Musnad Imam Ahmad
982. حضرت عبداللہ بن سلام (رض) کی حدیثیں
مسند احمد
22668
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ خُنَيْسٍ الْغِفَارِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ مَا بَيْنَ كَدَاءٍ وَأُحُدٍ حَرَامٌ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كُنْتُ لِأَقْطَعَ بِهِ شَجَرَةً وَلَا أَقْتُلَ بِهِ طَائِرًا
حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے مروی ہے کہ اس جگہ یعنی کداء سے لے کر احد تک کی جگہ " حرم " ہے جسے نبی کریم ﷺ نے حرم قرار دیا ہے لہٰذا میں یہاں کوئی درخت کاٹ سکتا ہوں اور نہ کسی پرندے کو مار سکتا ہوں۔
22669
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ قُلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ إِنَّا نَجِدُ فِي كِتَابِ اللَّهِ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَسْأَلَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ مَا سَأَلَهُ فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَعْضُ سَاعَةٍ قَالَ فَقُلْتُ صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ سَأَلْتُهُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ قَالَ آخِرُ سَاعَاتِ النَّهَارِ فَقُلْتُ إِنَّهَا لَيْسَتْ بِسَاعَةِ صَلَاةٍ فَقَالَ بَلَى إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ فِي صَلَاتِهِ إِذَا صَلَّى ثُمَّ قَعَدَ فِي مُصَلَّاهُ لَا يَحْبِسُهُ إِلَّا انْتِظَارُ الصَّلَاةِ
حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں میں نے کہا کہ ہم کتاب اللہ میں یہ پاتے ہیں کہ جمعہ کے دن ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اگر وہ بندہ مسلم کو مل جائے اور وہ نماز پڑھ رہا ہو تو وہ اللہ سے جو سوال بھی کرے گا اسے وہ ضرور عطا فرمائے گا نبی کریم ﷺ نے اشارہ سے فرمایا کہ وہ ساعت بہت مختصر ہوتی ہے میں نے عرض کیا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا۔
22670
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَي أَبُو مُحَيَّاةَ التَّيْمِيُّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ اسْمِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے پوچھا کہ وہ ساعت کون سی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ دن کی آخری ساعت میں نے عرض کیا کہ کیا وہ نماز کی ساعت نہیں ہوتی ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں بندہ مسلم جب نماز پڑھ کر اسی جگہ پر بیٹھ کر اگلی نماز کا انتظار کرتا ہے تو وہ نماز ہی میں شمارہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میرا نام عبداللہ بن سلام نہیں تھا میرا نام عبداللہ بن سلام تو نبی کریم ﷺ نے رکھا ہے۔
22671
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَوْفٍ حَدَّثَنَا زُرَارَةُ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَكُنْتُ فِيمَنْ انْجَفَلَ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے دوران سفر کچھ لوگوں نے نبی کریم ﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ! ﷺ سب سے افضل عمل کون سا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ پر ایمان لانا، اللہ کے راستہ میں جہاد کرنا اور حج مبرور، پھر نبی کریم ﷺ نے وادی میں سے کسی کو یہ نداء کرتے ہوئے سنا کہ گواہی دیتا ہوں اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد ﷺ ، اللہ کے رسول ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص بھی اس کی گواہی دے گا وہ شرک سے بری ہوجائے گا۔
22672
Musnad Imam Ahmadقَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ فَأَخْبِرْنِي وَلَا تَضِنَّ عَلَيَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي وَتِلْكَ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّى فِيهَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ فِيهِ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُصَلِّيَ فَقُلْتُ بَلَى قَالَ فَهُوَ ذَاكَ
حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ جوق در جوق ان کی خدمت میں حاضر ہونے لگے میں بھی ان میں شامل ہوگیا میں نے جب نبی کریم ﷺ کے روئے انور کو دیکھا تو میں سمجھ گیا کہ یہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہوسکتا اور وہ سب سے پہلا کلام جو میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا وہ یہ تھا کہ سلام کو پھیلاؤ، صلہ رحمی کرو اور جس وقت لوگ سو رہے ہوں تم نماز پڑھو اس طرح سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ۔
22673
Musnad Imam Ahmadقَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ فَأَخْبِرْنِي وَلَا تَضِنَّ عَلَيَّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ كَيْفَ تَكُونُ آخِرَ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ يُصَلِّي وَتِلْكَ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّى فِيهَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ فِيهِ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي الصَّلَاةِ حَتَّى يُصَلِّيَ فَقُلْتُ بَلَى قَالَ فَهُوَ ذَاكَ
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) ہم سے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ جمعہ میں ایک ساعت آتی ہے۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا کہ میں نے سوچا واللہ اگر میں حضرت ابو سعید خدری (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان سے یہ سوال ضرور پوچھوں گا چناچہ میں وہاں سے نکلا اور حضرت عبداللہ بن سلام (رض) کے یہاں حاضر ہوا اور ان سے اس کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اس دن انہیں زمین پر اتارا گیا اسی دن ان کی روح قبض ہوئی اسی دن قیامت قائم ہوگی لہٰذا یہ آخری ساعت ہوئی میں نے عرض کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ ساعت نماز کے وقت ہوتی ہے اور عصر کے بعد نماز کا وقت نہیں ہوتا ؟ انہوں نے فرمایا کیا تمہیں یہ بات معلوم نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا نماز کا انتظار کرنے والا نماز میں ہی شمار ہوتا ہے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں واللہ وہی ہے۔
22674
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي وَحَدِيثَ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ فِي كُلِّ سَنَةٍ قَالَ كَذَبَ كَعْبٌ هُوَ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ يَوْمِ جُمُعَةٍ قُلْتُ إِنَّهُ قَدْ رَجَعَ قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَعْرِفُ تِلْكَ السَّاعَةَ قَالَ قُلْتُ يَا عَبْدَ اللَّهِ فَأَخْبِرْنِي بِهَا قَالَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ قُلْتُ قَالَ لَا يُوَافِقُ مُؤْمِنٌ وَهُوَ يُصَلِّي قَالَ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ انْتَظَرَ صَلَاةً فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَهُوَ كَذَلِكَ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں کوہ طور کی طرف روانہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ اس کے بعد میری ملاقات حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے ہوئی تو میں نے انہیں کعب کے ساتھ اپنی نشست کے متعلق بتایا اور جمعہ کے دن کے حوالے سے اپنی بیان کردہ حدیث بھی بتائی اور کہا کہ کعب کہنے لگے ایسا سال بھر میں صرف ایک مرتبہ ہوتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) نے فرمایا کعب سے غلطی ہوئی ایسا ہر جمعہ میں ہوتا ہے حضرت ابن سلام (رض) نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں عبداللہ بن سلام کی جان ہے میں وہ گھڑی جانتا ہوں میں نے ان سے کہا کہ اے عبداللہ ! مجھے بھی اس کے متعلق بتا دیجئے انہوں نے فرمایا وہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہوتی ہے میں نے کہا کہ دوران نماز تو وہ کسی شخص کو نہیں مل سکتی (کیونکہ اس وقت ممنوع ہوتے ہیں) انہوں نے فرمایا کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے وہ نماز پڑھنے تک نماز ہی میں شمار ہوتا ہے ؟ میں نے کہا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا پھر وہ یہی ہے۔
22675
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ كُنْتُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَاءَ رَجُلٌ فِي وَجْهِهِ أَثَرٌ مِنْ خُشُوعٍ فَدَخَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَأَوْجَزَ فِيهَا فَقَالَ الْقَوْمُ هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلَمَّا خَرَجَ اتَّبَعْتُهُ حَتَّى دَخَلَ مَنْزِلَهُ فَدَخَلْتُ مَعَهُ فَحَدَّثْتُهُ فَلَمَّا اسْتَأْنَسَ قُلْتُ لَهُ إِنَّ الْقَوْمَ لَمَّا دَخَلْتَ قَبْلُ الْمَسْجِدَ قَالُوا كَذَا وَكَذَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ وَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ إِنِّي رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ رَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ خَضْرَاءَ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَذَكَرَ مِنْ خُضْرَتِهَا وَسَعَتِهَا وَسْطُهَا عَمُودُ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لِيَ اصْعَدْ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَا أَسْتَطِيعُ فَجَاءَنِي مِنْصَفٌ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ هُوَ الْوَصِيفُ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي فَقَالَ اصْعَدْ عَلَيْهِ فَصَعِدْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقَالَ اسْتَمْسِكْ بِالْعُرْوَةِ فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ فَقَالَ أَمَّا الرَّوْضَةُ فَرَوْضَةُ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الْعَمُودُ فَعَمُودُ الْإِسْلَامِ وَأَمَّا الْعُرْوَةُ فَهِيَ الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى أَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ قَالَ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ
قیس بن عباد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مسجد میں تھا کہ ایک آدمی آیا جس کے چہرے پر خشوع کے آثار واضح تھے اس نے مختصر طور پر دو رکعتیں پڑھیں لوگ کہنے لگے کہ یہ شخص اہل جنت میں سے ہے جب وہ چلا گیا تو میں بھی اس کے پیچھے روانہ ہوگیا حتیٰ کہ وہ آدمی اپنے گھر میں داخل ہوگیا میں بھی اس کے ساتھ اس کے گھر میں چلا گیا اور اس سے باتیں کرتا رہا جب وہ مجھ سے مانوس ہوگیا تو میں نے اس سے کہا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے آپ کے متعلق اس اس طرح کہا تھا اس نے کہا سبحان اللہ ! انسان کو ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جو وہ جانتا نہ ہو اور میں تمہیں اس کی وجہ بتاتا ہوں۔ میں نے عہد نبوت میں ایک خواب دیکھا تھا جو میں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے بیان کردیا اس خواب میں میں نے دیکھا کہ میں ایک سرسبز و شاداب باغ میں ہوں جس کے درمیان میں لوہے کا ایک ستون ہے جس کا نچلا سرا زمین میں ہے اور اوپر والا سرا آسمان میں ہے اور اس کے اوپر ایک رسی ہے مجھے کسی نے کہا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ اب چڑھو میں اس پر چڑھنے لگا حتیٰ کہ اس رسی کو پکڑ لیا اس نے مجھ سے کہا کہ اس رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنا میں جب بیدار ہوا تو یوں محسوس ہوا کہ وہ رسی اب تک میرے ہاتھ میں ہے پھر میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ خواب بیان کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ باغ اسلام کا تھا ستون اسلام کا تھا اور وہ رسی مضبوط رسی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ تم مسلمان ہو اور موت تک اس پر قائم رہو گے قیس کہتے ہیں کہ پھر معلوم ہوا کہ وہ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) تھے۔
22676
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ تَذَاكَرْنَا أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى فَلَمْ يَقُمْ أَحَدٌ مِنَّا فَأَرْسَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَجَمَعَنَا فَقَرَأَ عَلَيْنَا هَذِهِ السُّورَةَ يَعْنِي سُورَةَ الصَّفِّ كُلَّهَا
حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مذاکرہ کر رہے تھے کہ تم میں سے کون آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ اللہ کی نظروں میں سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ لیکن نبی کریم ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم ﷺ نے قاصد بھیج کر ایک ایک کر کے ہم سب کو اپنے پاس جمع کرلیا اور ہمارے سامنے سورت صف مکمل تلاوت فرمائی۔
22677
Musnad Imam Ahmadحَدَّثَنَا يَعْمَرُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَنْبَأَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ حَدَّثَهُ أَوْ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ تَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا فَقُلْنَا أَيُّكُمْ يَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلَهُ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ وَهِبْنَا أَنْ يَقُومَ مِنَّا أَحَدٌ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا رَجُلًا رَجُلًا حَتَّى جَمَعَنَا فَجَعَلَ بَعْضُنَا يُشِيرُ إِلَى بَعْضٍ فَقَرَأَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ إِلَى قَوْلِهِ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ قَالَ فَتَلَاهَا مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا قَالَ فَتَلَاهَا عَلَيْنَا ابْنُ سَلَامٍ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا قَالَ فَتَلَاهَا عَلَيْنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا قَالَ يَحْيَى فَتَلَاهَا عَلَيْنَا هِلَالٌ مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ فَتَلَاهَا عَلَيْنَا يَحْيَى مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا
حضرت عبداللہ بن سلام (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مذاکرہ کر رہے تھے کہ تم میں سے کون آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال کرے گا کہ اللہ کی نظروں میں سب سے پسندیدہ عمل کون سا ہے ؟ لیکن نبی کریم ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے ہم میں سے کوئی کھڑا نہ ہوا تو نبی کریم ﷺ نے قاصد بھیج کر ایک ایک کر کے ہم سب کو اپنے پاس جمع کرلیا اور ہمارے سامنے سورت صف مکمل تلاوت فرمائی تلاوت کا یہ سلسلہ تمام راویوں نے اپنے شاگردوں تک جاری رکھا۔