hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

428. حضرت عثمان بن حنیف (رض) کی مرویات

مسند احمد

16606
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ خُزَيْمَةَ يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرَ الْبَصَرِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي قَالَ إِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ وَإِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَاكَ فَهُوَ خَيْرٌ فَقَالَ ادْعُهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ فَيُحْسِنَ وُضُوءَهُ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَيَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضِي لِي اللَّهُمَّ شَفِّعْهُ فِيَّ
حضرت عثمان بن حنیف (رض) سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے عافیت عطاء فرمائے (میری آنکھوں کی بینائی لوٹا دے) نبی ﷺ نے فرمایا تم چاہو تو میں تمہارے حق میں دعاء کر دوں اور چاہو تو اسے آخرت کے لئے مؤخر کر دوں جو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے ؟ اس نے کہا کہ دعاء کر دیجئے، چناچہ نبی ﷺ جو کہ نبی الرحمۃ ہیں کے وسیلے سے آپ سے سوال کرتا اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد ! ﷺ ! میں آپ کو لے کر اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں اور اپنی یہ ضرورت پیش کرتا ہوں، تاکہ آپ میری یہ ضرورت پوری کردیں، اے اللہ ! میرے حق میں ان کی سفارش کو قبول فرما اس نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔
16607
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْمَدِينِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ يُحَدِّثُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا ضَرِيرًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُعَافِيَنِي فَقَالَ إِنْ شِئْتَ أَخَّرْتُ ذَلِكَ فَهُوَ أَفْضَلُ لِآخِرَتِكَ وَإِنْ شِئْتَ دَعَوْتُ لَكَ قَالَ لَا بَلْ ادْعُ اللَّهَ لِي فَأَمَرَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ وَأَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ وَأَنْ يَدْعُوَ بِهَذَا الدُّعَاءِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فِي حَاجَتِي هَذِهِ فَتَقْضِي وَتُشَفِّعُنِي فِيهِ وَتُشَفِّعُهُ فِيَّ قَالَ فَكَانَ يَقُولُ هَذَا مِرَارًا ثُمَّ قَالَ بَعْدُ أَحْسِبُ أَنَّ فِيهَا أَنْ تُشَفِّعَنِي فِيهِ قَالَ فَفَعَلَ الرَّجُلُ فَبَرَأَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت عثمان بن حنیف (رض) سے مروی ہے کہ ایک نابینا آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ مجھے عافیت عطاء فرمائے (میری آنکھوں کی بینائی لوٹا دے) نبی ﷺ نے فرمایا تم چاہو تو میں تمہارے حق میں دعاء کر دوں اور چاہو تو اسے آخرت کے لئے مؤخر کر دوں جو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے ؟ اس نے کہا کہ دعاء کر دیجئے، چناچہ نبی ﷺ جو کہ نبی الرحمۃ ہیں کے وسیلے سے آپ سے سوال کرتا اور آپ کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے محمد ! ﷺ ! میں آپ کو لے کر اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں اور اپنی یہ ضرورت پیش کرتا ہوں، تاکہ آپ میری یہ ضرورت پوری کردیں، اے اللہ ! میرے حق میں ان کی سفارش کو قبول فرما اس نے ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کی بینائی واپس لوٹا دی۔ 17374 ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
16608
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عُثْمَانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ هَانِئِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الصَّدَفِيِّ حَدَّثَهُ قَالَ حَجَجْتُ زَمَانَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَجَلَسْتُ فِي مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُهُمْ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَقْبَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي هَذَا الْعَمُودِ فَعَجَّلَ قَبْلَ أَنْ يُتِمَّ صَلَاتَهُ ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا لَوْ مَاتَ لَمَاتَ وَلَيْسَ مِنْ الدِّينِ عَلَى شَيْءٍ إِنَّ الرَّجُلَ لَيُخَفِّفُ صَلَاتَهُ وَيُتِمُّهَا قَالَ فَسَأَلْتُ عَنْ الرَّجُلِ مَنْ هُوَ فَقِيلَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيُّ
ہانی بن معاویہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان غنی (رض) کے زمانے میں حج کی سعادت حاصل کی، میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا، وہاں ایک آدمی یہ حدیث بیان کر رہا تھا کہ ایک دن ہم لوگ نبی ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس ستون کی آڑ میں نماز پڑھنے لگا، اس نے جلدی جلدی نماز پڑھی اور اس میں اتمام نہیں کیا اور واپس چلا گیا، نبی ﷺ نے فرمایا اگر یہ مرگیا تو اس حال میں مرے گا کہ دین پر ذرا سا بھی قائم نہیں ہوگا، آدمی اپنی نماز کو مختصر کرتا ہے تو مکمل بھی تو کرے، ہانی کہتے ہیں کہ میں نے حدیث بیان کرنے والے کے متعلق لوگوں سے پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ حضرت عثمان بن حنیف (رض) ہیں۔