Musnad Imam Ahmad
1135. حضرت ام ہانی ابی طالب کی حدیثیں
مسند احمد
26155
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهَا ذَهَبَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَالَتْ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ فَسَلَّمْتُ وَذَلِكَ ضُحًى فَقَالَ مَنْ هَذَا قُلْتُ أَنَا أُمُّ هَانِئٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانَ ابْنَ هُبَيْرَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو " جو مشرکین میں سے تھے " پناہ دے دی، اسی دوران نبی گردوغبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپیٹے ہوئے تشریف لائے، مجھے دیکھ کر نبی نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے اپنے دو دیوروں کو " جو مشرکین میں سے تھے " پناہ دے دی ہے، نبی نے فرمایا جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں پھر نبی نے حضرت فاطمہ کو حکم دیا انہوں نے پانی رکھا اور نبی نے اس سے غسل فرمایا پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں۔
26156
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِأَعْلَى مَكَّةَ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ فَاطِمَةَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ أَثَرُ الْغُبَارِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي وَزَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلُهُمَا قَالَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَوُضِعَ لَهُ غُسْلٌ فِي جَفْنَةٍ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَثَرَ الْعَجِينِ فِيهَا فَتَوَضَّأَ أَوْ قَالَ اغْتَسَلَ أَنَا أَشُكُّ وَصَلَّى الْفَجْرَ فِي ثَوْبٍ مُشْتَمِلًا بِهِ
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو " جو مشرکین میں سے تھے " پناہ دے دی، اسی دوران نبی گردوغبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپیٹے ہوئے تشریف لائے، مجھے دیکھ کر نبی نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے اپنے دو دیوروں کو " جو مشرکین میں سے تھے " پناہ دے دی ہے، نبی نے فرمایا جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں، پھر نبی نے حضرت فاطمہ کو حکم دیا، انہوں نے پانی رکھا اور نبی نے اس سے غسل فرمایا : پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں۔
26157
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اتَّخِذُوا الْغَنَمَ فَإِنَّ فِيهَا بَرَكَةً
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ نبی نے ارشاد فرمایا بکریاں رکھا کرو کیونکہ ان میں برکت ہوتی ہے۔
26158
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْعَبْدِيِّ عَنْ ابْنِ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ كُنْتُ أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ میں رات کے آدھے حصے میں نبی کی قرأت سن رہی تھی، اس وقت میں اپنے اسی گھر کی چھت پر تھی۔
26159
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمْ الْمُنْكَرَ قَالَ كَانُوا يَخْذِفُونَ أَهْلَ الطَّرِيقِ وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ فَذَلِكَ الْمُنْكَرُ الَّذِي كَانُوا يَأْتُونَ
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ میں نے نبی سے پوچھا کہ اس ارشاد ِ باری تعالیٰ وتاتون فی نادیکم المنکر سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی نے فرمایا قوم ِ لوط کا یہ کام تھا کہ وہ راستے میں چلنے والوں پر کنکریاں اچھالتے تھے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے، یہ ہے وہ ناپسندیدہ کام جو وہ کیا کرتے تھے۔
26160
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ هَارُونَ ابْنِ بِنْتِ أُمِّ هَانِئٍ أَوْ ابْنِ أُمِّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَسْقَى فَسُقِيَ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَنِي فَضْلَهُ فَشَرِبْتُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ سُؤْرَكَ فَقَالَ أَكُنْتِ تَقْضِينَ شَيْئًا فَقُلْتُ لَا فَقَالَ فَلَا بَأْسَ عَلَيْكِ
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پانی منگوا کر اسے نوش فرمایا : پھر وہ برتن انہیں پکڑا دیا، انہوں نے بھی اس کا پانی پی لیا، پھر یاد آیا تو کہنے لگیں یا رسول اللہ ! میں تو روزے سے تھی، نبی نے فرمایا تم قضا کر رہی ہو ؟ میں نے کہا نہیں، فرمایا پھر کوئی حرج نہیں۔
26161
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا يَوْمَ الْفَتْحِ فَأَتَتْهُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ فَضُلَتْ مِنْهُ فَضْلَةً فَنَاوَلَهَا فَشَرِبَتْهُ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ فَعَلْتُ شَيْئًا مَا أَدْرِي يُوَافِقُكَ أَمْ لَا قَالَ وَمَا ذَاكَ يَا أُمَّ هَانِئٍ قَالَتْ كُنْتُ صَائِمَةً فَكَرِهْتُ أَنْ أَرُدَّ فَضْلَكَ فَشَرِبْتُهُ قَالَ تَطَوُّعًا أَوْ فَرِيضَةً قَالَتْ قُلْتُ بَلْ تَطَوُّعًا قَالَ فَإِنَّ الصَّائِمَ الْمُتَطَوِّعَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پانی منگوا کر اسے نوش فرمایا : پھر وہ برتن انہیں پکڑا دیا، انہوں نے بھی اس کا پانی پی لیا، پھر یاد آیا تو کہنے لگیں یا رسول اللہ ! میں تو روزے سے تھی، نبی نے فرمایا نفلی روزے رکھنے والا اپنی ذات پر خود امیر ہوتا ہے چاہے تو روزہ برقرار رکھے اور چاہے تو روزہ ختم کردے۔
26162
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ مَاهَكَ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ فَسَأَلَهَا عَنْ مَدْخَلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَسَأَلَهَا هَلْ صَلَّى عِنْدَكِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ دَخَلَ فِي الضُّحَى فَسَكَبْتُ لَهُ فِي صَحْفَةٍ لَنَا مَاءً إِنِّي لَأَرَى فِيهَا وَضَرَ الْعَجِينِ قَالَ يُوسُفُ مَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ أَخْبَرَتْنِي أَتَوَضَّأَ أَمْ اغْتَسَلَ ثُمَّ رَكَعَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ مَسْجِدٍ فِي بَيْتِهَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ قَالَ يُوسُفُ فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ مِنْ قِرْبَةٍ لَهَا وَصَلَّيْتُ فِي ذَاكَ الْمَسْجِدِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ
یوسف بن ماہک ایک مرتبہ حضرت ام ہانی کے پاس گئے اور ان سے نبی کے فتح مکہ کے دن مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے متعلق پوچھا اور یہ کہ نبی نے اس وقت آپ کے یہاں نماز پڑھی تھی ؟ انہوں نے کہا کہ نبی چاشت کے وقت مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے، میں نے پیالے میں پانی رکھا جس پر آٹے کے نشان نظر آ رہے تھے، اب یہ مجھے یاد نہیں کہ حضرت ام ہانی نے وضو کرنے کا بتایا تھا یا غسل کرنے کا ؟ پھر نبی نے گھر کی مسجد میں چار رکعتیں پڑھیں یوسف کہتے ہیں کہ میں نے بھی اٹھ کر ان کے مشکیزے سے وضو کیا اور اسی جگہ پر چار رکعتیں پڑھیں۔
26163
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حَسَنٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ أَنَّهُ سَمِعَ دُرَّةَ بِنْتَ مُعَاذٍ تُحَدِّثُ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهَا سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَتَزَاوَرُ إِذَا مِتْنَا وَيَرَى بَعْضُنَا بَعْضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَكُونُ النَّسَمُ طَيْرًا تَعْلُقُ بِالشَّجَرِ حَتَّى إِذَا كَانُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ دَخَلَتْ كُلُّ نَفْسٍ فِي جَسَدِهَا
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی سے پوچھا کیا جب ہم مرجائیں گے تو ایک دوسرے سے ملاقات کرسکیں گے اور ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے ؟ نبی نے فرمایا کہ انسان کی روح پرندوں کی شکل میں درختوں پر لٹکی رہتی ہے جب قیامت کا دن آئے گا تو ہر شخص کی روح اس کے جسم میں داخل ہوجائے گی۔
26164
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ قَالَ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ هَانِئٍ تَقُولُ ذَهَبْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَوَجَدْتُهُ يَغْتَسِلُ وَفَاطِمَةُ ابْنَتُهُ تَسْتُرُهُ بِثَوْبٍ قَالَتْ فَسَلَّمْتُ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قَالَ قَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ بِنْتُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ غُسْلِهِ قَامَ فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ مُلْتَحِفًا فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ ثُمَّ انْصَرَفَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ زَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتِلٌ رَجُلًا أَجَرْتُهُ فُلَانَ ابْنَ هُبَيْرَةَ فَقَالَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ فَقَالَتْ أُمُّ هَانِئٍ وَذَاكَ ضُحًى
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو " جو مشرکین میں سے تھے " پناہ دے دی، اسی دوران نبی گردوغبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپیٹے ہوئے تشریف لائے، مجھے دیکھ کر نبی نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے اپنے دو دیوروں کو " جو مشرکین میں سے تھے " پناہ دے دی ہے، نبی نے فرمایا جسے تم نے پناہ دی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں، جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں، پھر نبی نے حضرت فاطمہ کو حکم دیا، انہوں نے پانی رکھا اور نبی نے اس سے غسل فرمایا : پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں، یہ فتح مکہ کے دن چاشت کے وقت کی بات ہے۔