hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

7. حضرت زبیربن عوام (رض) کی مرویات

مسند احمد

1331
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِنْدَ رَبِّكُمْ تَخْتَصِمُونَ قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ مَعَ خُصُومَتِنَا فِي الدُّنْيَا قَالَ نَعَمْ وَلَمَّا نَزَلَتْ ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِيمِ قَالَ الزُّبَيْرُ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ عَنْهُ وَإِنَّمَا يَعْنِي هُمَا الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ قَالَ أَمَا إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ
حضرت زبیر (رض) سے مروی ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ پھر قیامت کے دن تم اپنے رب کے پاس جھگڑا کرو گے، تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! اس جھگڑنے سے دنیا میں اپنے مد مقابل لوگوں سے جھگڑنا مراد ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں، پھر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ قیامت کے دن تم سے نعمتوں کے بارے سوال ضرور ہوگا تو حضرت زبیر (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم سے کن نعمتوں کے بارے سوال ہوگا، جبکہ ہمارے پاس تو صرف کھجور اور پانی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا خبردار ! یہ نعمتوں کا زمانہ بھی عنقریب آنے والا ہے۔
1332
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي تَقُومُ بِهِ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ أَعَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ قَالَ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ
ایک مرتبہ حضرت فاروق اعظم (رض) نے حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت سعد (رض) سے فرمایا میں تمہیں اللہ کی قسم اور واسطہ دیتا ہوں جس کے حکم سے زمین و آسمان قائم ہیں، کیا آپ کے علم میں یہ بات ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے ہمارے مال میں وراثت جاری نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ سب صدقہ ہوتا ہے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔
1333
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يَحْمِلَ الرَّجُلُ حَبْلًا فَيَحْتَطِبَ بِهِ ثُمَّ يَجِيءَ فَيَضَعَهُ فِي السُّوقِ فَيَبِيعَهُ ثُمَّ يَسْتَغْنِيَ بِهِ فَيُنْفِقَهُ عَلَى نَفْسِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ أَعْطَوْهُ أَوْ مَنَعُوهُ
حضرت زبیر بن العوام (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان کے لئے یہ زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنی رسی اٹھائے، اس سے لکڑیاں باندھے، بازار میں لا کر انہیں رکھے اور انہیں بیچ کر اس سے غناء بھی حاصل کرے اور اپنے اوپر خرچ بھی کرے، بہ نسبت اس کے کہ وہ لوگوں سے مانگتا پھرے خواہ لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔
1334
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ
حضرت زبیربن العوام (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن نبی ﷺ نے میرے لئے اپنے والدین کو جمع فرمایا (یعنی مجھ سے یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں )
1335
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ كُنْتُ أَنَا وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْأُطُمِ الَّذِي فِيهِ نِسَاءُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُطُمِ حَسَّانَ فَكَانَ يَرْفَعُنِي وَأَرْفَعُهُ فَإِذَا رَفَعَنِي عَرَفْتُ أَبِي حِينَ يَمُرُّ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ وَكَانَ يُقَاتِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَقَالَ مَنْ يَأْتِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَيُقَاتِلَهُمْ فَقُلْتُ لَهُ حِينَ رَجَعَ يَا أَبَتِ تَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْرِفُكَ حِينَ تَمُرُّ ذَاهِبًا إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَقَالَ يَا بُنَيَّ أَمَا وَاللَّهِ إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَجْمَعُ لِي أَبَوَيْهِ جَمِيعًا يُفَدِّينِي بِهِمَا يَقُولُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي
حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ خندق کے دن میں اور عمر بن ابی سلمہ " اطم حسان " نامی اس ٹیلے پر تھے جس میں نبی ﷺ کی ازواج مطہرات موجود تھیں، کبھی وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے اور کبھی میں انہیں اٹھا کر اونچا کرتا، جب وہ مجھے اٹھا کر اونچا کرتے تو میں اپنے والد صاحب کو پہچان لیا کرتا جب وہ بنو قریظہ کے پاس سے گذرتے تھے، وہ نبی ﷺ کے ساتھ غزوہ خندق کے موقع پر جہاد میں شریک تھے اور نبی ﷺ فرما رہے تھے کہ بنو قریظہ کے پاس پہنچ کر ان سے کون قتال کرے گا ؟ واپسی پر میں نے اپنے والد صاحب سے عرض کیا کہ اباجان ! بخدا ! میں نے اس وقت آپ کو پہچان لیا تھا جب آپ بنو قریظہ کی طرف جا رہے تھے، انہوں نے فرمایا کہ بیٹے ! نبی ﷺ اس موقع پر میرے لئے اپنے والدین کو جمع کر کے یوں فرما رہے تھے کہ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔
1336
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي التَّيْمِيَّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَنَّ رَجُلًا حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ يُقَالُ لَهَا غَمْرَةُ أَوْ غَمْرَاءُ وَقَالَ فَوَجَدَ فَرَسًا أَوْ مُهْرًا يُبَاعُ فَنُسِبَتْ إِلَى تِلْكَ الْفَرَسِ فَنُهِيَ عَنْهَا
حضرت زبیربن العوام (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے کسی آدمی کو فی سبیل اللہ ایک گھوڑے پر سوار کرایا یعنی اس کا مالک بنادیا جس کا نام غمرہ یا غمراء تھا، کچھ عرصے بعد وہی گھوڑا یا اس کا کوئی بچہ فروخت ہوتا ہوا ملا، چونکہ اس کی نسبت اسی گھوڑے کی طرف تھی جسے انہوں نے صدقہ کردیا تھا اس لئے اسے دوبارہ خریدنے سے انہیں منع کردیا گیا۔
1337
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ فَنَبْتَدِرُ الْآجَامَ فَلَا نَجِدُ إِلَّا قَدْرَ مَوْضِعِ أَقْدَامِنَا قَالَ يَزِيدُ الْآجَامُ هِيَ الْآطَامُ
حضرت زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے تھے اور واپس آکر ٹیلوں میں بیج بکھییر نے لگ جاتے تھے، اس موقع پر ہمیں سوائے اپنے قدموں کی جگہ کے کہیں سایہ نہ ملتا تھا۔
1338
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ شَيْبَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ يَعِيشَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ هِشَامٍ عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ حَالِقَةُ الدِّينِ لَا حَالِقَةُ الشَّعَرِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ
حضرت زبیر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم سے پہلے جو امتیں گذر چکی ہیں ان کی بیماریاں یعنی حسد اور بغض تمہارے اندر بھی سرایت کرگئی ہیں اور بغض تو مونڈ دینے والی چیز ہے، بالوں کو نہیں بلکہ دین کو مونڈ دیتی ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ آپس میں ایک دوسرے سے محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تمہیں ایک ایسا طریقہ نہ بتاؤں جسے اگر تم اختیار کرلو تو ایک دوسرے سے محبت کرنے لگو، آپس میں سلام کو رواج دو ۔
1339
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَا لِي لَا أَسْمَعُكَ تُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا أَسْمَعُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَفُلَانًا وَفُلَانًا قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أُفَارِقْهُ مُنْذُ أَسْلَمْتُ وَلَكِنِّي سَمِعْتُ مِنْهُ كَلِمَةً مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت زبیر (رض) سے پوچھا کہ جس طرح حضرت ابن مسعود (رض) اور دیگر حضرات کو میں حدیث بیان کرتا ہوا سنتا ہوں، آپ کو نہیں سنتا، اس کی کیا وجہ ہے ؟ فرمایا کہ جب سے میں نے اسلام قبول کیا، نبی ﷺ سے کبھی جدا نہیں ہوا لیکن میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر میری طرف جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔ (اس لئے میں ڈرتا ہوں )
1340
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ قُلْنَا لِلزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مَا جَاءَ بِكُمْ ضَيَّعْتُمْ الْخَلِيفَةَ حَتَّى قُتِلَ ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِهِ قَالَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّا قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً لَمْ نَكُنْ نَحْسَبُ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى وَقَعَتْ مِنَّا حَيْثُ وَقَعَتْ
مطرف کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت زبیر (رض) سے کہا کہ اے ابو عبداللہ ! آپ لوگ کس مقصد کی خاطر آئے ہیں، آپ لوگوں نے ایک خلیفہ کو ضائع کردیا یہاں تک کہ وہ شہید ہوگئے، اب آپ ان کے قصاص کا مطالبہ کر رہے ہیں ؟ حضرت زبیر (رض) نے فرمایا کہ ہم نبی ﷺ ، حضرت صدیق اکبر، فاروق اعظم اور حضرت عثمان غنی (رض) کے زمانے میں قرآن کریم کی یہ آیت پڑھتے تھے کہ اس آزمائش سے بچو جو خاص طور پر صرف ان لوگوں کی نہیں ہوگی جنہوں نے تم میں سے ظلم کیا ہوگا (بلکہ عمومی ہوگی) لیکن ہم یہ نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا اطلاق ہم پر ہی ہوگا، یہاں تک کہ ہم پر یہ آزمائش آگئی۔