hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

1036. حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کی حدیثیں

مسند احمد

25696
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ بِأَعْلَى مَكَّةَ فَأَتَيْتُهُ فَجَاءَ أَبُو ذَرٍّ بِجَفْنَةٍ فِيهَا مَاءٌ قَالَتْ إِنِّي لَأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ قَالَتْ فَسَتَرَهُ يَعْنِي أَبَا ذَرٍّ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِ رَكَعَاتٍ وَذَلِكَ فِي الضُّحَى
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ نے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اسی دوران حضرت ابوذر ایک پیالہ لے کر آئے جس میں پانی تھا اور اس پر آٹے کے اثرات لگے ہوئے مجھے نظر آرہے تھے حضرت ابوذر نے آڑ کی اور نبی ﷺ نے غسل فرمالیا پھر نبی ﷺ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا۔
25697
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ قَالَتْ دَخَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ لَهُ فَوَجَدْتُهُ قَدْ اغْتَسَلَ بِمَاءٍ كَانَ فِي صَحْفَةٍ إِنِّي لَأَرَى فِيهَا أَثَرَ الْعَجِينِ فَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي ضُحًى قُلْتُ إِخَالُ خَبَرَ أُمِّ هَانِئٍ هَذَا ثَبَتَ قَالَ نَعَمْ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ الضُّحَى
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ نے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، میں نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اسی دوران حضرت ابوذر ایک پیالہ لے کر آئے جس میں پانی تھا اور اس پر آٹے کے اثرات لگے ہوئے مجھے نظر آرہے تھے حضرت ابوذرنے آڑ کی اور نبی ﷺ نے غسل فرمالیا پھر نبی ﷺ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا۔
25698
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ وَكَانَ نَازِلًا عَلَيْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ سُتِرَ عَلَيْهِ فَاغْتَسَلَ فِي الضُّحَى فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ لَا يُدْرَى أَقِيَامُهَا أَطْوَلُ أَمْ سُجُودُهَا
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ نے بالائی حصے میں پڑاؤ ڈالا، حضرت ابوذر نے آڑ کی اور نبی ﷺ نے غسل فرمالیا، پھر نبی ﷺ نے آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ چاشت کا وقت تھا، یہ معلوم نہیں کہ ان کا قیام لمبا تھا یا سجدہ۔
25699
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مَرَّةً وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مرتبہ مکہ مکرمہ تشریف لائے تو اس وقت نبی ﷺ کے بالوں کے چار حصے چار مینڈھیوں کی طرح تھے۔
25700
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ وَرَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ قَالَ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَتْنِي أُمُّ هَانِئٍ فَقَالَتْ لِي سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمْ الْمُنْكَرَ قَالَ كَانُوا يَخْذِفُونَ أَهْلَ الطَّرِيقِ وَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ فَذَاكَ الْمُنْكَرُ الَّذِي كَانُوا يَأْتُونَ قَالَ رَوْحٌ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمْ الْمُنْكَرَ
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اس ارشاد باری تعالیٰ وتاتو ن فی نادیکم المنکر سے کیا مراد ہے ؟ تو نبی ﷺ نے فرمایا قوم لوط کا یہ کام تھا کہ وہ راستے میں چلنے والوں پر کنکریاں اچھالتے تھے اور ان کی ہنسی اڑاتے تھے، یہ ہے وہ ناپسندیدہ کام جو وہ کیا کرتے تھے۔
25701
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا زيدُ بْنُ الْحُبَابِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَنْ فَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِذْ طَلَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ رَهْجَةُ الْغُبَارِ فِي مِلْحَفَةٍ مُتَوَشِّحًا بِهَا فَلَمَّا رَآنِي قَالَ مَرْحَبًا بِفَاخِتَةَ أُمِّ هَانِئٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي مِنْ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ وَأَمَّنَّا مَنْ أَمَّنْتِ ثُمَّ أَمَرَ فَاطِمَةَ فَسَكَبَتْ لَهُ مَاءً فَتَغَسَّلَ بِهِ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فِي الثَّوْبِ مُتَلَبِّبًا بِهِ وَذَلِكَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ضُحًى
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے تھے پناہ دیدی اسی دوران نبی ﷺ گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے مجھے دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید کہو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے ہیں پناہ دیدی ہے نبی ﷺ نے فرمایا جسے تم نے پناہ دیدی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں، پھر نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ کو حکم دیا انہوں نے پانی رکھا اور نبی ﷺ نے اس سے غسل فرمایا پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ فتح مکہ کے دن چاشت کے وقت کی بات ہے۔
25702
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَعْدَةَ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَدَعَا بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَهَا فَشَرِبَتْ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَا إِنِّي كُنْتُ صَائِمَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّائِمُ الْمُتَطَوِّعُ أَمِيرُ نَفْسِهِ إِنْ شَاءَ صَامَ وَإِنْ شَاءَ أَفْطَرَ قَالَ قُلْتُ لَهُ سَمِعْتَهُ أَنْتَ مِنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَ لَا حَدَّثَنِيهِ أَبُو صَالِحٍ وَأَهْلُنَا عَنْ أُمِّ هَانِئٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ كُنْتُ أَسْمَعُ سِمَاكًا يَقُولُ حَدَّثَنَا ابْنَ أُمِّ هَانِئٍ فَأَتَيْتُ أَنَا خَيْرَهُمَا وَأَفْضَلَهُمَا فَسَأَلْتُهُ وَكَانَ يُقَالُ لَهُ جَعْدَةُ
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور ان سے پانی منگوا کر اسے نوش فرمایا پھر وہ برتن انہیں پکڑا دیا انہوں نے بھی اس کا پانی پی لیا پھر یاد آیا تو کہنے لگیں یا رسول اللہ ! میں تو روزے سے تھی نبی ﷺ نے فرمایا نفلی روزہ رکھنے والا اپنی ذات پر خود امیر ہوتا ہے چاہے تو روزہ برقرار رکھے اور چاہے تو روزہ ختم کردے۔ ابن ام ہانی کہتے ہیں کہ میں ان دونوں میں سے بہترین اور سب سے افضل کے پاس گیا اور ان سے مذکورہ حدیث کی تصدیق کی ان کا نام جعدہ تھا۔
25703
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ أَبُو زَيْدٍ حَدَّثَنَا هِلَالٌ يَعْنِي ابْنَ خَبَّابٍ قَالَ نَزَلْتُ أَنَا وَمُجَاهِدٌ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ بْنِ أُمِّ هَانِئٍ فَحَدَّثَنَا عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ أَنَا أَسْمَعُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ وَأَنَا عَلَى عَرِيشِي هَذَا وَهُوَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ
ابن خباب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور مجاہد یحییٰ بن جعدہ کے پاس گئے تو انہوں نے حضرت ام ہانی کے حوالے سے ہمیں یہ حدیث سنائی کہ میں رات کے آدھے حصے میں نبی علیہ السلا کی قرأت سن رہی تھی اس وقت میں اپنے اسی گھر کی چھت پر تھی اور نبی ﷺ خانہ کعبہ کے قریب تھے۔
25704
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ اغْتَسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ قَصْعَةٍ فِيهَا أَثَرُ الْعَجِينِ
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اور حضرت میمونہ نے ایک ہی برتن سے غسل فرمایا وہ ایک پیالہ تھا جس میں آٹے کے اثرات واضح تھے۔
25705
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى أُمِّ هَانِئٍ قَالَ مُحَمَّدٌ وَقَدْ رَأَيْتُ أَبَا مُرَّةَ وَكَانَ شَيْخًا قَدْ أَدْرَكَ أُمَّ هَانِئٍ عَنْ أُمِّ هَانِئٍ قَالَتْ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْفَتْحِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَجَرْتُ حَمْوَيْنِ لِي فَزَعَمَ ابْنُ أُمِّي أَنَّهُ قَاتَلَهُ تَعْنِي عَلِيًّا قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَرْتِ يَا أُمَّ هَانِئٍ وَصُبَّ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءٌ فَاغْتَسَلَ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبٍ عَلَيْهِ وَخَالَفَ بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقِهِ فَصَلَّى الضُّحَى ثَمَانِي رَكَعَاتٍ
حضرت ام ہانی سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن میں نے اپنے دو دیوروں کو جو مشرکین میں سے تھے، ، پناہ دیدی اسی دوران نبی ﷺ گرد و غبار میں اٹے ہوئے ایک لحاف میں لپٹے ہوئے تشریف لائے مجھے دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا فاختہ ام ہانی کو خوش آمدید، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے اپنے دودیوروں کو جو مشرکین میں سے ہیں پناہ دیدی ہے نبی ﷺ نے فرمایا جسے تم نے پناہ دیدی ہے اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں، جسے تم نے امن دیا اسے ہم بھی امن دیتے ہیں، پھر نبی ﷺ نے حضرت فاطمہ کو حکم دیا انہوں نے پانی رکھا اور نبی ﷺ نے اس سے غسل فرمایا پھر ایک کپڑے میں اچھی طرح لپٹ کر آٹھ رکعتیں پڑھیں یہ فتح مکہ کے دن چاشت کے وقت کی بات ہے۔