hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

983. حضرت ابوالطفیل عامربن واثلہ (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

22680
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ أَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الْعَقَبَةَ فَلَا يَأْخُذْهَا أَحَدٌ فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُودُهُ حُذَيْفَةُ وَيَسُوقُ بِهِ عَمَّارٌ إِذْ أَقْبَلَ رَهْطٌ مُتَلَثِّمُونَ عَلَى الرَّوَاحِلِ غَشَوْا عَمَّارًا وَهُوَ يَسُوقُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقْبَلَ عَمَّارٌ يَضْرِبُ وُجُوهَ الرَّوَاحِلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُذَيْفَةَ قَدْ قَدْ حَتَّى هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا هَبَطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ وَرَجَعَ عَمَّارٌ فَقَالَ يَا عَمَّارُ هَلْ عَرَفْتَ الْقَوْمَ فَقَالَ قَدْ عَرَفْتُ عَامَّةَ الرَّوَاحِلِ وَالْقَوْمُ مُتَلَثِّمُونَ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا أَرَادُوا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَرَادُوا أَنْ يَنْفِرُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَطْرَحُوهُ قَالَ فَسَأَلَ عَمَّارٌ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ كَمْ تَعْلَمُ كَانَ أَصْحَابُ الْعَقَبَةِ فَقَالَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ فِيهِمْ فَقَدْ كَانُوا خَمْسَةَ عَشَرَ فَعَدَّدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ ثَلَاثَةً قَالُوا وَاللَّهِ مَا سَمِعْنَا مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا عَلِمْنَا مَا أَرَادَ الْقَوْمُ فَقَالَ عَمَّارٌ أَشْهَدُ أَنَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الْبَاقِينَ حَرْبٌ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ قَالَ الْوَلِيدُ وَذَكَرَ أَبُو الطُّفَيْلِ فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ وَذُكِرَ لَهُ أَنَّ فِي الْمَاءِ قِلَّةً فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا فَنَادَى أَنْ لَا يَرِدَ الْمَاءَ أَحَدٌ قَبْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَرَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَ رَهْطًا قَدْ وَرَدُوهُ قَبْلَهُ فَلَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ
حضرت ابوالطفیل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب غزوہ تبوک سے واپس آرہے تھے تو راستے میں منادی کو حکم دیا اس نے یہ اعلان کردیا کہ نبی کریم ﷺ نے گھاٹی کا راستہ اختیار کیا ہے اس راستے پر کوئی نہ جائے نبی کریم ﷺ کے آگے حضرت حذیفہ (رض) تھے اور پیچھے حضرت عمار (رض) تھے کہ اچانک کچھ سواریوں پر ڈھاٹا باندھے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ سامنے آگیا جنہوں نے حضرت عمار (رض) کو گھیر لیا حضرت عمار (رض) پیچھے تھے وہ ان سواریوں کے چہروں پر مارنے لگے نبی کریم ﷺ نے خطرے کا احساس ہوتے ہی حضرت حذیفہ (رض) سے سواری روکنے کے لئے کہا اور نیچے اتر آئے پھر نبی کریم ﷺ اس گھاٹی سے اترنے لگے اسی دوران حضرت عمار (رض) بھی واپس آگئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا عمار ! کیا تم ان لوگوں کو پہچان سکے ہو ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اکثر سواریوں کو تو میں نے پہچان لیا ہے لیکن لوگوں نے اپنے چہروں پر ڈھاٹا باندھا ہوا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ کیا تمہیں ان کا ارادہ معلوم ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان کا ارادہ یہ تھا کہ وہ نبی کریم ﷺ کو لے جائیں اور اوپر سے نیچے دھکیل دیں۔ پھر حضرت عمار (رض) نے نبی کریم ﷺ کے ایک صحابی کو سخت سست کہا اور کہا کہ میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس گھاٹی میں کتنے آدمی تھے ؟ اس نے کہا چودہ انہوں نے کہا کہ اگر آپ بھی ان میں شامل ہوں تو وہ پندرہ ہوتے ہیں جن میں سے تین کو نبی کریم ﷺ نے معذور قرار دیا تھا جن کا کہنا یہ تھا کہ بخدا ! ہم نے نبی کریم ﷺ کے منادی کی آواز نہیں سنی تھی اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ان لوگوں کا کیا ارادہ تھا ؟ حضرت عمار (رض) نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ بارہ آدمی جو باقی بچے وہ دنیوی زندگی اور گواہوں کے اٹھنے کے دن دونوں موقعوں پر اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والے ہیں۔ ولید کہتے ہیں کہ حضرت ابوالطفیل (رض) نے اسی غزوے کے متعلق بتایا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے " جب پانی کی قلت کا علم ہوا تو " لوگوں سے فرما دیا تھا اور منادی نے یہ اعلان کردیا تھا کہ نبی کریم ﷺ سے پہلے کوئی شخص پانی پر نہ جائے لیکن نبی کریم ﷺ جب وہاں پہنچے تو کچھ لوگوں کو وہاں موجود پایا جو ان سے پہلے وہاں پہنچ گئے تھے اس دن نبی کریم ﷺ نے انہیں لعنت ملامت کی۔
22681
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي مِنْ كِتَابِهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي الطُّفَيْلِ فَوَجَدْتُهُ طَيِّبَ النَّفْسِ فَقُلْتُ لَأَغْتَنِمَنَّ ذَلِكَ مِنْهُ فَقُلْتُ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ النَّفَرُ الَّذِينَ لَعَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِهِمْ مَنْ هُمْ فَهَمَّ أَنْ يُخْبِرَنِي بِهِمْ فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ مَهْ يَا أَبَا الطُّفَيْلِ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ دَعَوْتُ عَلَيْهِ دَعْوَةً فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً
عبداللہ بن عثمان (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابو الطفیل (رض) کے گھر میں داخل ہوا تو انہیں خوشگوار موڈ میں پایا میں نے اس موقع کو غنیمت سمجھ کر فائدہ اٹھانے کی سوچی چناچہ میں نے ان سے عرض کیا کہ اے ابوالطفیل ! وہ لوگ جنہیں نبی کریم ﷺ نے لعنت ملامت کی تھی وہ کون تھے ؟ ابھی انہوں نے مجھے ان کے متعلق بتانے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ ان کی اہلیہ سودہ نے کہا کہ اے ابوالطفیل ! رک جائیے آپ کو معلوم نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے اے اللہ ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے اگر کسی مسلمان کو میں نے کوئی بد دعا دی ہو تو اسے اس شخص کے حق میں تزکیہ اور رحمت کا سبب بنا دے۔
22682
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ لَمَّا بُنِيَ الْبَيْتُ كَانَ النَّاسُ يَنْقُلُونَ الْحِجَارَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ فَأَخَذَ الثَّوْبَ فَوَضَعَهُ عَلَى عَاتِقِهِ فَنُودِيَ لَا تَكْشِفْ عَوْرَتَكَ فَأَلْقَى الْحَجَرَ وَلَبِسَ ثَوْبَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابو الطفیل (رض) سے (زمانہ جاہلیت میں بناء کعبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے) مروی ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر شروع ہوئی (تو قریش نے پہلے اسے مکمل منہدم کیا اور وادی کے پتھروں سے اس کی تعمیر شروع کردی) لوگ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے جن میں نبی کریم ﷺ بھی شامل تھے (قریش نے اسے بیس گز لمبا رکھا تھا) نبی کریم ﷺ نے ایک اونی چادر پہن رکھی تھی لیکن پتھر اٹھانے کے دوران اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تو نبی کریم ﷺ نے اس چادر کو اپنے کندھے پر ڈال لیا اس وقت کسی نے پکار کر کہا کہ اپنا ستر چھپائیے چناچہ نبی کریم ﷺ نے پتھر پھینکا اور اپنی چادر اوڑھ لی۔ ﷺ
22683
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُبَيْدٍ الرَّاسِبِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي إِلَّا الْمُبَشِّرَاتِ قَالَ قِيلَ وَمَا الْمُبَشِّرَاتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ أَوْ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ
حضرت ابوالطفیل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے بعد نبوت تو نہیں ہوگی البتہ " مبشرات " ہوں گے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! " مبشرات " سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اچھے خواب۔
22684
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ عِمْرَانَ الْمَازِنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ وَسُئِلَ هَلْ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ قِيلَ فَهَلْ كَلَّمْتَهُ قَالَ لَا وَلَكِنْ رَأَيْتُهُ انْطَلَقَ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا وَمَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى أَتَى دَارَ قَوْرَاءَ فَقَالَ افْتَحُوا هَذَا الْبَابَ فَفُتِحَ وَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ فَإِذَا قَطِيفَةٌ فِي وَسَطِ الْبَيْتِ فَقَالَ ارْفَعُوا هَذِهِ الْقَطِيفَةَ فَرَفَعُوا الْقَطِيفَةَ فَإِذَا غُلَامٌ أَعْوَرُ تَحْتَ الْقَطِيفَةِ فَقَالَ قُمْ يَا غُلَامُ فَقَامَ الْغُلَامُ فَقَالَ يَا غُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ الْغُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ الْغُلَامُ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا مَرَّتَيْنِ
حضرت ابوالطفیل (رض) سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کی زیارت کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! سائل نے پوچھا کہ کیا بات بھی کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا نہیں البتہ میں نے فلاں جگہ جاتے ہوئے دیکھا تھا اس وقت ان کے ہمراہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اور دیگر صحابہ (رض) تھے نبی کریم ﷺ ایک کشادہ مکان پر پہنچے اور دروازہ کھلوایا جب دروازہ کھلا تو نبی کریم ﷺ اندر داخل ہوگئے میں بھی ان کے ساتھ ہی اندر چلا گیا وہاں گھر کے درمیان میں ایک چادر تھی نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ چادر اٹھاؤ صحابہ (رض) نے چادر اٹھائی تو اس کے نیچے سے ایک کانا لڑکا نکلا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے لڑکے ! کھڑا ہوجا وہ لڑکا کھڑا ہوگیا، نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا اے لڑکے ! کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس لڑکے نے کہا کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ دو مرتبہ یہی سوال جواب ہوئے پھر نبی کریم ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا اس کے شر سے اللہ کی پناہ مانگو۔
22685
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ قَالَ كُنْتُ أَطُوفُ مَعَ أَبِي الطُّفَيْلِ فَقَالَ مَا بَقِيَ أَحَدٌ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي قَالَ قُلْتُ وَرَأَيْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ قُلْتُ كَيْفَ كَانَ صِفَتُهُ قَالَ كَانَ أَبْيَضَ مَلِيحًا مُقْصِدًا
جریری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوالطفیل (رض) کے ہمراہ طواف کر رہا تھا کہ وہ کہنے لگے اب نبی کریم ﷺ کی زیارت کرنے والا میرے علاوہ کوئی شخص باقی نہیں بچا میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کی زیارت کی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ کا حلیہ کیسا تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کا رنگ گورا خوبصورت اور جسم معتدل تھا۔
22686
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مَعْرُوفٌ الْمَكِّيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ عَامِرَ بْنَ وَاثِلَةَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عَلَى رَاحِلَتِهِ يَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهِ
حضرت ابوالطفیل (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی زیارت کی ہے اس وقت میں بالکل نوجوان تھا نبی کریم ﷺ اپنی سواری پر بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے اور اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کر رہے تھے۔
22687
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ لِي أَبُو الطُّفَيْلِ أَدْرَكْتُ ثَمَانِ سِنِينَ مِنْ حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُلِدْتُ عَامَ أُحُدٍ
حضرت ابوالطفیل (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کے آٹھ سال پائے ہیں اور میں غزوہ احد کے سال پیدا ہوا تھا۔
22688
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ وَذَكَرَ بِنَاءَ الْكَعْبَةِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ قَالَ فَهَدَمَتْهَا قُرَيْشٌ وَجَعَلُوا يَبْنُونَهَا بِحِجَارَةِ الْوَادِي تَحْمِلُهَا قُرَيْشٌ عَلَى رِقَابِهَا فَرَفَعُوهَا فِي السَّمَاءِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا فَبَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحْمِلُ حِجَارَةً مِنْ أَجْيَادٍ وَعَلَيْهِ نَمِرَةٌ فَضَاقَتْ عَلَيْهِ النَّمِرَةُ فَذَهَبَ يَضَعُ النَّمِرَةَ عَلَى عَاتِقِهِ فَيُرَى عَوْرَتُهُ مِنْ صِغَرِ النَّمِرَةِ فَنُودِيَ يَا مُحَمَّدُ خَمِّرْ عَوْرَتَكَ فَلَمْ يُرَى عُرْيَانًا بَعْدَ ذَلِكَ
حضرت ابوالطفیل (رض) سے (زمانہ جاہلیت میں بناء کعبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے) مروی ہے کہ جب بیت اللہ کی تعمیر شروع ہوئی (تو قریش نے پہلے اسے مکمل منہدم کیا اور وادی کے پتھروں سے اس کی تعمیر شروع کردی) لوگ وہ پتھر اٹھا اٹھا کر لارہے تھے جن میں نبی کریم ﷺ بھی شامل تھے (قریش نے اسے بیس گز لمبا رکھا تھا) نبی کریم ﷺ نے ایک اونی چادر پہن رکھی تھی لیکن پتھر اٹھانے کے دوران اسے سنبھالنا مشکل ہوگیا تو نبی کریم ﷺ نے اس چادر کو اپنے کندھے پر ڈال لیا اس وقت کسی نے پکار کر کہا کہ اپنا ستر چھپائیے چناچہ نبی کریم ﷺ نے پتھر پھینکا اور اپنی چادراوڑھ لی۔ ﷺ
22689
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ كَأَنِّي أَنْزِعُ أَرْضًا وَرَدَتْ عَلَيَّ وَغَنَمٌ سُودٌ وَغَنَمٌ عُفْرٌ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِيهِمَا ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ فَنَزَعَ فَاسْتَحَالَتْ غَرْبًا فَمَلَأَ الْحَوْضَ وَأَرْوَى الْوَارِدَةَ فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا أَحْسَنَ نَزْعًا مِنْ عُمَرَ فَأَوَّلْتُ أَنَّ السُّودَ الْعَرَبُ وَأَنَّ الْعُفْرَ الْعَجَمُ
حضرت ابوالطفیل (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ جیسے میں ایک علاقے میں ہوں اور میرے پاس کچھ سیاہ اور کچھ سفید بکریاں آئی ہیں تھوڑی دیر بعد ابوبکر (رض) آئے اور انہوں نے ایک دو ڈول کھینچے جن میں کچھ کمزوری تھی اللہ انہیں معاف کر دے پھر عمر (رض) آئے اور وہ ان کے ہاتھ میں ڈول بن گیا اور انہوں نے حوض بھر دیا اور آنے والوں کو سیراب کردیا میں نے عمر سے زیادہ اچھا ڈول کھینچنے والا کوئی عقبری آدمی نہیں دیکھا اور میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی ہے کہ سیاہ بکریوں سے مراد عرب ہیں اور سفید بکریوں سے مراد اہل عجم ہیں۔