hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

771. حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

19706
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ وَيُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَمُرَةَ إِذَا آلَيْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن بن سمرہ (رض) جب تم کسی بات پر قسم کھاؤ اور پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
19707
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ حَيَّانَ بْنِ عُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا أَتَرَامَى بِأَسْهُمِي فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ إِذْ كُسِفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُهُنَّ وَسَعَيْتُ أَنْظُرُ مَا حَدَثَ كُسُوفِ الشَّمْسِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا هُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يُسَبِّحُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيَحْمَدُ وَيُهَلِّلُ وَيُكَبِّرُ وَيَدْعُو فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى حُسِرَ عَنْ الشَّمْسِ فَقَرَأَ سُورَتَيْنِ وَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ
حضرت عبدالرحمن (رض) مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی حیات طیبہ میں تیر اندازی کررہا تھا کہ سورج کو گہن لگ گیا میں نے اپنے تیروں کو ایک طرف پھینکا اور نبی ﷺ کی طرف دوڑ پڑا تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ کسوف شمس کے وقت نبی ﷺ کیا کرتے ہیں جب میں وہاں پہنچا تو نبی ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اللہ کی تسبیح وتحمید اور تحمید اور تہلیل وتکبیر اور دعاء میں مصروف تھے نبی ﷺ اس وقت تک اسی عمل میں مصروف رہے جب تک سورج روشن نہ ہوگیا پھر آپ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعتیں پڑھائیں۔
19708
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
19709
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ فَأَصَابَ النَّاسُ غَنَمًا فَانْتَهَبُوهَا فَأَمَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُنَادِيًا يُنَادِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا فَرُدُّوا هَذِهِ الْغَنَمَ فَرَدُّوهَا فَقَسَمَهَا بِالسَّوِيَّةِ
ابولبید کہتے ہیں کہ ہم نے حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) کے ساتھ کابل کے جہاد میں شرکت کی لوگوں کو ایک جگہ بکریاں نظر آئیں تو وہ انہیں لوٹ کرلے گئے یہ دیکھ کر حضرت عبدالرحمن نے ایک منادی کو یہ نداء لگانے کا حکم دیا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے اس لئے یہ بکریاں واپس کردو چناچہ لوگوں نے وہ بکریاں واپس کردیں تو انہوں نے وہ بکریاں برابر برابر تقسیم کردیں۔
19710
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَأَكْبَرُ عِلْمِي أَنِّي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ وَهُوَ عَلَى نَهَرِ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ يَسِيلُ الْمَاءُ مَعَ غِلْمَتِهِ وَمَوَالِيهِ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ يَا أَبَا سَعِيدٍ الْجُمُعَةَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا كَانَ يَوْمُ مَطَرٍ وَابِلٍ فَلْيُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي رَحْلِهِ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا نَاصِحُ بْنُ الْعَلَاءِ أَبُو الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سَمِعْتُ الْقَوَارِيرِيَّ يَقُولُ كُنْتُ أَمُرُّ بِنَاصِحٍ فَيُحَدِّثُنِي فَإِذَا سَأَلْتُهُ الزِّيَادَةَ قَالَ لَيْسَ عِنْدِي غَيْرُ ذَا وَكَانَ ضَرِيرًا
عمار بن ابی عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ان کا گذر حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) کے پاس سے ہوا وہ نہر ام عبداللہ پر تھے اور لڑکوں اور غلاموں کے ساتھ مل کر پانی بہا رہے تھے عمار نے ان سے کہا اے ابوسعید آج تو جمعہ کا دن ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے جس دن موسلا دھار بارش برس رہی ہو تو تمہیں چاہیے کہ اپنے خیموں میں نماز پڑھ لو۔
19711
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ الْقُرَشِيُّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ أُوكِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ عَطِيَّةَ وَيُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
19712
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلَا بِالطَّوَاغِيتِ وَقَالَ يَزِيدُ وَالطَّوَاغِي
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے آباؤ اجداد یا بتوں کے نام کی قسم مت کھایا کرو۔
19713
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ تُعْطَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ تُعَنْ عَلَيْهَا وَإِنْ تُعْطَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ تُكَلْ إِلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ وَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔
19714
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي لَبِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص لوٹ مار کرتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
19715
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَهُ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ فَإِنَّكَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ وُكِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا وَإِذَا حَلَفْتَ عَلَى يَمِينٍ فَرَأَيْتَ غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا فَكَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَأْتِ الَّذِي هُوَ خَيْرٌ
حضرت عبدالرحمن بن سمرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے عبدالرحمن امارت (حکومت) کا سوال کبھی نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہیں مانگ کر ملی تو تمہیں اس کے حوالے کردیا جائے گا اور اگر بن مانگے تمہیں مل جائے تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی بات پر قسم کھالو پھر کسی دوسری صورت میں خیر دیکھو تو خیر والے کام کو کرلو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دو ۔