hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

310. حضرت ابن اکوع کی بقیہ مرویات

مسند احمد

15934
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ ثُمَّ عَطَسَ الثَّانِيَةَ أَوْ الثَّالِثَةَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ مَزْكُومٌ
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ کی خدمت اقدس میں ایک مرتبہ میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی کو چھنک آئی، نبی ﷺ نے یرحمک اللہ کہہ کر اسے جواب دیا، اس نے دوبارہ چھینک ماری تو نبی ﷺ نے فرمایا اس شخص کو زکام ہے۔
15935
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ فَقَالَ كُلْ بِيَمِينِكَ قَالَ لَا أَسْتَطِيعُ قَالَ لَا اسْتَطَعْتَ قَالَ فَمَا وَصَلَتْ إِلَى فِيهِ بَعْدُ
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ایک آدمی کو بائیں ہاتھ سے کھانا کھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا دائیں ہاتھ سے کھاؤ، اس نے کہا کہ میں دائیں ہاتھ سے کھانے کی طاقت نہیں رکھتا، نبی ﷺ نے فرمایا تجھے اس کی توفیق نہ ہو، چناچہ اس کے بعد اس کا داہنا ہاتھ اس کے منہ تک نہیں جاسکا۔
15936
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جَاءَ عَيْنٌ لِلْمُشْرِكِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا طَعِمَ انْسَلَّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الرَّجُلِ اقْتُلُوا قَالَ فَابْتَدَرَ الْقَوْمُ قَالَ وَكَانَ أَبِي يَسْبِقُ الْفَرَسَ شَدًّا قَالَ فَسَبَقَهُمْ إِلَيْهِ قَالَ فَأَخَذَ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِخِطَامِهَا قَالَ ثُمَّ قَتَلَهُ قَالَ فَنَفَّلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، مشرکین کا ایک جاسوس خبر لینے کے لئے آیا، اس وقت نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے، انہوں نے اسے بھی (مہمان ظاہر کر کے) کھانے کی دعوت دے دی، جب وہ آدمی کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہو کر واپس روانہ ہو تاکہ اپنے ساتھیوں کو خبردار کرسکے، میں نے اس کا پیچھا کر کے اس کی سواری کو بٹھایا اور اس کی گردن اڑادی، نبی ﷺ نے اس کا سازوسامان مجھے بطور انعام کے دے دیا۔
15937
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَغْرِبَ سَاعَةَ تَغْرُبُ الشَّمْسُ إِذَا غَابَ حَاجِبُهَا
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ مغرب کی نماز غروب آفتاب کے بعد اس وقت پڑھتے جب اس کا کنارہ غروب ہوجاتا تھا۔
15938
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ قَالَ بَايَعْنَاهُ عَلَى الْمَوْتِ
یزید بن ابوعبید کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے پوچھا کہ حدیبیہ کے دن آپ نے کس چیز پر نبی ﷺ سے بیعت کی تھی ؟ انہوں نے فرمایا موت پر بیعت کی تھی۔
15939
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَا خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ فَاسْتَمْتِعُوا يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ
حضرت جابر (رض) اور حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ کسی جہاد میں شریک تھے، اسی دوران ہمارے پاس نبی ﷺ کا ایک قاصد آیا اور کہنے لگا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے تم عورتوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔
15940
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ زُهَيْرٍ وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ كُنْتُ أُسَافِرُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا رَأَيْتُهُ صَلَّى بَعْدَ الْعَصْرِ وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ قَطُّ
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ سفر کرتا رہا ہوں میں نے آپ کو نماز عصر یا فجر کے بعد کبھی بھی نوافل پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا۔
15941
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ وَغَطَفَانَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ فَانْتَزَعَ شَيْئًا مِنْ حَقَبِ الْبَعِيرِ فَقَيَّدَ بِهِ الْبَعِيرَ ثُمَّ جَاءَ يَمْشِي حَتَّى قَعَدَ مَعَنَا يَتَغَدَّى قَالَ فَنَظَرَ فِي الْقَوْمِ فَإِذَا ظَهْرُهُمْ فِيهِ قِلَّةٌ وَأَكْثَرُهُمْ مُشَاةٌ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى الْقَوْمِ خَرَجَ يَعْدُو قَالَ فَأَتَى بَعِيرَهُ فَقَعَدَ عَلَيْهِ قَالَ فَخَرَجَ يَرْكُضُهُ وَهُوَ طَلِيعَةٌ لِلْكُفَّارِ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنَّا مِنْ أَسْلَمَ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ وَرْقَاءَ قَالَ إِيَاسٌ قَالَ أَبِي فَاتَّبَعْتُهُ أَعْدُو عَلَى رِجْلَيَّ قَالَ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ قَالَ وَلَحِقْتُهُ فَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ وَتَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَقُلْتُ لَهُ إِخْ فَلَمَّا وَضْعَ الْجَمَلُ رُكْبَتَهُ إِلَى الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَضَرَبْتُ رَأْسَهُ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ أَقُودُهَا فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ النَّاسِ قَالَ مَنْ قَتَلَ هَذَا الرَّجُلَ قَالُوا ابْنُ الْأَكْوَعِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ہوازن کے خلاف جہاد میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھا، نبی ﷺ نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، مشرکین کا ایک جاسوس خبر لینے کے لئے آیا، اس وقت نبی ﷺ اپنے صحابہ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے، انہوں نے اسے بھی مہمان ظاہر کر کے کھانے کی دعوت دے دی، جب وہ آدمی کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہو کر واپس روانہ ہوا تاکہ اپنے ساتھیوں کو خبردار کرسکے، نبی ﷺ کے صحابہ میں سے قبیلہ اسلم کا ایک آدمی بہترین قسم کی خاکستیری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کے پیچھے لگ گیا، میں بھی دوڑتا ہوا نکلا اور اسے پکڑ لیا، اونٹنی کا سر اونٹ کے سرین کے پاس تھا اور میں اونٹنی کے سرین کے پاس، میں تھوڑا سا آگے بڑھ کر اونٹ کے سرین کے قریب ہوگیا، پھر تھوڑا سا قریب ہو کر اس کے اونٹ کی لگام پکڑ لی، میں نے اس کی سواری کو بٹھایا اور جب وہ بیٹھ گئی تو میں نے اس کی گردن اڑادی، میں اس کی سواری اور اس کے سازوسامان کو لے کر ہانکتا ہوا نبی ﷺ کی طرف روانہ ہوا، راستہ میں نبی ﷺ سے آمنا سامنا ہوگیا، نبی ﷺ نے فرمایا اس شخص کو کس نے قتل کیا ؟ لوگوں نے کہا ابن اکوع نے، نبی ﷺ نے فرمایا اس کا سازوسامان بھی اسی کا ہوگیا۔
15942
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى فَزَارَةَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا دَنَوْنَا مِنْ الْمَاءِ عَرَّسَ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى إِذَا صَلَّيْنَا الصُّبْحَ أَمَرَنَا فَشَنَنَّا الْغَارَةَ فَوَرَدْنَا الْمَاءَ فَقَتَلَ أَبُو بَكْرٍ مَنْ قَتَلَ وَنَحْنُ مَعَهُ قَالَ سَلَمَةُ فَرَأَيْتُ عُنُقًا مِنْ النَّاسِ فِيهِمْ الذَّرَارِيُّ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَى الْجَبَلِ فَأَدْرَكْتُهُمْ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَلَمَّا رَأَوْا السَّهْمَ قَامُوا فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنْ فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ مَعَهَا ابْنَةٌ مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَجِئْتُ أَسُوقُهُنَّ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَكْرٍ ابْنَتَهَا فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ثُمَّ بَاتَتْ عِنْدِي فَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا حَتَّى لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا كَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا قَالَ فَسَكَتَ حَتَّى إِذَا كَانَ الْغَدُ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ وَلَمْ أَكْشِفْ لَهَا ثَوْبًا فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوكَ قَالَ قُلْتُ هِيَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ فَفَدَى بِهَا أُسَرَاءَ مِنْ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا فِي أَيْدِي الْمُشْرِكِينَ
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ سیدنا صدیق اکبر کے ساتھ نکلے جنہیں نبی ﷺ نے ہمارا امیر مقرر کیا تھا، ہم بنو فزارہ سے جہاد کے لئے جا رہے تھے، جب ہم ایسی جگہ پر پہنچے جو پانی کے قریب تھی تو حضرت صدیق اکبر نے ہمیں حکم دیا اور ہم نے پڑاؤ ڈال دیا، فجر کی نماز پڑھ کر انہوں نے ہمیں دشمن پر حملہ کا حکم دیا اور ہم ان پر ٹوٹ پڑے اور اس ندی کے قریب بیشمار لوگوں کو قتل کردیا، اچانک میری نظر ایک تیز رفتار گروہ پر پڑی جو پہاڑ کی طرف چلا جا رہا تھا اس میں عورتیں اور بچے تھے، میں ان کے پیچھے روانہ ہوگیا، لیکن پھر خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں اس لئے میں نے ان کی طرف ایک تیر پھینکا جو ان کے اور پہاڑ کے درمیان جا گرا۔ پھر میں انہیں ہانکتا ہوا حضرت صدیق اکبر کے پہ اس لے آیا اور اسی ندی کے پاس پہنچ گیا، ان میں بنو فزارہ کی ایک عورت بھی تھی جس نے چمڑے کی پوستین پہن رکھی تھی، اس کے ساتھ اس کی بیٹی تھی جو عرب کی انتہائی حسین و جمیل لڑکی تھی، اس کی وہ بیٹی حضرت صدیق اکبر نے مجھے انعام کے طور پر بخش دی، میں نے مدینہ منورہ پہنچنے تک اس کا گھونگھٹ بھی کھول کر نہیں دیکھا، پھر رات ہوئی تب بھی میں نے اس کا گھونگھٹ نہیں ہٹایا، اگلے دن سر بازار نبی ﷺ سے میری ملاقات ہوگئی، نبی ﷺ مجھ سے فرمانے لگے سلمہ ! وہ عورت مجھے ہبہ کردو، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا، یہ سن کر نبی ﷺ خاموش ہوگئے اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے، اگلے دن پھر سر بازار نبی ﷺ سے ملاقات ہوئی تو نبی ﷺ نے اپنی بات دہرائی اور مجھے میرے باپ کی قسم دی، میں نے قسم کھا کر عرض کیا یا رسول اللہ مجھے وہ اچھی لگی ہے اور میں نے اب تک اس کا گھونگھٹ بھی نہیں ہٹایا ہے، لیکن یا رسول اللہ ! اب میں وہ آپ کو دیتا ہوں، نبی ﷺ نے وہ لڑکی اہل مکہ کے پاس بھجوادی جن کے قبضے میں بہت سے مسلمان قیدی تھے، نبی ﷺ نے ان کے فدیئے میں اس لڑکی کو پیش کر کے ان سے قیدیوں کو چھڑا لیا۔
15943
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ قَالَ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ بَارَزَ عَمِّي يَوْمَ خَيْبَرَ مَرْحَبٌ الْيَهُودِيُّ فَقَالَ مَرْحَبٌ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَمِّي عَامِرٌ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرُ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ وَذَهَبَ يَسْفُلُ لَهُ فَرَجَعَ السَّيْفُ عَلَى سَاقِهِ قَطَعَ أَكْحَلَهُ فَكَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ قَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ لَقِيتُ نَاسًا مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ سَلَمَةُ فَجِئْتُ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْكِي قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَالَ مَنْ قَالَ ذَاكَ قُلْتُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَاكَ بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ إِنَّهُ حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ جَعَلَ يَرْجُزُ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسُوقُ الرِّكَابَ وَهُوَ يَقُولُ تَالَلَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا إِنَّ الَّذِينَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا قَالَ عَامِرٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ قَالَ وَمَا اسْتَغْفَرَ لِإِنْسَانٍ قَطُّ يَخُصُّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ فَقَدِمَ فَاسْتُشْهِدَ قَالَ سَلَمَةُ ثُمَّ إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَنِي إِلَى عَلِيٍّ فَقَالَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَوْ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ أَرْمَدَ فَبَصَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنِهِ ثُمَّ أَعْطَاهُ الرَّايَةَ فَخَرَجَ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ فَفَلَقَ رَأْسَ مَرْحَبٍ بِالسَّيْفِ وَكَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْهِ
حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ خیبر کے موقع پر میرے چچا نے مرحب یہودی کو مقابلے کی دعوت دی، مرحب کہنے لگا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر، تجربہ کار ہوں جس وقت جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے، میرے چچا عامر نے بھی یہ رجزیہ اشعار پڑھے خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں اسلحہ سے مسلح اور بےخوف جنگ میں گھسنے والا ہوں۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ عامر اور مرحب دونوں ضربیں مختلف طور پر پڑنے لگیں۔ مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر لگی اور عامر نے نیچے سے مرحب کو تلوار ماری تو حضرت عامر کی اپنی تلوار خود انہی کو لگ گئی جس سے ان کی شہ رگ کٹ گئی اور اس کے نتیجہ میں وہ شہید ہوگئے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نکلا تو میں نے نبی ﷺ کریم کے چند صحابہ کو دیکھا وہ کہنے لگے حضرت عامر کا عمل ضائع ہوگیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو خود مار ڈالا ہے، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں یہ سن کر نبی ﷺ کی خدمت میں روتا ہوا آیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! عامر کا عمل ضائع ہوگیا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کس نے کہا ہے ؟ میں نے عرض کیا آپ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے۔ آپ نے فرمایا جس نے بھی کہا ہے غلط کہا ہے بلکہ عامر کے لئے دگنا اجر ہے۔ جس وقت عامر، رسول اللہ کے ساتھ خیبر کی طرف نکل پڑے، انہوں نے رجزیہ اشعار پڑھنے شروع کردیئے۔ اللہ کی قسم ! اگر اللہ کی مدد نہ ہوتی تو ہمیں ہدایت نہ ملتی اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی ہم نماز پڑھتے، یہ لوگ ہم پر سرکشی کا ارادہ رکھتے ہیں، لیکن یہ جب بھی کسی فتنے کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم اس کا حصہ بننے سے انکار کردیتے ہیں۔ اور ہم (اے اللہ) تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں اور تو ہمیں ثابت قدم رکھ جب ہم دشمن سے ملیں اور (اے اللہ) ہم پر سکینت نازل فرما۔ (جب یہ رجزیہ اشعار سنے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں عامر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا تیرا رب تیری مغفت فرمائے، راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ جب کسی انسان کے لئے خاص طور پر مغفرت کی دعا فرماتے تو وہ ضرور شہادت کا درجہ حاصل کرتا، حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب اپنے اونٹ پر تھے انہوں نے یہ سن کر بلند آواز سے پکارا اے اللہ کے نبی ﷺ ! آپ نے ہمیں عامر سے کیوں نہ فائدہ حاصل کرنے دیا، پھر عامر آگے بڑھ کر شہید ہوگئے۔ پھر آپ نے مجھے حضرت علی کی طرف بھیجا۔ آپ نے فرمایا میں جھنڈا ایک ایسے آدمی کو دوں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت رکھتے ہوں۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں علی کو پکڑ کر (سہارا دے کر) آپ کی خدمت میں لے آیا کیونکہ علی کی آنکھیں دکھ رہی تھیں، آپ نے حضرت علی کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو ان کی آنکھیں اسی وقت ٹھیک ہوگئیں۔ آپ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا اور مرحب یہ کہتا ہوا نکلا۔ خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر، تجربہ کار ہوں جب جنگ کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ پھر حضرت علی نے بھی جواب میں کہا کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے اس شیر کی طرف جو جنگلوں میں ڈرانی صورت ہوتا ہے میں لوگوں کو ایک صاع کے بدلہ، اس سے بڑا پیمانہ دیتا ہوں۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی نے مرحب کے سر پر ایک ضرب لگائی تو وہ قتل ہوگیا اور خیبر حضرت علی کے ہاتھوں فتح ہوگیا۔