائیں اور ہم نے بھی ان کے دور باسعادت میں پہنی ہیں۔
20327
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ عَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ صُوحَانَ قَالَ أَقْبَلَ هُوَ وَنَفَرٌ مَعَهُ فَوَجَدُوا سَوْطًا فَأَخَذَهُ صَاحِبُهُ فَلَمْ يَأْمُرُوهُ وَلَمْ يَنْهَوْهُ فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ وَجَدْتُ مِائَةَ دِينَارٍ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا فَكَرَّرَ عَلَيْهِ حَتَّى ذَكَرَ أَحْوَالًا ثَلَاثَةً فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ شَأْنُكَ بِهَا
صعصعہ بن صوحان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ چند لوگوں کے ساتھ روانہ ہوئے راستے میں انہیں ایک درہ گرا پڑا ملا ان کے ایک ساتھی نے اسے اٹھالیا لوگوں نے اسے منع کیا اور نہ حکم دیا، مدینہ منورہ پہنچ کر میں حضرت ابی بن کعب (رض) سے ملا اور ان سے اس واقعے کا تذکرہ کیا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک سال تک اس کی تشہیر کرو تین سال تک اس طرح ہوا پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔
20328
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الرَّقَاشِيُّ الْخَزَّازُ حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ ابْنِ الْفَضْلِ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا بِلَالُ اجْعَلْ بَيْنَ أَذَانِكَ وَإِقَامَتِكَ نَفَسًا يَفْرُغُ الْآكِلُ مِنْ طَعَامِهِ فِي مَهَلٍ وَيَقْضِي الْمُتَوَضِّئُ حَاجَتَهُ فِي مَهَلٍ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَزَّازُ أَخْبَرَنَا قُرَّةُ بْنُ حَبِيبٍ أَخْبَرَنَا مُعَارِكُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْفَضْلِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا بِلَالُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
حضرت ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت بلال (رض) سے فرمایا بلال ! اپنی اذان اور اقامت کے درمیان کچھ وقفہ کرلیا کرو تاکہ اس وقفے میں جو شخص کھانا کھا رہا ہو وہ اس سے فارغ ہوجائے اور جس نے وضو کرنا ہو وہ قضاء حاجت سے فارغ ہوجائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔