hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

916. حضرت ابومالک سہل بن سعد ساعدی (رض) کی مرویات

مسند احمد

21735
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ
حضرت سہل بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے جیسے یہ انگلی اس انگلی کے قریب ہے۔
21736
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
حضرت سہل بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں کسی شخص کے کوڑے کی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔
21737
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ أَنَا فِي الْقَوْمِ إِذْ دَخَلَتْ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا قَدْ وَهَبَتْ نَفْسَهَا لَكَ فَرَ فِيهَا رَأْيَكَ فَقَالَ رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى قَامَتْ الثَّالِثَةَ فَقَالَ لَهُ عِنْدَكَ شَيْءٌ قَالَ لَا قَالَ اذْهَبْ فَاطْلُبْ قَالَ لَمْ أَجِدْ قَالَ فَاذْهَبْ فَاطْلُبْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ قَالَ مَا وَجَدْتُ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ قَالَ هَلْ مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ شَيْءٌ قَالَ نَعَمْ سُورَةُ كَذَا وَسُورَةُ كَذَا قَالَ قَدْ أَنْكَحْتُكَهَا عَلَى مَا مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ
حضرت سہل بن سعد (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں لوگوں کے ساتھ تھا کہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ میں نے اپنے آپ کو آپ کے لئے ہبہ کردیا ہے اب جو آپ کی رائے ہو (وہ کافی دیر تک کھڑی رہی) پھر ایک آدمی کھڑا ہو کر کہنے لگا یا رسول اللہ ! ﷺ (اگر آپ کو اس کی ضرورت نہ ہو تو) مجھ سے ہی اس کا نکاح کرا دیجئے نبی کریم ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ تین مرتبہ وہ عورت کھڑی ہوئی نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اسے مہر میں دینے کے لئے کچھ ہے ؟ اس نے کہا کچھ نہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا جاؤ اور کچھ تلاش کر کے لاؤ اس نے کہا کہ میرے پاس تو کچھ نہیں ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جاؤ اگرچہ لوہے کی انگوٹھی ہی ملے تو وہی لے آؤ وہ کہنے لگا کہ مجھے تو لوہے کی انگوٹھی بھی نہیں ملی نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کہ تمہیں قرآن بھی کچھ آتا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! فلاں فلاں سورت نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے اس عورت کے ساتھ تمہارا نکاح قرآن کریم کی ان سورتوں کی وجہ سے کردیا۔
21738
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلٍ بِأَيِّ شَيْءٍ دُووِيَ جُرْحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِالْمَاءِ فِي تُرْسِهِ وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ وَأَخَذَ حَصِيرًا فَأَحْرَقَهُ فَحَشَا بِهِ جُرْحَهُ
حضرت سہل (رض) سے کسی نے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ کے زخم کا علاج کسی طرح کیا گیا تھا ؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت علی (رض) اپنی ڈھال میں پانی لاتے تھے اور حضرت فاطمہ (رض) چہرہ مبارک سے خون دھوتی جاتی تھیں پھر انہوں نے ایک چٹائی لے کر اسے جلایا اور اس کی راکھ زخم میں بھر دی (جس سے خون رک گیا)
21739
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ كَانَ مِنْ أَثْلِ الْغَابَةِ يَعْنِي مِنْبَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کا منبر غابہ نامی جگہ کے جھاؤ کے درخت سے بنایا گیا تھا۔
21740
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَابَهُ شَيْءٌ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَقُلْ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّمَا التَّصْفِيحُ لِلنِّسَاءِ وَالتَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو نماز میں کسی غلطی کا احساس ہو تو اسے " سبحان اللہ کہنا چاہئے کیونکہ تالی بجانے کا حکم عورتوں کے لئے ہے اور سبحان اللہ کہنا مردوں کے لئے۔
21741
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ فَقَالَ لَوْ أَعْلَمُكَ تَنْتَظِرُ لَطَعَنْتُ بِهِ عَيْنَكَ إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے حجرہ مبارک میں کسی سوراخ سے جھانکنے لگا نبی کریم ﷺ کے دست مبارک میں اس وقت ایک کنگھی تھی جس سے نبی کریم ﷺ اپنے سر میں کنگھی فرما رہے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر مجھے یقین ہوتا کہ تم دیکھ رہے ہو تو میں یہ کنگھی تمہاری آنکھوں پردے مارتا اجازت کا حکم نظر ہی کی وجہ سے تو دیا گیا ہے۔
21742
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ فَتَلَاعَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا قَالَ فَجَاءَتْ بِهِ لِلَّذِي كَانَ يَكْرَهُ
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ وہ اس وقت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے جب دو میاں بیوی نے ایک دوسرے سے لعان کیا اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی اس آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ اگر میں نے اسے اپنے پاس ہی رکھا تو گویا میں نے اس پر جھوٹا الزام لگایا پھر اس عورت کے یہاں پیدا ہونے والا بچہ اس شکل و صورت کا تھا جس پر نبی کریم ﷺ نے ناپسندیدگی ظاہر کی تھی۔
21743
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ وَسُفْيَانُ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ النَّاسُ بِخَيْرٍ مَا عَجَّلُوا الْفِطْرَ
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت اس وقت تک خیر پر قائم رہے گی جب تک وہ افطاری میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرتی رہے گی۔
21744
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا رَبِيعَةُ بْنُ عُثْمَانَ التَّيْمِيُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ اخْتَلَفَ رَجُلَانِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ الَّذِي أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى فَقَالَ أَحَدُهُمَا هُوَ مَسْجِدُ الرَّسُولِ وَقَالَ الْآخَرُ هُوَ مَسْجِدُ قُبَاءٍ فَأَتَيَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَاهُ فَقَالَ هُوَ مَسْجِدِي هَذَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ الْأَفْزَرُ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ مِنْ بَنِي عَمْرٍو فِي مُنَازَعَةٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت سہل (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ بنو خدرہ اور بنو عمرو بن عوف کے دو آدمیوں کے درمیان اس مسجد کی تعیین میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی عمری کی رائے مسجد قباء کے متعلق تھی اور خدری کی مسجد نبوی کے متعلق تھی وہ دونوں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فیصلہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد میری مسجد ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔