hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

262. حضرت ام سلیمان بن عمرو بن احوص کی حدیثیں۔

مسند احمد

15507
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ يَزِيدَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي يَوْمَ النَّحْرِ وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلُ بَعْضُكُمْ وَلَا يُصِيبُ بَعْضُكُمْ وَإِذَا رَمَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ فَرَمَى بِسَبْعٍ وَلَمْ يَقِفْ وَخَلْفَهُ رَجُلٌ يَسْتُرُهُ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ
حضرت ام سلیمان بن احوص سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی ﷺ کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگوں ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا، ایک دوسرے کو تکلیف نہ پہنچانا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اسے کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو پھر نبی ﷺ نے اسے سات کنکریاں ماریں اور وہاں رکے نہیں نبی ﷺ کے پیچھے ایک آدمی تھا جو آپ کے لئے آڑ کا کام کرتا تھا میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو لوگوں نے بتایا کہ یہ فضل بن عباس ہیں۔
15508
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ عَنْ أُمِّهِ وَكَانَتْ بَايَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ يَقُولُ وَهُوَ يَرْمِي الْجَمْرَةَ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَهُوَ يَقُولُ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَإِذَا رَأَيْتُمْ الْجَمْرَةَ فَارْمُوهَا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ
حضرت ام سلیمان سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی ﷺ کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگو ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو۔
15509
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ عَنْ أُمِّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا سَمِعَتْهُ يَقُولُ عِنْدَ جَمْرَةِ الْعَقَبَةِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ لَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ وَارْمُوا الْجَمْرَةَ أَوْ الْجَمَرَاتِ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ هَذَا آخِرُ مُسْنَدِ الْمَكِّيِّينَ
حضرت ام سلیمان سے مروی ہے کہ میں نے دس ذی الحجہ کے دن نبی ﷺ کو بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ہوئے دیکھا اس وقت آپ فرما رہے تھے کہ اے لوگو ! ایک دوسرے کو قتل نہ کرنا اور جب جمرات کی رمی کرو تو اس کے لئے ٹھیکری کی کنکریاں استعمال کرو۔ مکی صحابہ کرام کی احادیث ختم ہوئیں۔